آقاوغلام طرز حکمرانی کا خاتمہ !

ملکی ترقی میں بیورو کریسی کی اہمیت اور کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،لیکن یہ عام طور پر سیاسی وحکومتی دباؤ کا شکار رہتی ہے ۔سرکاری افسر کاروبار مملکت میں ریڑھ کی ہڈی کی سی اہمیت رکھتے ہیں، حکومتیں بنتی اورگرتی رہتی ہیں، لیکن بیورو کریسی کے کاندھوں پر عظیم ذمہ داریاں آجاتی ہیں،انہیں زیادہ ترمشکلات غلط کام کی بجائے صحیح کام کرنے پر آتی ہیں اور اکثر حکومتیں بدلنے پر زیر عتاب آ جاتے ہیں، ایسے میں بہت سے لوگوں کو قربانی دینا پڑتی ہیں۔دنیا کے کسی بھی ملک میں اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے انجام دینے کے لیے پرعزم، فرض شناس، اہل اور باضمیر سرکاری مشینری موجود ہو تو بدنیت حکمرانوں کے لیے بھی قومی مفادات کے خلاف کام کرنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں دوسرے شعبوں کی طرح بیوروکریسی کا معیار بھی بتدریج زوال پذیر ہوتا گیاہے۔ ہر دور میں مفاد پرست حکمرانوں نے مختلف اداروں میں سرکاری افسروں کے تقرر اور ترقیوں کا پیمانہ دیانت اور اہلیت کے بجائے ذاتی وفاداریوں اور سیاسی وابستگیوں کو بنائے رکھا،حکمرانوں اور بیورو کریسی کی ملی بھگت سے قومی وسائل کی لوٹ مار کے دروازے چوپٹ کھل گئے ،اس میں شک نہیں کہ چند مفاد پرست حکمرانوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ،مگر گزشتہ عشروں میں اہل پاکستان نے جن آمرانہ اور منتخب حکومتوں کا تجربہ کیا ان کے سارے ہی کام غلط نہیں تھے ،لیکن بیوروکریسی کو سیاسی دباؤسے آزاد کرنے کے لیے ان میں سے کسی حکومت نے کوئی خاص قابل ذکر کوشش نہیں کی ،معاملات بہتر ی کی بجائے بگڑ تے چلے گئے اوربیوروکریسی اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہوتی چلی گئی۔ اس منفی صورت حال کو ملک کے مفادات کے مطابق بدلنے کے لیے طاقتور سیاسی عزم ، مکمل نیک نیتی اور بھرپور فراست و بصیرت درکار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا دیگر ملک کے لئے بہتر اقدامات کے ساتھ بیوروکریسی ریفامزکابیڑہ اٹھانے کا فیصلہ قابل ستائش ہے ۔ادارے مضبوط ہوں تو چوری نہیں ہوسکتی، دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں،حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب حکمران عوام کے ٹیکسوں سے جمع ایک ایک روپیہ کے خرچ کا احساس کریں اور حساب رکھیں گے ۔اگرموجودہ حکومت بیورو کریسی کی اہلیت و شفافیت کی بنیاد پر اس کی ازسرنو تنظیم میں کامیاب ہوگئی تو اس کے نتیجے میں ہر شعبہ زندگی میں بہتری اور ترقی کی راہیں کھل جائیں گی۔
ہمارے معاشرے میں زیادہ تر قباحتیں میرٹ لاگو نہ ہونے اور ادارہ جاتی و انفرادی کرپشن کے اوپر سے نیچے تک سرائیت کرنے کے باعث ہی پیدا ہوئی ہیں۔ کرپشن کلچر نے ہی بے وسیلہ عوام کی انصاف تک رسائی ناممکن بنائے رکھی ۔ مفاداتی کلچر میں اقرباء پروری کی بنیاد پر مراعات یافتہ طبقات کے نااہل بچے اور بچیاں ہی فیض پاتی رہیں۔ عدم مساوات کی بنیاد پر امیر اور غریب طبقات میں تفاوت اتنا بڑھ گیا کہ اس سے ہمارا معاشرہ قطعی طور پر غیرمتوازن ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے قومی دولت و وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے باعث خط غربت کی لکیر کے نیچے بسنے والے عوام کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ،جبکہ مراعات یافتہ اشرافیہ اپنے کالے دھن کو محفوظ کرنے کیلئے بھی منتخب فورموں پر متحدنظر آتی ہے ۔ ملک کے عوام انہی غالب طبقات کے استحصال کا شکار ہوتی رہی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اور مملکت خداداد کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کے عزم کا اظہار کیا تو پسے پسماندہ طبقات میں شامل خلق خدا کیلئے وہ امید کی کرن بن گئے ،اب انہیں عوام کی امیدوں پر پورا اترنا ہے اور اپنے اقتدار کے پہلے سو دن کی انہوں نے جو ترجیحات متعین کی ہیں‘ اسکے مطابق اگر اپنے اقتدار کے ابتدائی سو دنوں میں وہ کچھ کرگئے جس کا انہوں نے عوام کے روبرو اعلان کیا ہے تو اگلے دو سال تو کیا‘ انکے اقتدار کی آئینی پانچ سال کی ٹرم پوری ہونے کے بعد آئندہ انتخابات میں بھی کامیابی انکے قدم چومے گی تاہم انکے اقتدار کے دو ہفتے کے دوران گورننس اور قومی معیشت کی اصلاح کے حوالے سے انکی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں اس سے عوام میں امید کی کرن روشن ہونے کے بجائے ناامیدی کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔ اس سلسلہ میں وفاقی حکومت کے مجوزہ منی بجٹ میں جو پیر کے روز قومی اسمبلی میں پیش کیا جارہا ہے‘ کئی سو ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور سالانہ ترقیاتی منصوبے میں 30 فیصد کٹوتی کی تجویز سے عوام کے دلوں میں نئے پاکستان سے وابستہ امیدوں کی جگہ مایوسیوں نے ڈیرے ڈالنے شروع کردیئے ہیں کیونکہ نئے ٹیکسوں کا سارا بوجھ براہ راست اور بالواسطہ ان مفلوک الحال عوام پر ہی پڑے گا جو پہلے ہی حکومتی اقدامات کے باعث غربت‘ مہنگائی کے پہاڑ بننے والے مسائل کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ملک کے معاشی حالات بہت خراب ہیں، وزیر اعظم عمران خان ایک ملک کے حکومتی سربراہ کی حیثیت سے یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ حکومت چلانے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان تین ہزار ارب روپے کا مقروض ہے اور روزانہ 6 ارب روپے سود کی مد میں ادا کرتا ہے۔ وزیر اعظم کے اس اعتراف سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت کب تک مشکل فیصلوں سے گریز کرے گی۔تحریک انصاف کی موجودہ حکومت پر بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے اور ٹیکسوں میں اضافے سے متعلق مشکل فیصلے کرنے کے لیے یقیناًدباؤہو گا۔ ریاستی اور حکومتی امور چلانے کے لیے پیسہ بھی تو چاہئے۔ تحریک ا نصاف کی حکومت سادگی اختیار کرنے اور کفایت شعاری کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے ، اس کے پاس کرنے کی گنجائش صرف اتنی ہے۔ ماضی کی جمہوری حکومتوں نے یہ بھی نہیں کیا، سیاسی رہنماؤں کو شاہانہ طرز زندگی زیب نہیں دیتا۔
ایوان صدر ، پرائم منسٹر ہاؤس ، گورنر ہاؤسز ، چیف منسٹر ہاؤسز ، وزراء ، ارکان پارلیمنٹ اور بیورو کریسی پر جتنے اخراجات ہوتے ہیں ، وہ پاکستان جیسا مقروض ملک برداشت نہیں کر سکتا۔ اگرچہ ان اقدامات سے پاکستان کے سارے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے، لیکن مزید بگاڑ کا عمل رک سکتا ہے اور ہم بہتری کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں۔ ہمارے پاس فی الوقت صرف یہ کرنے کی گنجائش ہے کہ ہم اپنے اخراجات کم کریں۔ غیر منافع بخش اور معیشت پر بوجھ اداروں کو منافع بخش بنائیں یا ختم کریں اور مزید قرضہ نہ لیں۔ ان اقدامات کے اگرچہ فوری اثرات نظر نہیں آئیں گے، لیکن کچھ عرصے بعد یہ محسوس ہو گا کہ یہ انقلابی اقدامات ہیں،جس جال میں پاکستان جیسے ممالک پھنسے ہوئے ہیں ، اس سے نکلنا آسان نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ان اقدامات سے ہماری مشکلات آہستہ آہستہ کم ہو سکتی ہیں، ان اقدامات کو نمائشی یا سیاسی نہیں کہا جا سکتا،یہ موجودہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بے جا اخراجات ختم کریں ،اپنے اُلجھے ہوئے معا ملات کو درست کرتے ہوئے درست سمت کی جانب گامزن ہوں،یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔ سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظام کو صرف سیاسی طور پر للکارنے سے ملک کو بدحالی کی دلدل سے نہیں نکالا جاسکتا اور اپنی خامیوں کو دور کرنے کے فوری اقدامات کرنے سے ہی بہتری آئے گی۔ وزیراعظم کا بہتر گورننس کیلئے بیوروکریسی کی عزتِ نفس کی پاسداری کا اعلان بلاشبہ دوررس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، تاہم انہیں غریب عوام کو سطح زمین سے اوپر اٹھانے کے اپنے تمام اعلانات واقدامات کو عملی قالب میں ضرور ڈھالنا
چاہیے جو عوام کی عزتِ نفس کی پاسداری کے ساتھ ساتھ انکی روٹی‘ روزگار‘ تعلیم‘ صحت کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے سے ہی ممکن ہے۔