میڈیا کا حادثاتی کردار

پاکستانی عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو جو تحفظات ہیں یا جس طرح وہ اس فیصلے کے بعد عوامی سطح پر احتجاج کر رہے ہیں اس کے حق میں پاکستان کے بعض جغادری اور کچھ میری طرح ٹکاٹوکری قسم کے کالم نگاروں اور مبصروں کی چیخ و پکار کا تو کوئی جواز دکھائی دیتا ہے کہ کسی بے چارے نے اپنی ڈیوٹی پوری کرنی ہے اور کسی نے حق نمک ادا کرنا ہے لیکن جتنی تکلیف اس فیصلے سے بھارتی انٹیلکچوئیل کو ہوئی ہے اس کا اندازہ شاید قارئین نہ لگا سکیں۔ وائس آف امریکہ نے کل بھارتی ’’سیاسی دانشور‘‘ سدانند دھامی جو امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں پر ایک خصوصی پروگرام نشر کیا ہے۔ امریکہ میں مقیم اس بھاجپائی دانشور نے جو پاکستانی فوج اور خصوصاً آئی۔ایس۔آئی سے متعلق اپنے خبث باطن کے لیے مشہور ہے۔ اپنے تازہ آرٹیکل میں پاکستانی فوج اور خصوصاً آئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف فوج نے سازش کی عدلیہ کو استعمال کیا اور جمہوریت کی ایسی تیسی کر دی۔ سداننددھامی نے قریباً وہی ’’دلائل‘‘ اپنے حق میں استعمال کیے جو ہماری سیاسی قیادت کی زبانی ہم روزانہ سنتے ہیں گو کہ ابھی تک انہوں نے کھل کر کسی ادارے کو مطعون نہیں کیا بس ’’ سازش سازش‘‘ کا شور مچا رکھا ہے اور یہ بھی فرمانا ہے کہ وقت آنے پر اس سازش کو بے نقاب کریں گے اور یہ پروگرام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
قیام پاکستان کے 70سال بعد بھی سیاستدانوں اور فوج کے درمیان عدم اعتماد کی اس خلیج کا فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ فوج چونکہ ایک منظم ادارہ ہے جو اپنا موقف یا صفائی آپ اسے کچھ بھی نام دے لیں کا اظہار کور کمانڈر کانفرنس اور آئی ایس پی آر کے ذریعے کرتا رہتا ہے۔ مقررہ وقت پورا کرنے کے بعد ہر شعبے کے انچارج کو رخصت ہی ہونا ہوتا ہے اور دوران ملازمت انہیں میڈیا پر آکر اپنے خیالات اور جذبات کے اظہار کا موقعہ بھی نہیں ملتا۔ اس لیے ان کے متعلق ہمارے محترم سیاستدان جو بھی کہہ لیں اسے عوام سچ ہی سمجھیں گے یوں بھی ہمارے ہاں شرمناک حد تک کم لٹریسی ریٹ کی وجہ سے عوامی شعور شاید ابھی بلوغت کی منازل طے کر رہا ہے۔ جس ملک کا وزیراعظم یہ بات کہے کہ فلاں شخص کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ تو اس کا ذمہ دار اصولی طور پر ملک کا وزیراعظم ہی ہونا چاہیے کوئی اور کیوں؟ جس جنرل مشرف کو نون لیگ نے اپنے اعصاب پر سوار کر رکھا ہے اس نے ’’جمہوری حکومت‘‘ میں صدر کے فرائض بھی انجام دیے اور ملک میں مقیم بھی رہا۔ فرار ہونے کے بعد دونوں حکومتوں کے زمانے میں پاکستان آیا۔ حیرت ہے اپنی بزدلی کی وجہ سے آپ اسے گرفتار نہیں کر سکے اور ماتم دن رات عدلیہ کا ہو رہا ہے؟
مشرف زیدی نے ’’فارن پالیسی‘‘ کے تازے شمارے میں میاں نواز شریف کی نااہلی کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے اس کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ ’’گزشتہ انتخابات میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد نواز شریف کے لیے موقع تھا اور توقع بھی یہی کی جا رہی تھی کہ وہ نہ صرف اپنے عہدے کی مدت پوری کریں گے بلکہ پاکستان میں بہتر معاشی پالیسیوں اور شفافیت کو بھی رواج دیں گے۔ تاہم پانامہ پیپرز سامنے آنے کے بعد کوئی ڈھنگ کا دفاع پیش کرنے کی بجائے انہوں نے ایک حیران کن حکمت عملی پر عمل کیا جس میں ان کی متوقع جانشین نے مخصوص ذرائع کی مدد سے ہر کسی کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ فوج ایک بار پھر ان کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ شاید 1990ء کی دہائی میں یہ پالیسی بہتر ہوتی جب نواز شریف جیسے رہنما معلومات پر اجارہ داری کا لطف اٹھایا کرتے تھے مگر 2016-17ء میں یہ خودکشی کے مترادف ہے۔