جنرل عاصم باجوہ کی صحافتی جنگ

حکومت کو ہر محاذ پر چیلنجز در پیش ہیں چونکہ یہ دور انفارمیشن کا دور ہے پوری دنیا میں جہاں مختلف محاذوں پر مقابلہ کے لیے حکمت عملی طے کی جا تی ہے اور متعلقہ فوج کو تعینات کیا جا تا ہے تو حکومت نے اطلاعات کے محاذ پر 2نئے جر نیل تعینات کر کے مستقبل کی ضرور توں کو پورا کر نے کی کوشیش کی ہے . جنرل عاصم سلیم باجوہ آ ئی ایس پی آ ر کے تجربہ سے سونے کے کندن بن چکے ہیں وہ نہ صرف ڈسپلن، مینجمنٹ ، صحافت اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات پر بھی دسترس رکھتے ہیں. شبلی فراز ، ادبی جرنیل ہیں دونوں کا کمبی نیشن بہت اعلیٰ رہے گا دراصل موجودہ حالات میں جتنی توجہ سرحدوں پر مرکوز رکھنے کی ہے اس سے کہیں زیادہ توجہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ہے اب جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں اب ملکوں کی معیشت خراب کر کے وہاں ذہنی انتشار پیدا کر کے بھی جنگیں لڑی جا رہی ہیں.
 ففتھ جنریشن وار اطلاعات کی جنگ ہے جس میں قوموں کو ذہنی طور پر مفلوج کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے جا تے ہیں پاکستان کو اس وقت انفار میشن کے شعبہ میں نہ صرف اندرون ملک مخالفیں کے وار کا جواب دینا ہے لوگوں کو مطمئن رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات کو اجاگر کر نا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بھی مقابلہ کر نا ہے. افواج پاکستان نے جس طرح بھارت کو دفاعی محاذ پر شکست دی اور نفسیاتی طور پر اطلاعاتی محاذ پر بھاگنے پر مجبور کیا اسی سپرٹ کے ساتھ پاکستان کو بین الاقوامی امور میں اور داخلی معاملات میں پرفارمنس دکھانے کی ضرورت ہے. 
جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے بطور ڈی جی آ ئی ایس پی آر اپنی صلاحتوں کا لو ہا منو ایا ادارے کے وقار کو اجاگر کیا اندرون اور بیرون ملک ادارے کے خلا ف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کر کے نا کام بنا یا عوام کے ذہنوں میں انتشار پیدا کر نے والوں کا قلع قمع کیا دشمن بھی آ ئی ایس پی آ ر کے اس کر دار کا معترف ہو گیاکہتے ہیں صلاحتیں اللہ کی دین ہو تی ہیں لیکن صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جہد مسلسل کا میابیوں کو چار چاند لگا دیتی ہے۔
 
 
جنرل عاصم سلیم باجوہ کو آ ئی ایس پی آ ر کے عہدہ سے ہٹا کر جب بلوچستان میں ذمہ داریاں سونپی گئیں تو بلوچستان میں سورشیں عروج پر تھیں غیر ملکی جاسوس دند ناتے پھر رہے تھے اور ان کے لوکل ایجنٹ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک کی اساس کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے تھے. جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جس طرح بلوچستان کے حالات کو کنٹرول کیا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے انھوں نے نہ صرف دفاعی اقدامات سے ملک دشمن عناصر کو چن چن کر مارا بلکہ بھٹکتے ہوئے لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کو بچانے میں اور دشمن کے عزائم خا ک میں ملانے میں جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے . اب جب ان کو اطلاعات کی ذمہ داریاں سونپی گئیں ہیں تو عوام ان سے اسی کامیابیوں کی توقع کرتے ہیں جو انھوں نے بطور ڈی جی آ ئی ایس پی آ راور بلوچستان کے کمانڈر کے طور پر دکھا ئی تھیں میرے خیال میں اس وقت بین الاقوامی میڈیا کو مینج کرنا زیادہ ضروری ہے ۔بھارت کے مسلمانوں کے خلاف مکروہ عزائم ، مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ، سرحدوں پر جارحانہ اقدامات اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر رقیق قسم کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جنرل عاصم سلیم کو میدان میں اتارا گیا ہے. توقع ہے کہ وہ بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے میں کامیاب ہو ں گے اندرون ملک میڈیا سے بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی بھی اشد ضرورت ہے وہ صحافیوں سے اپنے ذانی تعلقات کو بروے کار لاتے ہوئے حکومت اور میڈیا کے خلیج کو کم کرنے کی کو شش کریں گے اداروں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنا نے میں بھی یقینی طور پر وہ اپنا کردار ادا کریں گے ہم ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