بزدار قابل قبول کیسے ہو گئے

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے بارے میں چند روز قبل تک یہ کہا جا رہا تھا صبح گیا یا شام گیا ہم اس وقت بھی کہہ رہے تھے کہ پنجاب کو بزدار کے ساتھ ہی رہنا ہے لیکن ایسی ایسی تاویلیں دی جارہی تھیں کہ شاید وزیراعلی کی تبدیلی کا فیصلہ ہو چکاہے - بس اب عملدرآمد باقی ہے لیکن اب اچانک یہ کیا ہوا کہ ریورس گیر لگ گیا وہی لوگ جو کہہ رہے تھے کہ چند گھنٹوں اور دنوں کی بات رہ گئی ہے وہ اب عثمان خان بزدار کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ عثمان خان بزدار کہنے کی بجائے کر کے دکھانے پر توجہ دیتے ہیں- اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ عثمان خان بزدار اب کہیں نہیں جا رہے اس لیے فضول کی راگنی کا کوئی فائدہ نہیں لہذا انھوں نے اب تبدیلی سے دستبرداری اختیار کر لی ہے- البتہ وزیراعلی پنجاب کے حوصلہ کو داد دینی چاہئے جو اپنے بارے ہر وقت تبدیلی کی باتیں سننے کے باوجود ڈٹے رہے اور انھوں نے اپنے کام سے کام رکھا یوں لگتا ہے کہ انھوں نے خاموشی کے ساتھ پہلے اپنے اوپر تنقید کو برداشت کیا اور اقتدار کے رموز و اوقاف کو سمجھنے پر توجہ دی اپنے کام سے کام رکھا اور جب اپنے کام لوگوں کے سامنے رکھے تو کوئی بھی اس کی توقع نہیں کررہا تھا- وزیراعلی پنجاب نے اپنی 2سالہ کارکردگی سامنے رکھی تو اب اس کے حق اور مخالفت میں باتیں کی جا رہی ہیں لیکن کم از کم اب یکطرفہ ٹریک نہیں رہا مجھے گذشتہ روز استاد محترم حسن نثار صاحب کی رہائش گاہ ہانسی ہاؤس میں ان سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا انھوں نے بتایا کہ چند روز قبل وزیراعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار ان کی رہائش گاہ پر آئے تھے- ان کا کہنا تھا کہ عثمان خان بزدار واقعی ہی معصوم آدمی ہے لیکن وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا بندہ ہے جو کام انھوں نے کیے ہیں ان سے کوئی انکار کیسے کر سکتا ہے میں نے عرض کیا کہ سوئے ہوئے بچے کا منہ چومنا نہ ماں پر احسان نہ باپ پر یہاں لوگوں کو بتانا پڑتا ہے بار بار گنوانا پڑتا ہے وزیراعلی کو چاہیے کہ وہ میڈیا فرینڈلی بننے کی کوشش کریں- میڈیا کے لوگوں سے راہ ورسم بڑھائیں تاکہ ان کے کیے جانے والے کاموں کے بارے میں لوگوں کو پتہ چل سکے آئندہ کے منصوبوں بارے آگاہی حاصل ہو وزیراعلی نے اپنی 2سالہ کارکردگی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے منصوبوں بارے بھی بتایا- حکومت جنوبی پنجاب کو مکمل طور پر علیحدہ صوبہ بنانے میں کامیاب تو نہ ہوسکی کیونکہ آئین میں موجود تقاضے پورے کرنے موجودہ حکومت کے بس میں نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ حکومت نے انتظامی طور صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے- جنوبی پنجاب کیلیے علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے وہاں انتظامی سیکرٹریوں کو تعینات بھی کر دیا گیا ہے جس سے جنوبی پنجاب کے تمام معاملات کو وہیں پر نمٹایا جائیگا پنجاب میں بہت بڑی تعداد میں سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جا رہا ہے پرائمری سکولوں سے لے کر کالج اور یونیورسٹیاں بنائی جا رہی ہیں -بڑے پیمانے پر نئے صنعتی زونز بنائے جا رہے ہیں لاہوریوں کے لیے خوشخبری ہے کہ اورنج لائن ٹرین بھی اگلے ماہ سے ٹریک پر دوڑنا شروع ہو جائے گی لیکن دریائے راوی پر نئے شہر کا منصوبہ ابھی صرف خواب ہے ایسے منصوبے لانگ ٹرم ہوتے ہیں- ان کی تکمیل کے لیے بڑا وقت درکار ہے ہم بے صبرے لوگ ہیں ہم کہتے ہیں کہ صبح اٹھیں تو نئے شہر آباد ہو چکے ہوں البتہ وزیراعلی کو چاہیے کہ وہ انتظامی افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ پر ہتھ ہولا رکھیں ایک دفعہ اپنی انتظامی ٹیم بنا کر پھر ان سے رزلٹ حاصل کریں بار بار کی تبدیلیوں سے غیر یقینی پیدا ہوتی ہے-