ہماری سیاست اور صحافت

1971ء کے بعد سے پاکستان میں دو نمایاں سیاسی جماعتیں دکھائی دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی۔ دونوں ایک دوسرے سے متعلق کن جذبات کا اظہار کرتے ہیں یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ پی پی پی ہمیشہ مسلم لیگ پر اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی ہونے کا الزام لگاتی ہے جب کہ میاں نواز شریف گزشتہ قریباً دس سال سے خود کو انٹی اسٹیبلشمنٹ کہنے پر تلے ہیں اور بسا اوقات اپنی انقلابی سیاست میں ایسے ایسے طوفان اٹھاتے ہیں کہ سیاسیات کا طالب علم دنگ رہ جاتا ہے۔ 
برصغیر ہندوستا ن میں دو نمایاں جماعتیں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک کانگریس جو خود کو ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت تسلیم کرواچکی ہے اور دوسری مسلم لیگ جو برصغیر کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی ، تقسیم ہند کے بعد سے آج تک کانگریس نے مادر وطن سیاسی جماعت کا اعزاز برقرار رکھا ہے اس میں کبھی دھڑے بندی نہیں ہوئی ، شاید ایک مرتبہ ایک دھڑا الگ سے بنا لیکن جلد ہی وہ ختم ہوگیا جبکہ پاکستان کی خالق مسلم لیگ کو اس ملک کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے طوائف کی لونڈی سے زیادہ حیثیت نہیں دی جب جس کا جیسے جی چاہا اس کی لیپاپوتی کرکے اپنی بغل میں دبایا اور خود کو نظریہ پاکستان کا ماموں جان بناکر اقتدار پر قابض ہوگیا۔ کیسے بدقسمت لوگ ہیں ہم بھی…!
میاں نواز شریف نے اپنے سیاسی مستقبل کا آغاز تحریک استقلال سے کیا تھا۔ لیکن جنرل جیلانی کی مشاق نظروں نے ان میں جہانگیری اور جہانداری کے گن تلاش کرنے کے بعد اُن کی سیاسی تربیت کا بیڑہ اُٹھایا اور مسلم لیگ کا ٹوکرا اُن کے نازک کندھوں پر رکھ دیا لیکن وقت، حالات، واقعات اور حادثات نے بالآخر میاں صاحبان کو اس بات کا قائل کردیا کہ انہیں مسلم لیگ کو واقعی ایک سیاسی جماعت بنادینا چاہیے اور آج کل مسلم لیگ (ن) کم از کم سیاسی جماعت کی تعریف پر پورا اُترتی ہے یہ الگ بات کہ اس کے باقی تمام دھڑے خود کو صحیح اور اسے غلط سمجھتے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے بھی مسلم لیگ کے بطن سے جنم لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی جنرل ایوب خان مرحوم کی کنونشن لیگ کے اہم عہدے دار تھے ، 1965 ء کے بعد اُن کے اور جنرل ایوب کے درمیان جنم لینے والے اختلافات نے انہیں پیپلزپارٹی کے قیام کی راہ دکھائی جو اُن کی زندگی میں بلاشبہ مغربی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن چکی تھی جبکہ مشرقی پاکستان پر عوامی لیگ کا قبضہ تھا اور ہماری تاریخ یہ ہے کہ کبھی کسی سیاسی جماعت نے کھلے دل سے دوسری سیاسی جماعت کے وجود کو تسلیم نہیں کیا نتیجہ ظاہر ہے پاکستان ٹوٹ گیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے بیشتر ذمہ داران جن میں سیاست ، صحافت، عسکریت، معیشت، معاشرت غرض تمام طبقات شامل ہیں، نے خود کو ’’ فرد‘‘ کے بجائے ’’ادارہ‘‘ سمجھنا شروع کردیا، انہیں حادثاتی طور پر یا ہیرا پھیری اور حرامکاری کچھ بھی کہہ لیں، کسی بھی طریقے سے پذیرائی کیا ملی کہ اُن کا دماغ ہی خراب ہوگیا۔ تمام فوجی اور سویلین حکمرانوں کے دماغ میں یہ خناس سماگیا کہ وہ عقل کل اور سیاہ و سفید کے مالک ہیں باقی تمام عوام گدھے گھوڑے ہیں۔ انہوں نے خود کو مضبوط کرنا زیادہ بہتر جانا، اداروں کو اللہ کے آسرے اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ نتیجہ ظاہر ہے ادارے ایک ایک کرکے تباہ ہوگئے خود حکمران بھی باقی نہ بچے لیکن اُن کی بدمعاشیوں کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے۔ آپ کچھ بھی کہہ لیں پاکستان میں سوائے فوج کے کوئی ’’ ادارہ‘‘ باقی نہیں رہا۔ فوج کے بطور ادارہ زندہ رہنے کی وجہ انگریزوں کا ودیعت کردہ سخت تربیتی اور تنظیمی نظام ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے فوج میں ’’ اسلام نافذ کرنے‘‘ کی کوشش کی تھی لیکن اس کے مضبوط تربیتی اور تنظیمی ڈھانچے نے یہ سازش ناکام بنادی ورنہ آج ہمارے ہاں بھی مصر اور لیبیا کی تاریخ دھرائی جاتی۔
