سیاسی خلاء

عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ دے کر حق حکمرانی اس لیے دیا تھا کہ لوگ دو جماعتوں کی سیاسی اجارہ داری سے تنگ آ چکے تھے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ دونوں جماعتیں آپس میں مل کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں اور عوامی مسائل پر توجہ اس لیے نہیں دی جاتی کہ انھیں سیاسی کھیل سے آوٹ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں دونوں جماعتوں نے باریاں لگائی ہوئی ہیں لہذا قوم نے تیسری سیاسی قوت کو آزمانے کا فیصلہ کیا اب صورتحال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادتیں کرپشن، ناجائز اثاثے بنانے اور ملکی خزانہ لوٹنے سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں.
 
 

 

حکومت جسے عوام اپنے دکھوں کے مداوا کے لیے لے کر آئے تھے وہ چل نہیں رہی بلکہ رینک رہی ہے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور امیدوں کے چراغوں کی روشنی مدھم ہوتی جارہی ہے ایسے میں تھرڈ آپشن والا فارمولا عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر پا رہا نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی خلاء پر ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے لوگ سوچ رہے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوتی ہے تو کون آئے گا کیا عوام کو دوبارہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی پر اکتفا کرنا پڑے گا یا سیاسی لیب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے بانگڑو اکھٹے کر کے کوئی نیا مکسچر تیار کیا جائے گا ان میں کچھ ناامید لوگ یہ سوچ بھی رکھتے ہیں کہ چونکہ موجودہ پارلیمانی نظام ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو چکا ہے عوام نے ہرقسم کی سیاسی جماعتوں کو آزما کر دیکھ لیا ہے یہ نظام ہمارے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے صدارتی نظام کی طرف جایا جائے . کچھ لوگ خالص ٹیکنوکریٹس کے سیٹ اپ کی بات کرتے ہیں قصہ مختصر یہ کہ پاکستان میں سیاسی نظام مضبوط ہونے کی بجائے مزید کمزور ہو چکا ہے عوام اب سمجھ رہے ہیں کہ کچھ اور ہونے والا ہے کمزور سے کمزور حکومتیں بھی یہ تاثر برقرار رکھتی ہیں کہ کچھ نہیں ہونے والا لیکن حکومت کے کل پرزے حکومتی جماعت میں اختلافات اور وقت کم رہ گیا کی باتیں کرتے ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے. دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعتیں ایک دفعہ پھر انگڑائی لے رہی ہیں قبل ازیں بھی ایک بار اتحادی جماعتوں نے سر اٹھایا تھا لیکن اس وقت جہانگیر ترین اور پرویز خٹک انھیں مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن جو وعدے ان سے کیے گئے تھے ان پر مکمل عمل نہیں ہو سکا اب معاملہ بلوچستان سے شروع ہوا ہے جو بڑا حساس صوبہ ہے وہاں کی اتحادی جماعتوں نے حکومت سے علیحدگی کی باتیں شروع کر دی ہیں عطا اللہ مینگل نے تو طبل جنگ بجا دیا ہے شاہ زین بگٹی ان کی تقلید میں آرہے ہیں. شاہ زین بگٹی نے تو اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف کی مزاج پرسی کے لیے انھیں فون بھی کیا ہے ہو سکتا ہے کہ یہ فون انھوں نے ان کا حال احوال پوچھنے کے لیے کیا ہو لیکن سیاست میں ان رابطوں کا مطلب کچھ سے کچھ لیا جاتا ہے اسی طرح مولانا فضل الرحمن کی مینگل سے ملاقات اور مولانا کی حکومت کے خلاف تازہ بھڑک بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی ٹیم ان اتحادیوں کو کچھ لے دے کر مطمئن کر پاتی ہے یا نہیں. کیونکہ آج کل فنڈز کی تقسیم کا بھی موسم ہیبجٹ کے موقع پر اکثر اتحادی اپنی اہمیت جگانے اور اپنے فنڈز بڑھانے کے لیے بھی ایسے حربے استعمال کرنے ہیں اگر معاملہ فنڈز کی بجائے کچھ اور نکلا تو حکومت کے لیے مشکل وقت شروع ہو جائیگا پھر معاملہ وہاں تک نہیں رکے گا باقی اتحادیوں کے مطالبات بڑھیں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق،مسلم لیگ فنگشنل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے. اگر باقی کی اتحادی جماعتیں بھی مینگل اور بگٹی کی تقلید میں اپنے مطالبات کے حق میں سٹینڈ لے لیتی ہیں تو حکومت مشکل میں آجائے گی اور اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کہیں تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کا امکان کم ہے البتہ اگر اتحادیوں اور اپوزیشن نے زیادہ تنگ کیا تو عمران خان سرنڈر کرنے کی بجائے اسمبلی توڑ دیں گے . پھر فیصلہ کیا جائیگا کہ ملک میں نئے الیکشن کروانے ہیں یا کوئی اور سیٹ اپ لے کر آنا ہے بہرحال 2020 بڑا اہم سال ہے ابھی تو کرونا کی چادر نے تمام تر معاملات کو چھپا رکھا ہے کرونا کی وبا تھمتھے ہی نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آئیں گی . یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کرونا میں مبتلا ہونے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا میاں شہبازشریف کو فون چین کی جانب سے انھیں علاج کی پیشکش کو مسلم لیگی حلقوں میں کچھ اور رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ آرمی چیف نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر میاں نوازشریف کو فون کیا تھا یہ ہماری سماجی روایات ہیں انھیں سیاسی آلودگی سے بچانا چاہیے البتہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنے آپ کو تھوڑا سوشل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست میں لوگوں کی غمی خوشی میں جانا بہت ضروری ہے.