کوئی تو ہے۔۔۔؟

اس مملکت الٰہیہ میں کوئی تو ہے جو ہوش و ہواس میں ہے ویسے چیئرمین سینیٹ جناب رضا ربانی نے انتظامیہ، عدلیہ اور فوج کو مکالمہ اور مذاکرات کی دعوت دی ہے کیونکہ مکالمہ اور مذاکرات ہی صحیح العقل قوم کا وتیرہ ہوتا ہے۔ یقیناً میاں رضا ربانی ایک سنجیدہ سیاست دان اور قانون دان ہیں وہ میاں صاحب کی بات کو خوب اچھی طرح سمجھ رہے ہیں اسی لیے انہوں نے پارلیمنٹ کی مضبوطی اور وطن عزیز کو درست سمت چلانے اور ہر قسم کی سیاسی شورش سے بچانے کے لیے بڑی دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔ اور ایک محب وطن ہونے کا ثبوت دیا ہے کوئی تو ہے جو وطن کے بارے میں سوچتا ہے اور خواہش کر رہاہے کہ پارلیمنٹ مضبوط و مستحکم ہو تاکہ وطن سیاسی طور پر مضبوط و مامون ہو۔ یوں تو آج کل کیا ہمیشہ ہی ہمارے اکثرسیاستدان اقتدار ملتے ہی خود کو عوامی نمائندے سے زیادہ بادشاہ یا آمر سمجھنے لگتے ہیں۔ میاں صاحب کو ان کے تکبر اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی لے ڈوبی خود ان کو عمران خان اور قادری، شیخ رشید کی الزام تراشی سے تنگ آکر عدالت سے رجوع کرنے کا خیال آیا تھا جس میں پہل ان کے مخالفین نے کردی، میاں صاحب معاملہ عدالت عظمیٰ لے جانے پر ہی نہیں بلکہ جے آئی ٹی بنائے جانے پر بھی بڑے مطمئن تھے ان کے حواری مٹھائیاں بانٹ رہے تھے لیکن ہوا کیا خود اپنے دام میں صیاد آگیا اب میاں صاحب اپنے گھر لاہور جانے کے نام پر ایک ہجوم لے کر چلے ہیں یہاں تک بھی ٹھیک تھا ان کے ووٹر ان کے چاہنے والے اگر انہیں گھر تک پہنچانے کے لیے ان کے ہم راہی ہوئے تو کچھ غلط نہیں لیکن میاں صاحب نے پھر ایک بار وہی رویہ اپنالیا جو اقتدار ملنے پر اپنایا تھا وہ ہجوم کو دیکھ کر جگہ جگہ رک رک کر عدلیہ انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے لگے ہیں شاید ان کو ان کے مشیران بگاڑ رہے ہیں ان کو ان کے گھر پہنچانے نہیں بلکہ سرکاری گھر پہنچانے کے انتظامات کرا رہے ہیں یہ درست ہے کہ فی الوقت پنجاب اور مرکز میں ان کی اپنی حکومت ہے لیکن انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ ساری کی ساری ان کے طابع فرمان نہیں ہے اگر ہوتی تو انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا فی الحال تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میاں صاحب اپنی جلد بازی میں اپنی جیتی ہوئی بازی ہارنے لگے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے تمام سیاسی جماعتیں اپنی ڈفلی اپنا راگ الاپ رہی ہیں سب اس وقت تماشا دیکھ رہے ہیں کسی کو بھی نہ عوام کی نہ وطن عزیز کی فکر ہے۔
وطن عزیز گزشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی انتشار اور بے چینی کا شکار ہے اس میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہی ہو رہا ہے تحریک انصاف اپنی بوٹیاں نوچ رہی ہے ان کا خیال تھا کہ میاں صاحب نا اہل ہو کر صدمے کے باعث خاموشی سے گھر جا بیٹھیں گے اور اپنی حکومت کی باقی ماندہ مدت پوری کرانے کی کوشش کریں گے دودن کی خاموشی نے تحریک انصاف اور شیخ رشید کی زبانوں کی لگام کھول دی جبکہ انہیں یہ احساس تو ہے کہ شریف خاندان کی گردن میں ابھی نیب اور احتساب کا پھندا پڑنا باقی ہے کچھ یہی کیفیت خود میاں صاحب کے مخالفین کی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ میاں صاحب کو فوری طور پر نا اہل قرار دے دیا گیا ہے جبکہ میاں صاحب کو للکارنے والوں کی رسی ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے وہ کسی بھی وقت ٹکٹکی پر چڑھ سکتے ہیں میاں صاحب کو تو پھر یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کی جماعت برسر اقتدار ہے جبکہ نہ عمران خان کو نہ ہی ان کے بغل بچہ شیخ رشید کو یہ امتیاز حاصل ہے اس کے بر عکس ان کی اپنی جماعت میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل چل پڑا ہے اور خود عمران خان صاحب کے گلے گلا لئی پڑ گئی ہے عمران خان صاحب نے پہلے تو بڑی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون گلا لئی کے مطالبے کہ میرا اور خان صاحب کا فون چیک کرلیا جائے حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی ، خوش دلی سے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا لیکن ان کے سر پرستوں نے یا اسٹیبلشمنٹ کے کسی ہمدرد نے انہیں مشورہ دے دیا ’’پردے میں رہنے دو پردہ نہ اٹھائو پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا‘‘ کہ خان صاحب اگر آپ نے اپنا بلیک بیری دے دیا تو بہت سے پردے اٹھ جائیں گے اور بہت سے پوشیدہ راز افشاہوجائیں گے تب اچانک خان صاحب نے کمیٹی پر عدم اعتماد کردیا اور اپنا فون دینے سے انکار کردیا اپنی جگہ دوسروں کے فون چیک کرنے کی بات کردی اس سے نہ صرف ان کے مخالفین اور خود ان کے وہ کارکنان جو جماعت میں دوسرے یا تیسرے درجے میں ہیں انہیں جماعت کے فیصلوں اور ان فیصلوں کے کرنے والوں سے کہیں زیادہ صرف خان صاحب کے حکم کا انتظار رہتا ہے وہ بڑی الجھن کا شکار ہیں کیا واقعی خان صاحب نے کسی طرح کمزوری دکھائی ہے اگر واقعی ایسا ہے تو ان کی جماعت کے بہت سے مخلص کارکن شاید ان کا ساتھ نہ دیں اور آنے والے الیکشن میں تحریک انصاف کو وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکے جس کی امید انہیں ان کے سرپرستوں نے دلائی ہے جو ان کے لیے میدان صاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں اب جبکہ قومی اسمبلی نے منتخب نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا ہے اس کمیٹی میں کون میلا ثابت ہوتا ہے کون شفاف تب ہی معلوم ہوگا جب دونوں فریق پیش ہوں اب اگر عمران خان صاحب نے اپنا بلیک بیری جس کا مطالبہ خاتون گلالئی کر رہی ہیں دے دیا تو بات آگے بڑھ سکے گی ورنہ جو داغ خان صاحب کے لگ چکا ان کے حال ماضی کے حوالے سے اس کا صاف ہونا یقیناً دشوار ہوگا۔
ہمارے ایک دوست تجزیہ کار کے جن کا تعلق خود پنجاب سے ہے کہنا ہے کہ پنجاب کا مزاج برسوں سے J.P.O ہے ہم نے اس کی تشریح چاہی تو انہوں نے بڑی دل فریب مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا ’’جھتے پاور اودھے نال‘‘ میاں صاحب کے ساتھ جو عوامی بہار آج نظر آرہی ہے یہ زیادہ سے زیادہ آٹھ نو مہینے کی ہے پھر تو الیکشن ہونے ہیں اس وقت تک تو ان سب کی تقسیم ہوچکی ہوگی اور میاں اینڈ کمپنی حیران پریشان میدان میں کھڑے اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہوں گے ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ میاں صاحب کے دور حکومت میں ان کے بھائی شہباز شریف نے پنجاب میں محنت کی ہے اور لوگوں کے عوامی کام بھی کئے ہیں ان سے پنجاب میں ان کی پوزیشن کچھ نہ کچھ بہتر ہوسکے گی اس بار پیپلزپارٹی کے جیالے بھی نئے نعروں کے ساتھ میدان میں اتریںگے کچھ نہ کچھ پہلے سے بہتر سیٹیں نکال لیں گے کیونکہ زرداری پس پشت رہ کر کام کریں گے اور منظر عام پر بلاول بھٹو نظر آئیں گے اس سے نوجوانوں اور بوڑھوں کے ووٹ پیپلز پارٹی کو مل سکیں گے رضا ربانی نے اپنی پارٹی کے لیے بہتری کا ڈول ڈال دیا ہے اس طرح مسلم لیگ میں کچھ نہ کچھ ڈنٹ پڑ سکتا ہے۔