آبادی کا سیلاب

اگر آپ لاہور سے راولپنڈی اسلام آباد بذریعہ جی ٹی روڈ سفر کریں تو راستے میں چند ایک پہاڑوں کے ایسے لگتا ہے کہ جیسے لاہور اور اسلام آباد کی آبادی ایک ہو گئی ہے اسی طرح لاہور سے ملتان روڈ کی طرف آپ سفر پر نکلیں تو ساہیوال تک سب برابر ہو چکا ہے لاہور، قصور، شیخوپورہ کی آبادیاں تو آپس میں ضم ہو چکی ہیں اسی طرح کی صورتحال کراچی اور حیدرآباد کی ہے جہاں انسانوں کا سمندر ایک دوسرے کے ساتھ غوط زن ہے پاکستان کی ایک تہائی آبادی کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاہور فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اسلام آباد اور پشاور میں آباد ہیں بڑے شہروں کے بڑے مسائل ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ چھوٹے شہر آباد کرو ہمارے بڑے شہر آبادی کا بم بن چکے ہیں لیکن ہماری حکومتوں کو رتی برابر ادراک نہیں کہ کل کو کیا ہو گا اگر ایک تو آبادی اسی تناسب کے ساتھ بڑھتی رہی تو 20 سالوں کے بعد کہاں کھڑے ہوں گے اور خاص کر بڑے شہروں میں آبادی کے بڑھنے کا یہی رحجان رہا تو ہر چیز جام ہو جائے گی اب بھی پاکستان کے تمام شہر اپنی شہری سہولتوں کی استعداد سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں اور شہری علاقوں میں مسائل اس قدر گھمبیر ہو گئے ہیں کہ ان کو حل کرنے کے لیے انتظامیہ کے پاس وسائل نہیں جس کی وجہ سے مافیاز جنم لے رہے ہیں لاہور شہر کی آبادی ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ گئی ہے پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ لاہور اسلام آباد شفٹ ہو رہے ہیں لاہور میں ہاوسنگ سوسائٹیوں کی بھر مار ہو چکی ہے پورے ضلع میں کسی جگہ زرعی زمین نہیں بچی لاہور کی زمین اتنی زرخیز تھی کہ کہا جاتا تھا کہ یہاں بندہ مار کر دبا دیا جائے تو وہ دوبارہ اگ جاتا ہے سبزیوں کی کاشت میں لاہور خود کفیل ہوتا تھا لیکن لینڈ مافیا نے زرخیز زمینوں پر آبادیاں بنا کر اس شہر کا حسن کلچر سب کچھ تباہ کر دیا اب یہ کنکریٹ کا شہر دکھائی دیتا ہے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار محبوب کاروبار بن چکا ہے تمام تر سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ میں ہو رہی ہے پیداواری عمل رک گیا ہے صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ایک منڈی بنتا جا رہا ہے بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے پیسہ چند ہاتھوں تک محدود ہو رہا ہے جب تک حکومت نئی صنعتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی اور خاص کر سمال انڈسٹری کے فروغ کے لیے منصوبہ بندی نہیں کرتی اس وقت تک لوگوں کو روزگار مہیا نہیں کیا جاسکتا ہر چیز اعتدال میں ہی بہتر لگتی ہے لیکن ہم نے آبادی کو شتر بے مہار چھوڑ دیا ہے آبادی کا سیلاب تمام وسائل ہڑپ کرتا جا رہا ہے اب یہ آبادیاں پنجاب بھر کی زرخیز زمینیں ہڑپ کرتی جارہی ہیں اب چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں بھی ہاوسنگ سوسائیٹیاں اپنے پنجے گاڈ رہی ہیں ایک تو حکومت کو فوری طور پر چاہئیے کہ وہ زرخیز زرعی زمینوں پر ہاوسنگ سوسائیٹی بنانے پر پابندی لگا دے صرف بنجر زمینوں اور ناقابل کاشت زمینوں پر ہی ہاوسنگ سوسائیٹی بنانے کی اجازت دی جائے اسی طرح بڑے شہروں پر آبادی کا بوجھ کم کرنے کے لیے چھوٹے شہر آباد کیے جائیں بڑے شہروں میں قائم ادارے شہر سے باہر منتقل کیے جائیں چھوٹے شہروں میں تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ لوگ شہروں کا رخ نہ کریں آپ اندازہ لگائیں کہ لاہور میں روزانہ ایک سے سوا لاکھ تک گاڑیاں داخل ہوتی ہیں 5لاکھ تک لوگ روزانہ اس شہر میں اپنے کاموں کے لیے آتے ہیں آٹھ سے دس لاکھ لوگ سالانہ لاہور میں سکونت اختیار کر رہیہیں کرونا سے قبل ہر ماہ دس ہزار گاڑیاں رجسٹر ہو رہی تھیں آبادی کے لحاظ سے ٹریفک کا یہ حال ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک چل نہیں ہوتی بلکہ رینگ رہی ہوتی ہے لوگ کئی گھنٹے سڑکوں پر ضائع کرتے ہیں کروڑوں روپے کا امپورٹڈ فیول بے ہنگم ٹریفک کی نذر ہو جاتا ہے لوگوں کو منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے اور یہ مسائل صرف لاہور کے نہیں تمام بڑے شہروں کے ہیں کراچی کی حالیہ تباہی میں بھی آبادی کے سیلاب کا بنیادی کردار ہے لیکن مجال ہے کہ ہم اس بارے میں سوچیں یا کوئی منصوبہ بندی کریں ہمیں گوادر میں ایک نیا کراچی آباد کرنا چاہیے بلکہ گوادر میں ایک دوبئی بھی آباد کیا جاسکتا ہے لیکن ہم ابھی تک گوادر میں پینے کا پانی فراہم کر پائے ہمیں گوادر میں بین الاقوامی معیار کا انفراسٹرکچر بنا کر کراچی کے کاروبار کو وہاں شفٹ کرنا چاہیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے شہر آباد کرنے چاہیں اس سے نہ صرف بلوچستان محفوظ ہو گا وہاں کی محرومیاں ختم ہوں گی اور وہاں کے وسائل بروئے کار لائے جائیں اسی طرح بلوچستان کو آباد کرنے کے لئے وہاں صنعتی شہر آباد کیے جائیں بلوچستان میں زراعت کے فروغ کے لیے کاشتکاروں کو زمینیں دی جائیں سندھ اور پنجاب میں غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کے لیے سہولتیں دی جائیں اگر حکومت نے آبادی کو کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی نہ کی اپنے وسائل میں اضافہ نہ کیا اور اس سیلاب کے آگے بند نہ باندھا تو ایک وقت آئے گا انسان ہی انسان کو کھا جائیگا آخر میں جو لوگ اولاد میں اعتدال نہیں برتتے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذرا نظام کائنات پر غور کر لیں قدرت کا نظام ہمیں اعتدال کا درس دیتا ہے آپ ذرا سا کھانا زیادہ کھا لیں تو آپ کو بدہضمی ہو جاتی ہے وہاں بھی ہمیں اعتدال میں رہنا پڑتا ہے لہذا بچوں کی خواہش میں بھی اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے