کورونا سے نمٹنے کے غیر قانونی طریقے

ہمارا معاشرہ ذرا وکھری ٹائپ کا ہے ہم ہمیشہ شارٹ کٹ کے چکروں میں رہتے ہیں قانونی طریقے سے اپنے معاملات نمٹانے کی بجائے غیر قانونی طریقے سے راستے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ہم اپنے معاملات کو سامنے لانے کی بجائے چھپاتے ہیں کورونا کے حوالے سے بھی ہمارا قومی مزاج کچھ اسی طرح کا ہے ایک تو ہم ابھی تک یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کورونا نام کی کوئی بیماری ہے ابھی تک لوگ اس پر بحث مباحثے کرتے نظر آتے ہیں یہ خوف کا کاروبار ہے اور بڑی طاقتوں کی خود ساختہ وبا ہے حکومت ان طاقتوں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے اور اپنے مفادات کی خاطر کورونا کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے حکومت کورونا کو دکھا دکھا کر اپنے قرضے ری شیڈول کروا رہی ہے امداد حاصل کر رہی ہے حالانکہ حکومتوں کے تمام ذمہ داران، انتظامیہ، میڈیا اور ڈاکٹر پچھلے تین ماہ سے لوگوں کو باور کروا رہے ہیں کہ کورونا ایک خطرناک وبا ہے اور اس سے صرف حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کرکے ہی بچا جا سکتا ہے لیکن لگتا ہے کہ سارا کہا سنا رائیگاں چلا گیا تمام ایس، او،پیز،دھرے کے دھرے رہ گئے ہم چینل 5 کے پروگرام کالم نگار میں تسلسل کے ساتھ لوگوں کو کہتے رہے کہ احتیاط کریں، حکومت کو ماسک لازمی قرار دینے کی اپیلیں کرتے رہے بازاروں میں رش اور حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد نہ کرنے کے نقصانات سے بھی آگاہ کرتے رہے لیکن اس کے باوجود روائتی بے حسی برقرار رہی اور آخر کار وہ کچھ ہو گیا جس کا ڈر تھا اب مریض ایک لاکھ تک پہنچ چکے ہیں ہسپتالوں میں جگہ نہیں لیبارٹریوں پر ٹیسٹوں کا بوجھ ہے شکر ہے کہ اب آکر حکومت نے ماسک لازمی قرار دیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو 500 روپے جرمانہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے دوکانداروں ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ قانونی طور پر بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ کورونا بھی وائٹ کالر کرائم فیملی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وائٹ کالر کرائم بھی ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے باوجود کہیں نظر نہیں آتا لوگوں کے ناجائز ذرائع سے بنائے دولتوں کے انبار نظر آتے ہیں لیکن قانونی طور پر ان کا علاج نہیں ہو پا رہا رشوت دو نمبری عروج پر ہے لیکن نہ تو کوئی ثابت کرسکتا ہے اور نہ ہی اس وبا پر تمام تر وسائل استعمال کرنے کے باوجود قابو پایا جا سکا ہے کچھ سیانے لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح حکومتیں نا جائز ذرائع سے بنائے گئے اثاثے قانونی طریقے سے ریکور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اسی طرح کورونا سے نمٹنے کے لیے بھی قانونی طریقے سے اس سے نبرد آزما نہیں ہوا جاسکتا اس لیے ان دونوں بیماریوں سے نمٹنے کے لیے قانون سے بالاتر ہوکر ہی کچھ کرنا پڑے گا وائٹ کالر کرائم کرنے والوں سے ریکوری کے لیے یا تو سعودی عرب والا فارمولا اختیار کیا جائے یا پولیس کو روایتی طریقہ سے تفتیش کی اجازت دی جائے جس میں بغیر ریمانڈ کے پولیس ملزم کو پکڑ کر نجی ٹارچر سیل میں رکھتی ہے اور پھر اپنے طریقوں سے نہ صرف اقرار جرم کروا لیتی ہے بلکہ ہرقسم کی ریکوری بھی ہو جاتی
ہے اور پھر سارا کچھ کرنے کے بعد قانونی تقاضے پورے کرنے کی رسم بھی پوری کر لی جاتی ہے اسی طرح کورونا سے نمٹنے کے لیے بھی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پولیس اور انتظامیہ کو فری ہینڈ دیں اور پھر دیکھیں پورا معاشرہ کس طرح ایس او پیز پر عمل کرتا دکھائی دیتا ہے ہم نے سوشل میڈیا پر اس کی کچھ جھلکیاں دیکھی ہیں جن میں بغیر ماسک کے موٹر سائیکل گاڑی چلانے والوں کو سزا دی جاتی ہے ان کی وہیکل کے ٹائروں کی ہوا نکال کر یا دھوپ میں دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑا کرنے، سڑک پر کان پکڑوا کر ڈنڈے مارے جاتے ہیں اس پر ہماری نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کچھ ممی ڈیڈی لوگوں کو تکلیف تو بہت ہوتی ہے اور وہ اپنا آپ دیکھانے کے لیے شور بھی مچاتے ہیں لیکن ہم جیسے معاشرے میں اس سے سستا اور کارآمد علاج اور کوئی نہیں جہاں آپ نے معاملات کو سدھارنے کے لیے لاکھوں قانونی جتن کر کے دیکھے ہیں وہاں معاملات کو بہتر کرنے کے لیے چند ایک غیر قانونی حربے بھی استعمال کر کے دیکھ لیں انشاء اللہ سو فیصد آفاقے کی امید ہے