یومِ سقوطِ ڈھاکہ پر فکری نشست کا انعقاد

مادرِ وطن کا دولخت ہونا کوئی عام واقعہ نہیں‘ ایک سانحۂ فاجعہ تھا۔ متحدہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کے گھروں میں کئی دنوں تک صفِ ماتم بچھی رہی تھی۔ اَن گنت گھرانوں میں کئی روز تک چولہا نہ جلا تھا۔ آنکھوں میں اشکوں کا سیلاب اُمنڈ آیا تھا۔ کلیجے چھلنی اور دل پارہ پارہ ہوگئے تھے۔ تاریخ اسلام یوں تو اچھے برے ایام سے بھری پڑی ہے مگر 16دسمبر 1971ء کا دن تاریک ترین اور بدترین ہے۔ اگر اسے پوری ملت اسلامیہ کا یومِ سوگ قرار دیا جائے تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ اس دن ریاست مدینہ کی ثانی اور لاکھوں جانوں کی قربانی کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آنے والی یہ مملکت ِ خداداد ایک بت پرست قوم کے ہاتھوں دو ٹکڑے ہوگئی تھی۔یہ امر اس باعث زیادہ تکلیف دہ تھا کہ برصغیر کے جس خطے میں پاکستان کی مادر جماعت آل انڈیا مسلم لیگ نے جنم لیا تھا اور جہاں کے عوام نے قیام پاکستان کی خاطر برطانوی سامراج کے جبرو قہر اور ہندو بنیے کے تعصب اور سازشوں کا پامردی سے مقابلہ کیا تھا‘ وہیں ہمارا ازلی دشمن اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوگیا۔ درحقیقت اکھنڈ بھارت کے دعویداروں نے قیام پاکستان کو بھارت ماتا کے دو ٹکڑے ہوجانے کے مترادف قرار دیا تھا۔ وہ تقسیم ہند کی غلطی کے مداوے کا عزم کئے ہوئے تھے‘ لہٰذا پاکستان کے آزاد وجود کو دل سے تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آتے ہی اس کے وجود کے درپے ہوگئے۔ اُنہوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کے اندر مغربی پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بونے شروع کردیے۔ اس سلسلے میں مشرقی پاکستان کے اعلیٰ و ادنیٰ تعلیمی اداروں میں تعینات ہندو اساتذہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مغربی پاکستان کی طرف سے مشرقی پاکستان کے معاشی استحصال کے متعلق جھوٹی داستانیں گھڑی گئیں اور اس زہر کونسل نو کے ذہنوں میں اس طرح اتارا گیا کہ وہ اپنی تمام تر محرومیوں کا ذمہ دار مغربی پاکستان کو سمجھنے لگ گئی۔ انہیں بطور خاص باور کرایا گیا کہ مشرقی پاکستان میں پیدا ہونے والی پٹ سن کی بدولت ہی مغربی پاکستان میں خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ اس سب پر مستزاد جنرل محمد ایوب خان کی طرف سے ملک میں مارشل لاء کا نفاذ تھا جس کے باعث مشرقی پاکستان کے عوام میں یہ تاثر مزید جڑ پکڑ گیا کہ چونکہ افواجِ پاکستان میں بنگالیوں کی تعداد بہت کم ہے‘ اس لئے صرف مغربی پاکستان والے ہی اقتدار پر قابض رہیں گے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دو سگے بھائیوں کی مانند تھے۔ ان میں پائی جانے والی بداعتمادی قابلِ اصلاح تھی۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ اُن دنوں متحدہ پاکستان کے سیاسی منظر پر جو عسکری و سیاسی قیادت موجود تھی‘ وہ قومی افق پر منڈلاتے خطرات کا ادراک کرنے سے قاصر تھی۔ ان میں سے کچھ تو ذاتی مفادات کے اس قدر اسیر تھے کہ اپنے پائوںکے انگوٹھے سے آگے دیکھنے سے عاجزتھے۔ ان کے نزدیک ملک و قوم کا اجتماعی مفاد تنکے کے برابر بھی وقعت نہ رکھتا تھا۔ ہندو اساتذہ کی تیار کردہ نئی نسل پہلے ہی اپنی نظریاتی اساس سے بیگانہ ہوچکی تھی‘ لہٰذا بڑی آسانی سے ایک بھارتی ایجنٹ شیخ مجیب الرحمن کے ہاتھوں کھلونا بن گئی۔ یہ شخص اگر تلاسازش کیس کا اہم ترین کردار تھا مگر مغربی پاکستان کی حزبِ اختلاف کے کچھ کج فہم سیاست دانوں کی ضد اور اصرار پر حکومت پاکستان اسے رہا کرنے پر مجبور ہوگئی۔ رہائی ملتے ہی اس نے اپنے بدنام زمانہ چھ نکات پیش کردیے جو پاکستان کی وحدت کے خاتمے کی کلید ثابت ہوئے۔ انہی چھ نکات کی بنیاد پر اس کی جماعت عوامی لیگ نے اپنی انتخابی مہم چلائی اور مشرقی پاکستان میں کلین سویپ کیا۔ فوجی جنتا کی جانب سے عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں تاخیر اور مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نے حالات کو اس مقام پر پہنچا دیا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ بھارت تو عرصۂ دراز سے اس صورت حال کی گھات میں تھا۔ چنانچہ اس نے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے افراد کو خصوصی طور پر اپنی فوج میں بھرتی کیا اور انہیں تربیت دے کر مکتی باہنی کے روپ میں مشرقی پاکستان میں داخل کردیا۔ اس وقت تو بھارتی حکومت بالخصوص اس کی انتہائی مکار وزیراعظم مسز اندرا گاندھی اس امر سے انکار کرتی رہی مگر اب جبکہ اس سانحہ کو گزرے 46برس بیت چکے‘ اس کے تمام پہلو طشت ازبام ہوچکے ہیں۔ ہندو توا کے عَلم بردار موجودہ انتہا پسند بھارتی پر دھان منتری نریندرا مودی نے جون 2015ء میں اپنے دورۂ بنگلہ دیش کے دوران ڈھاکہ میں ببانگ دہل اعتراف کیا تھا کہ بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی میں بھارتی فوج نے سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ مودی نے تو اِس پر اظہار تفاخر بھی کیا تھا۔ ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ جن مشرقی پاکستانیوں نے متحدہ پاکستان کی حمایت میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ بھارتی فوج کا مقابلہ کیا تھا‘ انہیں بھارتی حکومت کے ایماء پر شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد تختۂ دار پر چڑھا رہی ہے۔ مشرقی پاکستان کے اس بحران کے دوران ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں تعینات امریکہ‘ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے اخباری نمائندوں نے بھی بڑا مکروہ کردار ادا کیا۔ اُنہوں نے حالات و واقعات کی تصویر کشی کرتے وقت صحافتی اخلاقیات و اقدار کو ملیامیٹ کردیا اور پاکستان کے خلاف تعصب پر مبنی رپورٹنگ کی۔ ان کی تیار کردہ خبروں کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ بھارت کے محکمۂ اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ ہیں۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں بھارت جیسا دشمن ہمسایہ ملا ہے۔ ہمیں اس سے خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اس نے ہمارے رستے ہوئے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کی غرض سے 16دسمبر 2014ء کو افغانستان سے اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد بھیج کر آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم طلبہ اور اساتذۂ کرام کا بیدردی سے قتل عام کروایا۔