شریف خاندان کے خلاف مقدمہ درخواست گزاروں کے لائے گئے ثبوتوں کے باعث نہیں بلکہ شریفوں کی جانب سے عوام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے سامنے حقائق پیش کرنے کی انتہائی نااہلی کے باعث خراب ہوا ہے۔ یہ کرپشن نہیں جس نے نواز شریف کو اس قدر نقصان پہنچایا۔ دکھائی دیتا تھا کہ اگرچہ پانامہ پیپرز میں بہت سے دیگر افراد کے نام بھی شامل تھے لیکن تمام تر فوکس نواز شریف اور ان کے خاندان پر رہا۔ دوسری طرف نواز شریف نے بھی اپنے دور میں پاکستان کے پبلک سیکٹر میں پائے جانے والے نقصان دور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ تاہم ہر مرحلے پر جو چیز نواز شریف کے سر کے بل گرنے کا باعث بنی وہ ان کی اپنی نااہلی تھی۔ انہوں نے انتخابی کاغذات میں اپنے درست اثاثے ظاہر نہیں کیے تھے۔ بہر حال ایک الجھن دار فیصلہ سامنے آنے کے بعد انہوں نے خودکو مظلوم ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ تحقیقات کے دوران ان کے اور ان کے رشتے داروں کے بیانات میں احمقانہ حد تک فرق دکھائی دیتا تھا۔ ان کی طرف سے فیملی کے اثاثوں کا مشرق وسطیٰ کے ایک شاہی خاندان سے تعلق جوڑنے کی کوشش ملک کا مقبول عام لطیفہ بن گئی۔ اس نے ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔ تاہم نہ تو شریفوں نے اور نہ ہی ان کے سیاسی حریفوں یا جے آئی ٹی نے اس بحث کو پبلک سیکٹر کی حقیقی اصلاح کی طرف موڑنے کی کوشش کی نہ ہی پاکستان کے نظام انصاف پر کوئی بات ہوئی ہے کہ اس میں غریب پاکستانیوں کو نام نہاد انصاف کا تمام بوجھ اٹھانا پڑتا ہے جبکہ متمول طبقہ آسانی سے بچ نکلتا ہے۔ نواز شریف کی نظام درست کرنے کی خامیوں اور ان کے اقتدار کی  بھوک نے انہیں یہ دن دکھائے۔اس کا ملک میں انصاف کی فراہمی سے کوئی تعلق نہیں۔اس تمام معاملے میں روشنی کی ایک کرن موجود ہے۔ اگرچہ صرف ایک فیصلے سے پاکستانی اشرافیہ کی بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہو جائے گا لیکن اس سے جمہوریت پر کوئی ضرب نہیں پڑی ہے۔ شریفوں کے حامی بہت تند ہی سے دکھاوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ جمہوریت پر کاری وار ہوا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام مداخلتوں کے باوجود پاکستانی جمہوریت گزشتہ ایک عشرے سے کافی توانا ہوئی اور اس میں کافی قوت برداشت ہے۔ اس دوران ملک میں سماجی اور سیاسی طور پر آنے والی تبدیلیوں کو ریگولیٹری فریڈم اور ٹیکنیکل ترقی نے نکھارا ہے۔ اس میں سب سے اہم میڈیا ہے۔ اس وقت پاکستان اسلامی دنیا کا آزاد ترین میڈیا رکھتا ہے۔‘‘
افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ جب حالات نے خصوصاً الیکٹرونک میڈیا کو ملک کی قسمت سنوارنے کا موقعہ فراہم کیا تو میڈیا پر بھی پیشہ ور صحافیوں کے بجائے بزنس مینوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ جنہوں نے یہ چینلز اپنے مخصوص اور محدود مقاصد کے حصول کے لیے قائم کیے تھے۔ اب حادثاتی طور پر وہ حکومتوں کی کردار سازی اور بنانے بگاڑنے میں بھی کردار ادا کرنے لگے ہیں جبکہ اس اہم ترین منصب کی ذمہ داری سے عہدہ براء ہونے کے لیے جس ’’ہائی گرائونڈ موریلٹی‘‘ کی ضرورت ہے وہ ہمیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ آج پاکستانی چینلز دیکھنے والے ناظرین جانتے ہیں کون سا چینل حکومت کا حامی ہے اور کون سا مخالف۔ غیر جانبداری بظاہر عنقا ہے جو المیہ ہے۔