کوہ نور واپس لائیں

 

آج سے 169سال پہلے 29مارچ 1849ء کو لاہور شہر میں ہندوستان کے سب سے قیمتی اثاثے کوہ نور ہیرے کو برطانوی حکمرانوں نے ہتھیا لیا تھا۔ لاہور معاہدے کے نام سے موسوم دستاویز میں دس سالہ مہاراجہ دلیپ سنگھ نے خوف اور تحریص کے پیش نظر کوہ نور ہیرے کو ملکہ برطانیہ وکٹوریہ کو تحفتاً پیش کردیا۔ معاہدے کی شق نمبر 3میں لکھا ہے کہ مہاراجہ دلیپ سنگھ نے کوہ نور ہیرے کو جو اس کے والد رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع الملک سے ہتھیایا تھا، ملکہ وکٹوریہ کے حوالے کردیا ہے۔ جب اس دستاویز پر دستخط ہوگئے تو گورنر جنرل ڈلہوزی اس قدر خوش ہوا کہ لکھا ’’کوہ نور دراصل ہندوستان کی فتح کی علامت ہے۔ کوہ نور کو اب اس کی صحیح جگہ ملے گی‘‘۔

کوہ نور ہیرا، مرغی کے انڈے سے تھوڑا چھوٹا لیکن دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے۔ اس وقت یہ ٹاور آف لندن کے میوزیم میں محصور ہے، اربوں ڈالر مالیت کا یہ ہیرا تاریخی، سیاسی اور جغرافیائی ہر لحاظ سے پاکستان کی ملکیت بنتا ہے۔ 14اگست 1976ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یوم آزادی کے موقع پر برطانوی وزیراعظم جیمز کالیہان کو خط لکھا اور کوہ نور ہیرا واپس کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی کہا کہ یہ ہیرا ہر طرح سے پاکستان کا ثقافتی ورثہ ہے، اسے واپس کیا جائے۔ جیمز کالیہان نے ایک ماہ بعد جواب دیا کہ مہاراجہ لاہور نے اسے شاہی خاندان کو تحفے میں دیا تھا اس لئے میں بطور وزیراعظم ملکہ سے اسے واپس کرنے کا نہیں کہہ سکتا۔

یہ اب برطانوی ملکیت ہے۔ کوہ نور اگر واپس مل جائے تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ایک ہی دن میں سارے قرض اتر سکتے ہیں اور یوں صرف ایک اثاثہ واپس لینے سے ہی پاکستان دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہوسکتا ہے۔ ’’نیا پاکستان‘‘ وجود میں آنے کے بعد برطانیہ اور پاکستان میں لوٹی ہوئی دولت اور اثاثے واپس کرنے کا باقاعدہ معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ نوازشریف اور آصف زرداری کی دولت یا اثاثے واپس لینے کے لئے تو برطانوی عدالتوں میں انہیں مجرم ثابت کرنا پڑے گا لیکن کوہ نور ہیرے کی واپسی کے لئے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔ 10سالہ مہاراجہ دلیپ سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان معاہدہ خود بول بول کر کہہ رہا ہے کہ ’’یہ ظلم اور ڈاکہ‘‘ ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں میری نئی حکومت سے درخواست ہے کہ فوری طور پر کوہ نور ہیرے کی واپسی کے لئے برطانیہ سے مطالبہ کیا جائے اور دلیل کے طور پر اس معاہدے کا ذکر کیا جائے جو حال ہی میں برطانیہ کے ہوم منسٹر اور پاکستان کے درمیان ہوا ہے۔ اس کارآمد طریقے سے بہرحال پاکستان فوری طور پر اپنے مسئلے حل کرسکتا ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو کوہ نورہیرا تحریص، قتل و غارت، تشدد، فوجی حملوں اور انسانی ظلم و ستم کی ایک پوری داستان ہے۔ بھارت کی ریاست اڑیسہ سے دریافت ہونے والا یہ ہیرا بہت سے عروج و زوال سے گزرا ہے۔ کبھی تو یہ مغل بادشاہوں کی شان تھا۔ شاہجہان کے تخت طائوس میں کوہ نور ہیرے کو سب سے نمایاں جگہ لگایا گیا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب کئی سال تک اس ہیرے کے مقام اور قیمت سے ناواقف ایک مولوی صاحب کے پاس رہا جو کوہ نور کو پیپر ویٹ کے طور پر استعمال کرتے رہے اور پھر یہی ہیرا ایک جیل میں بھی بند رہا جہاں ایک ایرانی شہزادے کو ٹارچر کیا جاتا رہا کہ وہ بتا دے کہ ہیرا کہاں رکھا ہے اور پھر چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے شجاع الملک سے ترغیب، تحریص، خوف، رعب اور تشدد کے ذریعے کوہ نور ہیرا نکلوا لیا اور جب اسے یقین ہوگیا کہ یہی اصلی کوہ نور ہے تو صرف ایک لاکھ پچیس ہزار روپے شجاع الملک کو بطور اعزاز بھجوا دیئے جبکہ اس کی اس وقت بھی قیمت کروڑوں میں تھی۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے امرتسر میں اپنی پگڑی کے اوپر کوہ نور لگا کر اس کی نمائش کی، بعدازاں اسے وہ بازو بند کے طور پر پہنتا رہا۔ کوہ نور لندن پہنچا تو 1851ء میں گرینڈ نمائش کا اہتمام کیا گیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے ہائیڈ پارک میں اس ہیرے کی نمائش کر کے برطانیہ کے سلطنت عظمیٰ ہونے کا احساس دلایا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ نے کوہ نور کو اپنے تاج کا حصہ بنایا اور یوں کوہ نور تب سےاب تک برطانیہ ہی میں ہے۔ انڈیا، پاکستان، ایران، افغانستان اور حتیٰ کہ طالبان تک سب دعویدار ہیں کہ کوہ نور ان کا ہے مگر حقیقت میں لاہور سے قبضے میں لیا گیا یہ کوہ نور پاکستان ہی کو واپس ملنا چاہئے۔

یہ مطالبہ اس لئے بھی ہونا چاہئے کہ بھٹو کے مطالبے کے بعد سے اب تک دنیا بہت بدل چکی ہے۔ برطانیہ، بھارت اور پاکستان سب کے رویے اور ان کے خیالات تک بدل چکے ہیں۔ جس طرح عمران خان قومی خودمختاری چاہتے ہیں اور بڑی عالمی طاقتوں کے اثر سے آزاد ہونا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح کی سوچ کے حامل ان کے دو دوست اقوام متحدہ کے سابق انڈر سیکرٹری جنرل ششی تھرور اور اسکاٹش مصنف ولیم ڈالریمپل ہیں یہ دونوں عمران خان کے مداح بھی ہیں۔

ششی تھرور نے An era of Darknessلکھ کر ایسٹ انڈیا کمپنی اور انگلش نو آبادیاتی حکومت کی چیرہ دستیوں اور لوٹ مار کو طشت ازبام کر دیا ہے۔ ششی تھرور کے بے باک اظہار نے برطانیہ عظمیٰ کی خدمات کی تعریف کرنے والوں کو معذرت خواہانہ لہجہ اپنانے پر مجبور کردیا ہے۔ ان حالات میں کوہ نور ہیرا واپس مانگنے کا مطالبہ بالکل درست فیصلہ ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اس کا فوری اثر بھی ہو جائے۔

ایک اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ’’آخری مغل‘‘ کے نام سے بہادر شاہ ظفر کی المیہ کہانی لکھنے والے ولیم ڈالریمپل نے لاہور کے سکھ دربار سے کوہ نور ہیرا ہتھیانے کی پوری داستان کو ’’کوہ نور‘‘ کے نام سے کتاب میں قلم بند کردیا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر کوئی شک نہیں رہتا کہ نوعمر مہاراجہ دلیپ سنگھ سے ہتھیانا کوہ نور سراسر دھوکہ دہی تھا۔ لہٰذا اب نئے پاکستان میں سب سے پہلے اپنا کوہ نور لا کر باقی لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لانے کا راستہ ہموار کیا جائے۔

نوٹ:میرے کالم ’’یہ روحانی دنیا ہے‘‘ میں خاتون اول بشریٰ بی بی نے حضرت فاطمہؓ کے حوالے سے لکھے گئے واقعے کی تردید کی ہے جس پر میں ذاتی طور پر ان سے معذرت خواہ ہوں۔