یونیورسٹیوں کے خلاف سازش

نچلی سطح کی تعلیم صرف لکھنا پڑھنا سیکھاتی ہے جبکہ اعلی تعلیم تحقیق، شعور اور ترقی کے راستے کھولتی ہے دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس نے اعلی تعلیم کے بغیر ترقی کی ہواور یہ بھی ایک مستند حقیقت ہے کہ جو لوگ متعلقہ فیلڈ کے پروفیشنل سرانجام دے سکتے ہیں وہ کوئی انتظامی افسر، سیاستدان یا جج نہیں کر سکتا ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ایک دوسرے کے معاملات میں بے جا مداخلت بہت زیادہ ہے بااثر اور بالادست طبقات ہر چیز کو اپنے تابع کرنا چاہتے ہیں .
 
 

 

اختیارات اور مداخلت کی اس جنگ نے پاکستان کے اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے آج ہم جن تباہ حال اداروں کا رونا رو رہے ہیں جن کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہو چکی جو سفید ہاتھی بن کر اس ملک کے وسائل ہڑپ کر رہے ہیں جن کا خسارہ پورا کرنے کے لیے ہم غریب عوام کا پیٹ کاٹ کر ان کے اللے تللے پورے کر رہے ہیں ان کی تباہی بربادی پر اگر غور کیا جائے تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ان اداروں میں پروفیشنلز کی جگہ من پسند افراد کو نوازنے سیاسی حکمرانوں اور بیوروکریسی کی بیجا مداخلت رہی . ان کی خود مختاری ختم کرکے وہاں من مانی پالیسیاں اختیار کی گیں جن کا خمیازہ آج پورا پاکستان بھگت رہا ہے اور یہ ادارے پاکستان کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق 2018،19میں ان ملکی اداروں کا مجموعی خسارہ 1622 ارب تک پہنچ گیا ہے جن میں بجلی کی ترسیلی کمپنیوں کا خسارہ 120 ارب ریلوے کا 40 ارب 70کروڑ این ایچ اے کا 133 ارب 48کروڑ پی آئی اے 39 ارب 50کروڑ اور سٹیل مل کا خسارہ 14 ارب 85کروڑ ہے ان تمام اداروں کا اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو ایک بات ہی سمجھ آتی ہے کہ ان اداروں میں میرٹ کے خلاف بھرتیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال اور غیر متعلقہ لوگوں کو ان اداروں کا سربراہ بنانا تھا. قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں لیکن ہم بار بار غلطیوں کو دوہرانے کی مشق کرتے ہیں بلکہ یہاں کا باوا آدم ہی نرالہ ہے ہم اچھے بھلے چلتے اداروں جن کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور وہ مزید بہتری کی طرف جا رہے ہوتے ہیں وہاں بھی نت نئے بے جا تجربے کر کے ان کو ڈگر سے ہٹا دیتے ہیں پاکستان میں بڑی مشکل سے جامعات میں بہتری آئی تھی اور بامقصد تعلیم کے حوالے سے ٹریک پر چڑھے ہی تھے اور پاکستان کی جامعات عالمی سطح پر اپنا امیج بہتر بنانے کی پوزیشن میں آرہی تھیں اس کی بنیادی وجہ جامعات میں سخت میرٹ کے ذریعے وائس چانسلرز کی تعیناتیاں اور پروفیشنلز کی انتظامی امور پر دسترس تھی لیکن شاید ہمیں عادت ہے کہ ہم اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے سے باز نہیں آتے جامعات کی سنڈیکیٹ کی سربراہی بیورو کریٹس اور ریٹائرڈ ججز کے سپرد کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جو کہ قدیمی درسگاہوں کی روایات کو متاثر کرنے کی کوشش ہے 1882 میں قائم ہونے والی پنجاب یونیورسٹی کے قیام کے وقت اس میں کوئی حکومتی مداخلت نہیں تھی پھر 1973 کے ایکٹ کے ذریعے بہت ساری ترامیم کی گیں اور آج تک اس کے تحت یونیورسٹی چلائی جا رہی ہے. موجودہ صورتحال میں وائس چانسلر سنڈیکیٹ ایگزیکٹو باڈی کے چیئرمین ہیں اس باڈی میں تین نمائندے گورنر نامزد کرتا ہے جس میں ایک اسلامی سکالر ایک جنرل سکالر اور ایک خاتون ممبر ہوتی ہے ایک سپیکر پنجاب اسمبلی نامزد کرتاہے سیکرٹری فنانس اور سیکرٹری تعلیم ممبر ہوتے ایک ممبر چیف جسٹس ہائی کورٹ نامزد کرتے ہیں جو ہائیکورٹ کے جسٹس ہوتے ہیں چار پروفیسر ممبر ہوتے ہیں ان تمام ممبران کی موجودگی میں وائس چانسلر کیا من مانی کر سکتے ہیں اور پھر تمام تر فیصلے گورنر جو کہ یونیورسٹی کے چانسلر ہیں کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوتے ہیں. مجوزہ ترمیمی ایکٹ میں سنڈیکیٹ کی سربراہی وزیراعلی کی نامزدگی پربیورو کریٹ یا ریٹائرڈ جج صاحب کو دی جائے گی جو استاد کی تعظیم کم کرنے اور وائس چانسلر کے متوازی سیٹ اپ لانے کی تیاری ہے اس مجوزہ آرڈیننس میں وائس چانسلر کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہو سکے گی اور وائس چانسلر سال میں دو بار ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنا آڈٹ کروائیں گے . دنیا کی جتنی قدیم درس گاہیں ہیں سب خود مختار ہیں پنجاب یونیورسٹی جو کہ پاکستان کی قدیم درس گاہ ہے کی روایات کو متاثر کرنے پر یونیورسٹی کی ایلومنائی کو بھی شدید تشویش ہے ایلومنائی کے روح رواں راجہ منور کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت یونیورسٹی کے تشخص پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور مجوزہ ترمیمی بل کے خلاف تحریک چلائیں گے پنجاب حکومت کو ترمیمی بل واپس لے کر تعلیم دوستی کا ثبوت دینا چاہئے پاکستان کے دانشور طبقہ کو بھی اس پر آواز اٹھانی چاہیے.