سیاستدان فوجی مارشل لائوں کا بڑا تذکرہ کرتے ہیں اور حیرت ہوتی ہے ان تذکرہ کرنے والوں میں غایت تعداد اُن کی ہے جو مارشل لاء کی نرسریوں میں لگے گملوں سے جنم لے کر سیاست میں آئے ہیں یہ الزام سچ ہے یا جھوٹ، اس کا فیصلہ میں تو نہیں کرسکتا لیکن میرے تیس سالہ صحافتی تجربے نے بتایا ہے کہ کرپٹ اور ضمیر فروش سیاستدانوں کے مخصوص ٹولے نے ہی دراصل اپنی برادری کو آج یہ دن دکھائے ہیں ایک دوسرے پر پنجہ آزمائی کے جنون نے ہمارے سیاستدانوں کو یہ باور ہی نہیں ہونے دیا کہ اگر اُن کا انسٹی ٹیوشن ہی نہ رہا تو مستقبل کیا ہوگا؟
صحافت کا بھی یہی حال ہے۔ ایک زمانہ تھا جب صحافی کو ’’ ریفارمر‘‘ کا درجہ حاصل تھا۔ اخبارات کے اداریوں سے حکومتیں لرز جایا کرتی تھیں۔ راہنمائی حاصل کرتی تھیں۔ براہواس الیکٹرونک میڈیا کا جس نے اس مقدس پیشے کو بھی ذلیل کرکے رکھ دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لاہور کے موچی دروازے کو سیاست میں بڑا اہم مقام حاصل تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ حکومت کے خلاف جس تحریک کا آغاز لاہور سے ہوگا وہ ضرور اپنے منطقی انجام تک پہنچے گی۔ میں نے اپنے شعور کی آنکھ ستر کی دہائی میں کھولی۔ سکول کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس تاریخی باغ میں مولانا بھاشانی، شیخ مجیب الرحمن، چوہدری محمد علی، مولوی فرید الدین، نوابزادہ نصراللہ خان، ذوالفقار علی بھٹو، ایئر مارشل اصغر خان اور تاریخی حیثیت کے حامل سیاستدانوں کو سننے کا موقعہ ملا۔ تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ اور پیپلزپارٹی کا 1971 ء کا الیکشن اس سے پہلے 1970 ء اور 1977 ء میں متحدہ پاکستان کی پارٹیوں کی سیاست اور لیڈران کرام کی پرجوش تقاریر کا سب سے بڑا حوالہ یہی لاہور کا موچی دروازہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے بعد کراچی کا نمبر آتا تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو پاکستان کی سیاسی تاریخ ہی بدل کر رکھ دی۔ اب موچی دروازے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز لاہور کی صوبائی اسمبلی بن گئی جو دراصل مارشل ایڈمنسٹریٹر کا آفس تھا اور جہاں لاہور شہر کے سیاسی کارکنوں کی قسمت کے فیصلے ہوا کرتے تھے، قیدوبند، عقوبت خانے، کوڑے، چونا منڈی، سی آئی ڈی سنٹر، لاہور کا شاہی قلعہ وغیرہ موچی دروازے پر حاوی ہوگئے۔ خوف اور دہشت کی اس فضا نے سیاسی جلسے اور جلوس تو ختم کر دیے البتہ ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کے مقدمے کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے باہر سیاسی ورکرز اور تماش بینوں کا ہجوم جمع ہونا شروع ہوگیا۔ 
جنرل ضیاء الحق فضائی حادثے میں مارے گئے، جمہوریت واپس آگئی لیکن حیرت انگیز طو رپر موچی دروازہ ہماری سیاسی تاریخ کا بھولا بسرا باب بن کر رہ گیا۔ جنرل مشرف نے الیکٹرونک میڈیا کو کسی نیک نیتی سے یقینا کھلی چھٹی اور لائسنس جاری نہیں کیے ہوں گے کیونکہ بعد میں یہی میڈیا ان کے گلے کا طوق بن گیا اور ان کے اقتدار سے رخصتی کا باعث بھی یہی میڈیا بنا۔ الیکٹرنک میڈیا کی آمد بڑا نیک شگون تھا لیکن اس سے ایک بڑی تبدیلی آئی کہ اب پاکستانی سیاست کا مرکز لاہور کے بجائے اسلام آباد بن گیا۔
تمام قابل ذکر سیاستدانوں اور بڑے بڑے صحافیوں نے بھی اسلام آباد کو اپنا ٹھکانہ بنالیا کہ یہاں ان کے لیے ان کی توقعات سے بڑھ کر بہت کچھ موجود تھا۔ ہر شہر کا اپنا مزاج اور شناخت ہوتی ہے جو اس کے مکینوں کے مزاج کا حصہ بھی بن جایا کرتی ہے۔ لاہور تاریخی اہمیت کا حامل اور ماضی میں برصغیر کی سیاست و صحافت، علم و ادب کا اہم مرکز رہا تھا یہاں کے جلسے ، جلوس، سیاست، صحافت پر اس کا رنگ غالب رہا ہے، یہی بات کراچی پر صادق آتی ہے۔ اسلام آباد حکمرانوں، بیورو کریٹ، جرنیلوں اور وی آئی پیز کا شہر تھا یہاں کی سیاست اور صحافت پر بھی ان کا غلبہ رہا۔    (جاری ہے)