شہبازشریف کی گرفتاری اور اپوزیشن کی سیاست

بحث ہو رہی ہے کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے خود اپنی گرفتاری کا راستہ ہموار کیا ہے یا کیس اتنا مضبوط تھا کہ ان کی گرفتاری کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا یا پھر اپوزیشن کی احتجاجی کال کے باعث حکومت نے انھیں گرفتار کروایا دراصل میاں شہبازشریف کی گرفتاری کے تین پہلو ہیں ایک عدالتی پہلو ہے بظاہر ان کی گرفتاری عدالتی پہلو کے پیش نظر کی گئی ہے- نیب نے ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور ناجائز اثاثہ جات بنانے کا ریفرنس بنایا جس میں بعض وضاحت طلب معاملات پر نیب نے انھیں بلا کر سوالات پوچھے لیکن وہ نیب کو پکڑائی نہ دیے نہ ہی انھوں نے اپنے پروں پر پانی پڑھنے دیا جس کے بعد نیب نے انھیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ان کی گرفتاری کیلیے ان کے گھر چھاپہ مارا گیا لیکن وہ نیب ٹیم کو جل دے کر نکل گئے اور اگلے روز انھوں نے لاہور ہائی ہائی کورٹ سے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی جس میں توسیع ہوتی رہی اور کئی ماہ گزر گئے پچھلی تاریخ پر میاں صاحب کو معلوم ہو چکا تھا کہ ان کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی جس پر انھوں نے کہا کہ کیا میں اپنی درخواست واپس لے لوں عدالت نے کہا کہ آپ کی صوابدید ہے اگلی تاریخ پر میاں صاحب گرفتاری کے لیے تیار ہو کر آئے تھے- انھوں نے اپنی درخواست ضمانت واپس لے لی جس کا مطلب تھا کہ وہ اپنے آپکو تفتیش کے لیے قانون کے حوالے کرنا چاہتے ہیں فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا ہو گا کہ انھیں سیاسی مخالفت کی بنا پر یا اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کی وجہ سے گرفتار کیا گیا بے البتہ اس گرفتاری کا دوسرا پہلو کہ اس کے سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے تو اس گرفتاری کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے کیونکہ ایک طرف میاں شہبازشریف کی پالیسی کے برعکس میاں نوازشریف کا اعلان جنگ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک نے میاں شہباز کو بری طرح پھنسا دیا تھا اگر وہ کھل کر میاں نوازشریف کے بیانیہ پر لبیک کہتے ہوئے احتجاجی تحریک میں شامل ہو جاتے تو ان کی مفاہمانہ سیاست کا باب بند ہو جاتا - لہذا انھیں خاموش رہنا سوٹ کرتا ہے اب وہ جیل میں رہ کر اپنی پالیسی کو بچا سکتے ہیں دوسری جانب مریم نواز کے ذریعے نواز شریف اپنی جارحانہ سیاست کا ڈول ڈال کر دیکھ لیں گے اگر تو انھیں پذیرائی ملی اور وہ اداروں پر دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ ایک این آر او کی راہ نکالیں گے اور اگر وہ ناکام ہوئے تو میاں شہبازشریف دوبارہ جیل سے اپنا بوریا بستر جھاڑ کر رل مل بیٹھنے کا بیانیہ لے کر میدان میں اتریں گے لیکن میاں نوازشریف بڑا خطرناک کھیل کھیلنے جا رہے ہیں- جو انھیں ان کی جماعت کو ان کے خاندان کو زیرو بھی کر سکتا ہے اور اجارہ دار بھی بنا سکتا ہے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کیا اپوزیشن کی دوسری سیاسی جماعتیں میاں نوازشریف کی سیاست کو فالو کریں گی تو میرا خیال ہے کہ پی ڈی ایم میں بنیادی اختلاف پیدا ہو چکا ہے - میاں نوازشریف اداروں کے خلاف مزاحمت کرنا چاہ رہے ہیں جبکہ باقی جماعتیں حکومت کو ٹارگٹ کر رہی ہیں پیپلز پارٹی کی پوری کوشش ہے کہ میاں نوازشریف کو جذباتی کر کے ایسے بلنڈر کروائے جائیں کہ ان کی سیاست کا باب بند ہو جائے مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کا سوچا بھی نہ جائے اور انھیں کہیں ایڈجسٹ کر لیا جائے- پیپلزپارٹی پارٹی اپنے کیسز ختم کروا کر آصف علی زرداری اور پرانے بابوں کو وڈرا کروا کر اگلی باری کے لیے بلاول کو قابل قبول بنانا چاہتی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ میاں شہبازشریف اپنے بھائی میاں نوازشریف کو بیرون ملک لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے اور وہ طے شدہ معاملات کو فالو بھی کر رہے تھے لیکن انھیں ٹریپ کر کے پاکستان بلوایا گیا اور پھر ان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئیں- جس پر مسلم لیگ ن نے پینترا بدلا اب مسلم لیگ ن ایسا کھیل کھیل رہی ہے جو اس کی فطرت میں ہی شامل نہیں جس کے باعث جماعت کے اندر کافی حد تک اضطراب پایا جاتا ہے میاں فیملی مسلم لیگ کی سیاست کو اپنی فیملی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے جبکہ مستقل سیاست کرنے والے خاندان میاں نوازشریف کی پالیسیوں سے پریشان ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب مسلم لیگ کی سیاست کے راستے بند کر رہے ہیں- اگر میاں نوازشریف کی پالیسی اسی طرح غالب رہی تو مسلم لیگ ن کے اندر تقسیم پیدا ہو جائے گی مسلم لیگ ن کے اندر بہت سارے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میاں نوازشریف مسلم لیگ کو خود کشی کی طرف لے کر جا رہے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ تو لڑائی لڑی جا سکتی ہے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی درست نہیں اس سے محب وطن ووٹر ناراض ہو جائیگا اور ملک میں انتشار پھیلے گا جو کسی کے لیے بھی بہتر نہیں ہو گا-