یوم آزادی اور سیاحت

اللہ تعالی نے ہر چیز متاثر کن بنائی ہے ہر چیز انسان کو دعوت دیتی ہے کہ اس پر غور کیا جائے اس بار ہم نے یوم آزادی گلگت بلتستان میں منایا جو کہ عجوبوں کی سر زمین ہے قدم قدم پر عجائب انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں. کہیں حد سے زیادہ اونچے پہاڑ جنھیں دیکھتے ہوئے نظر تھک جائے کہیں اتنی گہری کھائیاں کہ اس کی گہرائی دیکھتے خوف آنے لگے کہیں سرسبز پہاڑ میڈوز اپنے دلکش منظر پیش کرتے ہیں تو کہیں آبشاریں جیھلیں اپنی خوبصورتی کے رنگ بکھیرتی ہیں کہیں منہ زور دریا اور پتھروں سے سر پٹختا ہوا پانی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے کہیں خشک پہاڑ اپنی وحشت بکھیرے ہوئے ہیں اور کہیں برف پوش چوٹیاں اپنی رعنائیاں بکھیر رہی ہیں کہیں خوبصورت درخت اور سبزہ اپنی طرف کھینچتا ہے تو کہیں لینڈ سکیپنگ کے مناظر اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں . پاکستان کے اس حصے کو قدرت نے انمول تحفوں سے نواز رکھا ہے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو یہاں واقع ہے تین بلند ترین دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں اسی طرح دنیا کے تین بڑے گلیشیئر کے ٹو، نانگا پربت، اور راکا پوشی بھی یہیں پر ہیں دنیا بھر کے مہم جو یہ جوٹیاں سر کرنے یہاں آتے ہیں. ایک طرف خون جما دینے والے گلیشیئر ہیں تو دوسری طرف چلاس کے علاقے میں جلد جھلسا دینے والا صحرا بھی موجود ہیں یہ خطہ قیمتی دھاتیں، انمول پتھر، نایاب جڑی بوٹیوں اور منرلز کا خزانہ ہے سات ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سینکڑوں جھیلیں آبشاریں باغات سیاحوں کو اپنے نظاروں کی دعوت دیتی ہیں ۔
 
 

سب سے بڑھ کر یہ خطہ ہمارے عظیم دوست چین سے ہمیں ملاتا ہے اس لیے اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے پاکستان کی کایا پلٹنے والا سی پیک روٹ یہیں سے شروع ہوتا ہے اس لیے یہ حساس ترین علاقہ ہے یہاں کے لوگ بڑے محب وطن امن پسند اور محبت کرنے والے ہیں .

پاکستان میں سب سے کم کرائم ریٹ اس علاقے کا ہے چوری نہ ہونے کے برابر ہے اور شرح خواندگی سب سے زیادہ 90 فیصد ہے پورے گلگت بلتستان میں 24 گھنٹے ٹریولنگ کی جا سکتی ہے . یہاں کے لوگوں نے خود جنگ لڑ کر اپنے آپکو آزاد کروایا اور پاکستان میں شامل ہوئے پاکستان کے دشمن خصوصی طور پر بھارت اس علاقے کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہے وہ یہاں دہشت گردی اور فرقہ واریت کا بیج بو کر یہاں کے حالات خراب کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے بھاری سرمایہ لگا رہا ہے. لیکن داد دیں پاکستان کی عظیم فوج کو جنھوں نے دشمن کی دال نہیں گلنے دی اس علاقے کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر افواج پاکستان نے خصوصی اقدامات کر رکھے ہیں جن کو بغور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا قانون نافذ کرنے والے اداروں فوج اور محب وطن مقامی افراد دشمن کی درجنوں چالیں ناکام بنا چکے ہیں. جس کی بدولت آج بھی یہ علاقہ پاکستان کا محفوظ ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے انتظامیہ نے بھی علاقے کو پرامن رکھنے میں دن رات ایک کر رکھا ہے جہاں تک بات ہے ان علاقوں کی سیاحت کی تو میرے خیال میں پاکستانی سیاحوں کو بیرون ملک جانے کی بجائے گلگت بلتستان ایک بار ضرور جانا چاہیے لیکن یہاں سیاحوں کی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا خاص طور پر اس کیلیے حکومت کو سفر کی آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی. مقامی لوگوں کو روزگار دینا ہوگا جھیلوں اور وادیوں تک راستوں کو تعمیر کرنا ہوگا یہاں ایک اچھے اور بڑے ایئرپورٹ کی ضرورت ہے سیاحتی مقامات کی ملکی وبین الاقوامی سطح پر تشہیر کرنی چاہیے ہمارے گلگت بلتستان کے وزٹ کے اسباب پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ نے پیدا کیے اور ہم سیاحت کے دلداہ نکل کھڑے ہوئے یہ تنظیم اپنے پلیٹ فارم سے مختلف طبقات کو جوڑنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں اورصحافیوں کے اندرون اور بیرون ملک درجنوں ٹور کروا چکے ہیں جس سے نہ صرف یکجہتی کو فروغ حاصل ہوتا ہے بلکہ معاملات کو سمجھنے اور مشاہدہ کے ساتھ ساتھ بہترین تفریح کا بھی سبب بنتا ہے . ہمارے اس ٹور میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر حنا خالد، ڈپٹی سیکرٹری توانائی پنجاب محمد آصف اقبال، اینکر پرسن عمر حسین چوہدری، قرات العین عینی ،مہرین فاطمہ، لیلہ، دعا شاہ، عبدالوحید، شہباز افضل، اور فوٹوگرافر طارق شامل تھے. ہم نے ناران، کاغان سے لے کر گلگت بلتستان کی سڑکوں پر لوگوں کو جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی مناتے دیکھا جو کہ ایک زندہ قوم کی دلیل ہے اور ثابت کرتی ہے کہ ہم ایک ہیں جس طرح ہم نے لوگوں کو اپنی گاڑیوں پر پاکستانی پرچم کے ساتھ سیاحتی مقامات پر جشن آزادی مناتے دیکھا ایسے لگ رہا تھا جیسے یوم آزادی اور یوم سیاحت ایک ساتھ منایا جا رہا ہے لوگ ویسے بھی کرونا کے باعث قید ہو کر رہ گئے تھے یوم آزادی پر اتنا رش تھا کہ ناران کاغان اور بابو سر ٹاپ میں تو ٹریفک جام ہو گئی.