جنوبی ایشیا میں تبدیلیاں

دنیا ایک بار پھر بڑی تبدیلیوں کے دہانے پر کھڑی ہے اور اس بار تبدیلیوں کا مرکز جنوبی ایشیا ہے امریکہ، یورپ اور دیگر مغربی ممالک کبھی اس خطے کو کسی خاطر میں نہیں لاتے تھے آج پوری دنیا کی سیاست اس خطے میں سمٹ آئی ہے آنے والے دنوں میں اس خطے کی بالادستی عالمی بالا دستی تصور کی جائے گی. تجارتی مخاصمت سے شروع ہونے والی سرد جنگ اب گرم جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے امریکہ کو اپنی عالمی بالا دستی ڈگمگاتی نظر آرہی ہے اور وہ اب سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر طاقت کے زور پر اور جنگیں مسلط کر کے دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھے گا.
 
 

 

لیکن اس کے پاوں تلے سے زمین اس وقت سرکنا شروع ہو گئی جب چین غیر محسوس طریقے سے دنیا پر غلبہ پانے لگا وہ لوگوں کو اپنا بزنس پارٹنر بنا کر معاشی طاقت بن گیا آج دنیا کی آدھی تجارت پر چین کا قبضہ ہو چکا ہے ٹیکنالوجی میں بھی وہ پوری دنیا کا مقابلہ کر رہا بلکہ آئی ٹی میں وہ ایسی ٹیکنالوجی لے کر آرہا ہے. جس کے بعد پوری دنیا کے کمپیوٹر اور آلات کباڑ کی حیثیت سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے یہ بغیر جنگ لڑے چین کی پوری دنیا پر بالادستی کا خواب ہے اسی وجہ سے امریکہ کی جان کو لالے پڑے ہوئے ہیں. دوسری جانب چین دنیا کے مواصلاتی رابطوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، سمندری گزرگاہوں، زمینی راستوں، ریل، اور ائیر سپیس کے ذریعے دنیا کو واقعی ایک حقیقی گلوبل ویلج بنانا چاہتا ہے اس سلسلہ میں وہ افریقہ کو قابو کر چکا ہے. جنوبی ایشیا کے ملکوں سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، بنگلہ دیش، ایران، روس اور ترکی کو اپنا گرویدہ کر چکا ہے پاکستان روز اول سے چین کا قابل اعتماد دوست ہے لیکن پاکستان چونکہ عالمی سیاست کا اس خطے میں اہم مہرہ رہا ہے امریکہ کے ساتھ لمبا عرصہ کام کرتے کرتے امریکہ نے ہمیں پوری طرح جھکڑ کر رکھا ہوا ہے. ہمارے پاؤں میں مختلف قسم کی بیڑیاں پہنا رکھی ہیں پاکستان اپنی تمام تر بین الاقوامی مجبوریوں کے چین کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے اس خطے میں امریکہ نے چین کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کے لیے انڈیا کو تیار کیا تھا جو چین کے لیے خطرہ بننے کی بجائے پاکستان کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا تھا لیکن چین نے ایسے خوبصورت طریقے سے انڈیا کا پتہ صاف کیا ہے کہ کوئی جنگ لڑے بغیر بھارت کی بقا خطرے میں پڑ چکی ہے اوپر سے بھارتی وزیر اعظم نریندررمودی کی انتہا پسند پالیسیوں نے وہ کام کر دکھایا ہے جو دشمن ارب ہا ڈالر خرچ کر کے نہیں کر سکتا تھا. مودی کی انتہا پسندی نے بھارتی معاشرے کو بری طرح تقسیم کر دیا ہے اور نفرت کا ایسا بیج بو دیا ہے جسے کئی دہائیوں تک کنٹرول نہیں کیا جا سکے گا اوپر سے مودی نے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی سٹیسٹس کو ختم کر کے چین کو بھی مسئلہ کشمیر کا حصہ بنا دیا ہے لداخ میں چینی افواج کی کارروائی اسی کا شاخسانہ تھا اب چینی ایکشن سے پاکستان کی سیاچین، گلگت بلتستان میں پوزیشن زیادہ مضبوط ہو گئی ہے. چین کی خطے میں خوشحالی کی پالیسی نے بھارت کو تنہا کر دیا ہے آج بھارت کے ہمسایہ ممالک اپنے اصلی والے نئے نقشے سامنے لا رہیہیں بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں بھارت خطے میں اکیلا رہ گیا ہے اور جس دن افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کا انخلاء ہو گیا اس دن مکمل بازی پلٹ جائے گی چین کی کوشش ہو گی کہ وہ افغانستان کی نئی حکومت پر امن کے لیے سرمایہ کاری کرے تاکہ افغانستان میں امن قائم کر کے تجارتی مقاصد کو ایشیائی ریاستوں تک بڑھایا جائے. خطے کے دو ممالک ایران اور بنگلہ دیش کا بھارت سے منہ موڑنا بہت بڑی تبدیلی ہے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان نے بھی اپنی خارجہ پالیسی میں جارحانہ انداز اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں اپنا حصہ قرار دینا اسی پالیسی کا حصہ ہے 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد پورا سال دنیا میں مسئلہ کشمیر تسلسل کے ساتھ زیر بحث رہا اور 5اگست پر پاکستان کی جانب سے یوم استحصال نے دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں. دراصل بھارت پچھلے سال کشمیر کا سٹیٹس ختم کر کے خود ہی مسئلہ کشمیر کو حل کی طرف لے گیا ہے امریکہ جس کے جنوبی ایشیا میں بہت زیادہ مفادات تھے اب بدلتی ہوئی صورتحال میں شدید پریشانی میں مبتلا ہے اور وہ بھارت سے بھی سخت مایوس ہو چکا ہے. ایسے حالات میں پاکستان کو نئے طریقوں سے گھیرا جا رہا ہے ایک طرف پاکستان کے اندرونی حالات خراب کرکے گیم الٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں سیاسی قوتوں کو آپس میں لڑانے، اداروں کے درمیان محاذآرائی پیدا کرنے، معاشی نا ہمواری پیدا کر کے دہشت گردی کو ہوا دے کر بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے پاکستان کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن پاکستان نے اگر یہاں ہوشمندی کے ساتھ کام لیا اور بروقت فیصلے کیے تو پاکستان روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے .