ن لیگ غدار کیوں ؟

مسلم لیگ ن بلا شبہ اس ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے جس کا اپنا ایک ووٹ بینک ہے اس پر پاکستان کے عوام کی سرمایہ کاری ہوئی ہوئی ہے اس میں بڑے تجربہ کار لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے سیاسی جماعتیں ملکوں کا اثاثہ ہوا کرتی ہیں جمہوری ملکوں میں سیاسی جماعتیں عوام کی ملکیت ہوتی ہیں سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں اس جماعت کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی مشاورت سے طے پاتی ہیں لیکن پاکستان کی بات کچھ اور ہے یہاں سیاسی خاندانوں اور شخصیات کی ملکیت تصور کی جاتی ہیں اس پر قابض شخصیت کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جو حکم صادر کرے پوری جماعت اس پر پہرہ دینے کی پابند ہے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے مالکان عوام اور جماعت کے وسیع تر مفاد کی بجائے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے فیصلے کرتے ہیں اسی وجہ سے پاکستان میں جمہوری سسٹم مضبوط نہیں ہو پا رہا کیونکہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں ہم نے اپنی آنکھوں سے کئی سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال دیکھے ہیں کئی شخصیات نے اپنے ذاتی مفاد اور ذاتی انا کی خاطر پارٹیوں کو قربان کر دیا کچھ اسی قسم کا معاملہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ہونے جا رہا ہے میاں محمد نوازشریف جب سے اقتدار سے علیحدہ ہوئے ہیں اور سیاست سے نااہل ہوئے ہیں اس وقت سے وہ ذاتی انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اگر انھیں پارٹی عزیز ہوتی تو جب انھیں وزارت عظمی سے علیحدہ کیا گیا تھا وہ پارٹی مشاورت سے کسی کو بھی پارٹی کا سربراہ بناتے اور پارٹی کے بہترین مفاد کی خاطر اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے بری الذمہ ہونے تک اپنے آپ کو پارٹی سے علیحدہ رکھتے اگر انھوں نے ایسا کیا ہوتا تو ہو سکتا تھا کہ آج بھی ان کی جماعت برسراقتدار ہوتی لیکن انھوں نےکہا کہ اگر میں نہیں تو کوئی بھی نہیں انھوں نے پارٹی کو اپنے اوپر قربان کر دیا انتخابات کے بعد بھی اگر وہ پارٹی صدر میاں شہبازشریف کو اپنی مرضی کے ساتھ پارٹی چلانے دیتے تو یہ نوبت نہ پہنچتی لیکن انھوں نے اپنے بھائی کو استعمال کرتے ہوئے خود باہر چلے گئے جتنی دیر وہ اور ان کی بیٹی مریم نواز خاموش رہے معاملات احسن انداز سے آگے بڑھتے رہے لیکن جب انھوں نے پارٹی مشاورت کے بغیر ہی اے پی سی میں اپنی خواہشات کے زیر اثر طبل جنگ بجایا تو ان کی اپنی جماعت کے لوگ حیران تھے کہ میاں صاحب نے خودکشی کا اعلان کر دیا ہے میاں صاحب نے اپنے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کو بھی ڈبونے کا عہد کر لیا ہے ان حالات کو دیکھتے ہوئے میاں شہبازشریف نے چپکے سے جیل جانے میں ہی عافیت سمجھی اب قانونی طور پر صدر صاحب جیل میں خاموشی سے وقت گزار رہے ہیں جبکہ بغیر کسی اختیار کے میاں نوازشریف صاحب لندن سے پارٹی کو ہدایات جاری کر رہے ہیں مریم نواز صاحبہ ان پر عملدرآمد کروا رہی ہیں اور باقی سارے حکم کے غلام جانتے بوجھتے ہوئے بھی کنوئیں میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہیں پیپلز پارٹی نے اتنے خوبصورت طریقے سے میاں صاحب کو ٹریپ کیا ہے کہ داد دینے کو دل کرتا ہے وہ جماعت جس کو گرانے کے لیے زرداری صاحب نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا لیکن کچھ نہ کر سکے اب ایک جذباتی چال چل کر اسے ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر دیا ہے پیپلز پارٹی نے میاں نوازشریف کو جذباتی کر کے ان سے اے پی سی میں تقریر کروائی اوپر سے واہ واہ کرکے انھیں ہلہ شیری دی اور براہ راست اداروں سے لڑوا دیا اب پیپلز پارٹی خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے اور میاں صاحب نے اپنے سمیت جماعت کے اکابرین کے گلے میں بغاوت کا پھندا ڈلوا لیا ہے میاں صاحب اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی ایک مسلم لیگی ورکر نے کروایا ہے مسلم لیگی اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے اسے تمغہ سے تشبیہ دے رہے ہیں لیکن یہ بات وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس بیانیہ کے ساتھ پاکستان میں سیاست نہیں ہو سکتی آگے چل کر انھیں کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا وہ بخوبی جانتے ہیں مجھے تو ان دانشوروں اور جی حضوری کرنے والوں پر بھی حیرت ہوتی ہے جو خود کشی کی طرف بڑھتے ہوئے رستوں کو انقلابی راستے قرار دے رہے ہیں انھیں میاں صاحب کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے انھیں مشورہ دیں کہ آپ تو ڈوبے ہوئے ہیں کم از کم اپنی جماعت کو تو بچا لیں میاں صاحب اب بھی اپنے آپکو جماعتی فیصلوں سے علیحدہ کر کے شہبازشریف کو فری ہینڈ دیں اگر میاں نوازشریف اپنے موجودہ بیانیہ کے ذریعے آگے بڑھتے رہے تو وہ جماعت جسے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف بھی نہ توڑ سکی میاں صاحب کے ایکٹ کے باعث اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جائیں گی آج تو صرف 5ارکان اسمبلی میاں نوازشریف کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہےہیں اور انھیں مشورہ دے رہے ہیں کہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی درست نہیں پھر ان کے ہم خیالوں کی تعداد سووں میں بھی جاسکتی ہے