صحافت کی شب ِ فتنہ اور الہ دین کے چراغ

علامہ اقبال نے کیا زمانہ اور کیا مقام پایا۔ تیز بیں، پختہ کار اور سخت کوش انسانوں کی وادی لولاب کشمیر سے خمیر اٹھا تھا۔ جموں سے ملحقہ شمال وسطی پنجاب کے قصبے سیالکوٹ میں آنکھ کھولی تو ہندوستان پر غیر ملکی استعمار کا سورج نصف النہار پر تھا۔ چھ عشرے بعد اس درویش صفت فلسفی شاعر نے رخصت لی تو انگریز کا جانا ٹھہر چکا تھا۔

 

اگر فرنگی کی حاکمیت بیرونی استبداد کی تاریک رات تھی تو اقبال کی شاعری وہ چراغ ثابت ہوئی، جس نے غلاموں کو سر اٹھا کر سوچنا سکھایا۔

حریت کی یہ چنگاری روشن کر نے کے لئے اقبال نے عالمی ادب کے خزانے سے ارفع ترین استعارہ چنا۔ ملٹن نے خدا اور شیطان میں بحث کو نظم کیا تھا، اقبال نے خدا اور انسان میں براہِ راست مکالمے کا اہتمام کیا۔ پیامِ مشرق کی مختصر نظم ’محاورہ ما بین از خدا و انساں‘ تو ہم سب نے پڑھ رکھی ہے جہاں خدا نے تین اشعار میں انسانی سعی پر سوال اٹھائے ہیں اور انسان نے تین اشعار ہی میں جامع و مانع جواب دیا ہے۔

اقبال کی خدا پرستی اور خود شناسی میں تو کوئی کلام نہیں۔ خیال آتا ہے کہ یونانی المیے کی اعلیٰ ترین روایت کو چھوتے ان علائم اور استعاروں سے اقبال کیا اخذ کرنا چاہتے تھے۔

میری رائے میں اقبال ہم خاک نشینوں کو زمینی خدائوں سے ستیزہ کاری کی جرأت دلا رہے تھے۔ مٹی کے دیوتاؤں سے ٹکرانے کی ہمت بندھا رہے تھے۔ اقبال نے ایک آزاد زمیں کا خواب تو دیکھا لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے پیغام کی تعبیر طلوع ہوگی تو ایک اور شاعر کو داغ داغ اجالے اور شب گزیدہ سحر کا نوحہ لکھنا ہوگا۔

ہماری آزادی کی تصویر پر وہ ہیولے نمودار ہو گئے جنہیں ’قفس ساختی طائر نغمہ زن را‘ کا دعویٰ تھا۔ اقبال اور ان کے ہمعصروں کے جلائے چراغوں کی روشنی میں ہماری درماندہ قوم نے رکاوٹوں کے پہاڑ کاٹے لیکن فرہاد نے تیشے سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔

ایک کے بعد دوسرے دریا کی آزمائش دیکھی لیکن منہ زور لہروں سے منہ نہیں موڑا۔ بے آب و گیاہ صحراؤں سے گزرے لیکن دشت امکان کو اوجھل نہیں ہونے دیا۔ سنگ زنی کی مشق میں آئینہ سازی کا شوق ترک نہیں کیا۔ اقبال نے ہمیں خدا سے مکالمہ کرنا سکھایا تھا چنانچہ شبِ فتنہ باقی ہے تو اجتماعی ضمیر نیند کی مہلت کا روادار نہیں۔

اس لئے کہ لمحہ موجود میں یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کوہِ ندا پر مولانا فضل الرحمٰن کا ظہور تمہیدِ مسرت ہے یا طولِ شبِ غم ہے۔ قلم تطہیر کے پنجۂ آہن میں ہے لیکن خیام نے کہا تھا لکھنے والی انگلی آگے بڑھ جاتی ہے۔

ہمارے ملک کی تاریخ میں دریا کے دو کنارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ علم ِ سیاست کے شناور کناروں کے اس فراق کو قطبیت کی اصطلاح دیتے ہیں۔ مشکل لیکن یہ ہے کہ قطبین کی شناخت واضح نہیں ہو پاتی۔

آفاق پر پھیلے جادو میں ہم ایسے کھوئے کہ پس پردہ دام کی پہچان میں کوتاہ رہے۔ غلام محمد اور خواجہ ناظم الدین کی کشمکش میں مفلوج گورنر جنرل کی طاقت کا راز کیا تھا؟ اگر ایوب مخالف ابھار جمہوریت کی لڑائی تھا تو اس کا انجام 25مارچ 1969کی صورت میں کیوں برآمد ہوا؟

اگر 1971میں مجیب اور بھٹو میں اقتدار کی لڑائی تھی تو یحییٰ خان کس خوشی میں ملک کا آئندہ دستور مرتب کر رہے تھے؟ اگر بلوچستان کی قوم پرست قوتوں پر بھٹو کی فوج کشی قومی سلامتی کا سوال تھا تو جنوری 1978میں حیدر آباد ٹربیونل کا بستر کیسے لپٹ گیا؟

اگر افغان مجاہدین کی حمایت سوویت قبضے کی مزاحمت تھی تو فروری 1989کے بعد ہم افغان قضیے سے جان کیوں نہیں چھڑا سکے؟ اٹھارہویں ترمیم کو مسائل کی جڑ قرار دینے والے اصحاب عقل و دانش آٹھویں اور سترہویں ترامیم کا مالہ و ماعلیہ کیوں بیان نہیں کرتے؟

کیا مارچ 2007کے عدالتی بحران نے پرویز مشرف اور افتخار چوہدری کے شخصی تصادم سے جنم لیا؟ قوم چھ ماہ تک میمو گیٹ اسکینڈل کی ٹکٹکی پر بندھی رہی، قومی سلامتی پر یہ سنگین حملہ ایک عدالتی حکم پر داخل دفتر کیسے ہو گیا؟ احتساب کے سائبان تلے قائم حکومت نے ڈان لیکس کی گتھی سلجھانے پر کیوں توجہ نہیں دی؟ 18اکتوبر 2007کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس سے 200لاشے اٹھائے گئے تھے، خاک نشینوں کے اس لہو کا حساب کیوں نہیں ہو سکا؟

یہ سوالات صحافی اٹھایا کرتے ہیں اور سیاسی کارکن ان کی روشنی میں اپنا موقف مرتب کرتے ہیں۔ اب اس میں ایک دقت یہ آن پڑی ہے کہ ٹیلی وژن اور اخبار میں دفاعی تجزیہ کار نمودار ہو گئے ہیں۔ ان اصحاب کی پیشہ ورانہ اہلیت اور دردمندی میں شک نہیں۔

مشکل لیکن یہ ہے کہ ہمارے تاریخی تناظر میں یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ سابق اہلکار پاکستان کے قابل احترام شہری کی حیثیت سے اپنی رائے دیتے ہیں یا بنیادی سیاسی تضاد میں ایک فریق کی عذر خواہی کرتے ہیں۔

اصغر خان ہمارے بہترین شہریوں میں سے ایک تھے۔ شخصی دیانت اور باوقار سیاسی موقف میں مرحوم ایئر مارشل کا مقام بہت بلند تھا لیکن مئی 1977کا ایک خط ان کے پاؤں کی زنجیر بن گیا۔ جنرل اسلم بیگ حیات ہیں لیکن کی تنظیم فرینڈز کا کوئی نشان نہیں۔

جولائی 2006میں دفعتاً پُرجوش ہونے والی ایکس سروس مین سوسائٹی کے کسی مرتب لائحہ عمل کی کبھی خبر نہیں آئی۔ پرویز مشرف کی عمر دراز ہو، ایک سیاسی جماعت انہوں نے بھی بنا رکھی ہے۔ بہت سے صاحب علم اور شریف النفس دفاعی تجزیہ کار متوازن اور عملیت پسند بات کرتے ہیں لیکن بطور صحافی میرا تجربہ ہے کہ ان کی موجودگی میں خیال کی پرواز کوتاہ ہوتی ہے۔

صحافی کیا بیچتا ہے؟ ہمارے قابل احترام سیاسی رہنما کٹہرے میں نظر آتے ہیں۔ ہماری قوم سیاسی اختلاف کو شخصی احترام سے توازن دینا جانتی ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس روک دی جاتی ہے تو صحافی تہی دست ہو جاتا ہے۔

جمہوریت کی توانائی صحافت کی آزادی سے مشروط ہے۔ ہماری صحافت تو کیبل آپریٹر سے نہیں نمٹ سکتی، دفاعی تجزیہ کار کے آہن پوش مکالمے کے سامنےسلامتی کا کیا اہتمام کرے گی؟ اقبال نے ہمیں خدا کی بنائی رات میں چراغ کی تخلیق کا اعزاز بخشا تھا، الہ دین کے چراغ سے نمٹنے کا نسخہ نہیں بتا سکے۔