امریکہ کی نئی چالیں

امریکہ نے بالآخر مسلمانوں کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے اپنا آپ بچانا بہت مشکل ہو گیا ہے امریکہ بڑی دیر سے اسلامی ملکوں خاص کر عرب ممالک کے پیچھے پڑا ہوا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے کسی زمانے میں مسلمان یہ لفظ سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے امریکہ کی تمام حکومتوں کی اسرائیل کو جائز قرار دلوانے کی پالیسی رہی ہے. امریکہ کی سیاسی جماعتوں ان کے تھنک ٹینک، فیصلہ ساز اداروں، حکمت کاروں، معاشی اصلاح کاروں میں اسرائیل کی بہت مضبوط لابی ہے اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ کا دماغ اسرائیلیوں کے ہاتھوں میں ہے تو بے جا نہ ہو گا.
 
 

ان کی کئی دہائیوں کی کوششیں بالآخر رنگ لے آئیں اور اب ان لوگوں کو بھی سمجھ آگئی ہو گئی جو کہتے تھے ٹرمپ کیسے امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا جنھوں نے انھیں منتخب کروایا تھا انھوں نے اپنا کام کروالیا ہے یہ ٹائمنگ بڑی اہم ہے اور امریکہ ایک تیر سے بیک وقت کئی شکار کرنا چاہتا ہے چونکہ امریکہ میں الیکشن ہونے والے ہیں ٹرمپ کو اس کا بڑا فائدہ ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ یہ کارنامہ ٹرمپ کو الیکشن جتوانے میں مددگار ثابت ہو کیونکہ اسرائیلی لابی اور فنانس امریکی الیکشن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں.

دوسرا یہ کہ امریکہ عالم اسلام کو مزید تقسیم کرنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے وہ پہلے ہی مسلمان ملکوں کو مختلف معاملات میں الجھا کر لڑوا رہا تھا اب ایک ایسا بیج بو دیا گیا ہے جس سے نہ صرف اسلامی ممالک کی آپس میں تفریق بڑھے گی بلکہ جن ملکوں نے بادل ناخواستہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے وہاں کے عوام بھی تقسیم ہو جائیں گے اور وہ اپنی حکومتوں کے خلاف نفرت کا اظہار کریں گے. عالم اسلام میں تقسیم کی ایک نئی جنگ شروع ہونے والی ہے جس کا نقصان کسی اور کو نہیں مسلمانوں کو ہی ہو گا اسرائیل اپنے وجود کو تسلیم کرنیوالے والے اسلامی ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھائے گا اور وہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑوائے گا چونکہ اس وقت دنیا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں دنیا نئے بلاکس میں تقسیم ہونے کی طرف جا رہی ہے بڑی طاقتوں میں سرد جنگ عروج پکڑ رہی ہے اور بڑی طاقتیں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے چھوٹے ممالک کو اپنی سرد جنگ کا ایندھن بنانا چاہتی ہیں . جہاں تک تعلق ہے پاکستان کا تو پاکستان کسی صورت بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریگا اور نہ ہی اس حوالے سے پاکستان پر زیادہ دباؤ ڈالا جائیگا لیکن اس پر پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی تقسیم ضرور سامنے آئے گی اسرائیل کو تسلیم کروانے کے حوالے سے امریکہ کا ٹارگٹ صرف عرب ممالک ہیں چونکہ اب امریکہ پاکستان کو سعودی عرب کے ذریعے ڈیل کرتا تھا تو لازمی بات ہے کہ پاک سعودی تعلقات پر بھی اس کا اثر پڑیگا اوپر سے پاکستان کی سابقہ حکومت نے یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب اور یو اے ای کو فوج دینے سے انکار کر دیا تھا جس کا برا محسوس کیا گیا اور اس کے بعد انڈیا کا عرب ممالک میں اثر و رسوخ بڑھ گیا. اب انڈیا عرب ممالک میں سیکیورٹی کے معاملات کے حوالے سے اپنی خدمات پیش کر رہاہے جو پاکستان کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں چونکہ عالمی سیاست میں پاکستان اس وقت دونوں بڑی کشتیوں کا سوار ہے . امریکہ اپنے اثرورسوخ اور مختلف معاملات کی وجہ سے پاکستان کی جان نہیں چھوڑنا چاہتا جبکہ دوسری طرف چین کے ساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے لیکن حالات ایسے ہیں کہ پاکستان مکمل طور پر کسی ایک پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں پاکستان کے اردگرد میں چین اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے جس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا جس طرح ایران بنگلہ دیش نیپال سری لنکا اور افغانستان میں پاکستان کا کردار چین کی وجہ سے بڑھ رہا ہے تو امریکہ نے مڈل ایسٹ میں بھارت کو نیا کردار دلوا دیا ہے جو ایک نئی تقسیم کا پیش خیمہ ہے . بظاہر یوں لگتا ہے کہ چین روس ترکی پاکستان ایران جنوبی ایشیا کے بعض چھوٹے ممالک اور افریقہ کے کچھ ممالک پر مشتمل ایک نیابلاک معرض وجود میں آرہا ہے چین کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح یورپ کو امریکی اثرورسوخ سے نکال کر اپنے ساتھ ملا لے یا کم از کم یورپ کو تقسیم کر دیا جائے امریکہ کا یورپ سے مکمل ہولڈ ختم کر دیا جائے چین اس حوالے سے کئی یورپین ممالک کو اپنا بزنس پارٹنر بنانے کے لیے تیار ہے.