برآمدی معیشت

پاکستان کا کاروباری شخص جب بھی بات کرتا ہے وہ حالات کی ستم ظریفی کا رونا روتا ہے درپیش مسائل کا ذکر کرتا ہے سرکاری اداروں کی بے جا مداخلت اور ٹیکسوں کی بھر مار کی بات کرتا ہے پاکستان کا معاشی استحکام کس طرح ممکن ہے کاروباری افراد کو کیا کرنا چاہیے حکومت کو کیا کرنا چاہیے اس بارے بہت کم بات ہوتی ہے چند روز قبل کاروباری قائدین کی ایک بیٹھک میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا جس میں خوشی ہوئی کہ ہماری بزنسمین کمیونٹی کی قیادت نوجوان لیڈر شپ کے پاس ہے جو بدلتے ہوئے عالمی حالات کاروبار کے جدید تقاضوں کو بھی سمجھتی ہے اور ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کا بھی ادراک رکھتی ہے لاہور چیمبر آف کامرس کا شمار پاکستان کے اہم اداروں میں ہوتا ہے جس کے نومنتخب صدر میاں طارق مصباح الرحمن معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے خاندان کا سماجی سٹیٹس بھی ہے لہذا ان سے بڑی توقعات ہیں فیروز پور روڈانڈسٹریل زون کے روح رواں اسد آر چوہدری نے اپنی رہائش گاہ پر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداروں اور فیروز پور روڈ انڈسٹریل زون کے بزنسمینوں کو ڈنر پر مدعو کیا لیکن یہ کھانے کی نشست کم اور پاکستان کو معاشی گرداب سے نکالنے کے لیے تجاویز اور حل کے لئے اقدامات کی نشست زیادہ تھی اسد آر چوہدری نے کہا کہ پاکستان اکانومی کو ایکسپورٹ لیڈ اکانومی بنانا پڑے گا ہمیں روائیتی تجارتی سرگرمیوں سے ہٹ کر کام کرنا ہو گا ہمیں نشاندہی کرنی چاہیے کہ ہم کن ممالک میں اپنی اشیاء بجھوا سکتے ہیں ہم کس مارکیٹ میں اپنے مال کی کھپت بڑھا سکتے ہیں انھوں نے کہا کہ خصوصی طور پر ہمیں افریقی ممالک کو ٹارگٹ کرنا چاہیے کیونکہ ان کی ضروریات بھی ہماری طرح کی ہیں جن ممالک کے ساتھ ہم تجارت بڑھا سکتے ہیں ان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں گرمجوشی پیدا کرنی چاہیے ان کے سفیروں کو اور کمرشل اتاشی کو بار بار لاہور چیمبر آف کامرس میں بلوایا جائے ان سے ریگولر بنیادوں پر رابطہ رکھا جائے ان ممالک میں اپنے سفارت کاروں کو متحرک کیا جائے ان ممالک میں گروپوں کی صورت میں تجارتی وفود بھیجے جائیں پاکستان کے سفارتخانے ان سے تعاون کریں کاروبار کی نئی عالمی منڈیاں تلاش کی جائیں  ان ممالک میں وئیر ہاوسز بنائے جائیں اور وہاں کے تقاضوں کے مطابق ان ممالک میں کمپنیاں بنا کر کاروبار کو وسعت دی جائے انھوں نے کہا کہ افریقی ممالک کی آبادی زیادہ ہے اور ان کی ضروریات پاکستان کی مارکیٹ سے ملتی جلتی ہیں انھوں نے کہا کہ ہمارے تاجر کا ذہن بن چکا ہے کہ چین سے سستا مال تیار کروایا جائے اور اسے سپلائی کر کے کام چلایا جائے اس ذہنیت سے پاکستان کی معیشت مذید گراوٹ کا شکار ہو جائے گی ہمیں یہ مائینڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ہمیں افریقی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ویزوں میں آسانی کے لیے لاہور چیمبر میں ان کے ڈراپ باکس بنوانے چاہیں تاکہ تاجر کو اسلام آباد نہ جانا پڑے انھوں نےکہا کہ اس وقت تاجروں کے پاس لیکویڈیٹی کیش کی بہت زیادہ کمی ہے ان کے لیے صعنت کاروں کو ان کے اثاثوں کے عوض آسان شرائط پر قرضوں کی راہ ہموار کی جائے  چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کو اپنی ذمہ داریاں تقیسم کر لینی چاہئیں مشلا صدر کو وفاقی حکومت وفاقی بیورو کریسی اور غیر ملکی سفارتکاروں سے رابطے رکھنے چاہئیں سنیر نائب صدر کو صوبائی بیوروکریسی اور سیاست دانوں سے رابطہ رکھنا چاہیے نائب صدر کو بینکوں سے رابطے رکھیں چیمبر کی قائمہ کمیٹیاں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ سال چیمبر کے صدر کے لیے مشکل ترین سال ہو گا کیونکہ کرونا وبا کی وجہ سے جی ڈی پی کا منفی میں جانا مہنگائی کا ڈبل ڈیجٹ میں ہونا مڈل کلاس کا سکڑنا 50فیصد آبادی کا خطہ غربت سے نیچے جانا روپے کا ڈی ویلیو ہونا اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کے ہوتے ہوۓ نئے صدر کے لیے بڑا چیلنج ہے دوسری جانب تاجروں اور صعنت کاروں کے مسائل ہیں جن میں پیداواری اخراجات میں اضافہ بلنگ اور ٹیکسوں کی بھر مار ہے ایسے میں صرف ایکسپورٹ ہی ہماری معیشت کو سہارا دے سکتی ہے اور ہم سب کے مسائل کا حل ہے ہماری معیشت 72 سالوں میں صرف 20 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کرنے کے قابل ہوئی ہے جبکہ بنگلہ دیش کی معیشت اگلے سال 50 سال پورے ہونے پر 50 ارب ڈالر کا ٹارگٹ پورا کر لے گی ہمیں یہ بات ہر کسی کو سمجھانی چاہیے کہ پاکستانی معاشرے کی بقا ایکسپورٹ میں ہے ہمارے چیمبر کو ایکسپورٹ پرموشن بیورو کی طرح سوچنا چاہیے لاہور چیمبر کے صدر نے سفارشات کو سراہتے ہوئے اس سال کو ایکسپورٹ کا سال قرار دیا اور کہا کہ ہم بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے مجھے یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ میرے دیرینہ دوست رانا مسعود حیدر اور چھوٹے بھائیوں کی طرح میاں رزاق فیروزپور روڈ کے صعنت کاروں میں اہم مقام رکھتے ہیں اور بہت متحرک ہیں اس موقع پر سنیر نائب صدر ناصر حمید سابق صدر فاروق افتخار سابق نائب صدر میاں وقار میاں زاہد جاوید علی حسام ذیشان خلیل ملک ریاض اقبال طاہر رزاق ابراہیم  شاہد نذیر چوہدری اور زمان چوہدری بھی موجود تھے۔