تنبیہ

 ہمارا ایمان ہے کہ جوا نسان دنیا میں آ یا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا رزق اور اس کی سانسیں متعین کر دی ہیں جس نے جتنا رزق کھا نا ہے وہ اپنے حصے کا اتنا رزق کھا کر ہی اس دنیا سے رخصت ہو گا ہم اکثر سنتے ہیں کہ اس کا دانہ پانی ختم ہو گیا یعنی کہ اس نے جتنا کھانا تھا کھا لیا اب اس کا دانہ پانی ختم ہو گیا تو اس کی زندگی ختم ہو گی کو ئی انسان اپنے مخصوص کیے گئے رزق سے زیادہ نہیں کھا سکتا اور نہ ہی اس سے کم کھا کر دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے۔۔
 ہم نے ایسے معاملات بھی دیکھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رزق اور سانسوں کا حساب کتاب برابر کرنے کے لیے دنیا میں عملی طور پر واقعات بھی دکھا تا ہے لیکن انسان سمجھتا نہیں ہم نے بے شمار لوگ ایسے دیکھے ہیں کہ وہ 24گھنٹوں میں20گھنٹے چرتے رہتے ہیں یعنی بہت زیادہ کھا تے ہیں اس کی وجہ یہ ہو تی ہے کہ ان کا وقت پورا ہو نے کے قریب ہو تا ہے لیکن ان کا دانہ پانی ابھی باقی ہوتا ہے اس لیے وہ دن رات کھا کھا کر اپنا رزق پورا کر تے ہیں اسی طرح بعض لوگوں کی عمر باقی ہو تی ہے اور وہ عمر کی تناسب سے زیادہ کھا رہے ہوتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ انھیں بیمار کر کے تنا سب کو مین ٹین کر دیتے ہیں ہم نے دیکھا کہ کئی بیما ریاں خوراک میں کمی کا باعث بنتی ہیں مثلا بلڈپریشر کے مریض گوشت، چکنائی والی چیزیں نہیں کھا سکتے پر ہیز ی کھانے ان کی خوراک کم کر دیتے ہیں اس طرح معدے کی تکلیف میں بھوک نہیں لگتی جس سے ازخود اس انسان کی خوراک کم ہو جا تی ہے شوگر کے باعث مریض میٹھی چیزیں مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے حالانکہ اس کی میٹھے میں رغبت ہو تی ہے دل کے مریض چکنائی والی غذا نہیں کھا تے یعنی کہ جس انسان کے دن زیادہ اور رزق کم رہ جاتا ہے اللہ اس کی بھوک کم کر دیتا ہے اور جس کی عمر کم ہو اور دانہ پانی باقی ہو اس کی بھوک بڑھا کر حساب پورا کر دیتے ہیں۔
 
 
 اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہے آ دھی سے زیادہ آ بادی قیدیوں جیسی زندگی گزار نے پر مجبور ہے دنیا کی روایتی رونقیں مانند پڑ چکی ہیں۔ دنیا کا شور شرابہ کم ہو ا ہے۔ ماحولیا تی آ لودگی میں بہتری آ تی ہے اور انسان کو نظام فطرت کے قریب ہونے کا موقع ملا ہے دنیا کے تحقیق کار اس حوالے سے مختلف پہلووں پر ریسرچ کر رہے ہیں لیکن میں کئی دنوں سے اس سوچ میں گم ہو ں کہ حضرت انسان نے جس طرح سے نظام قدرت کے ساتھ کھلواڑ شروع کر رکھا تھا کہیں اللہ تعالیٰ نے کرونا کی صورت میں ایک وائرس کے ذریعے لوگوں کا لاک ڈاون کر کے بہتری کی گنجائش پیدا کی ہے کیونکہ دنیا کے اکثر سائنسدان بڑے عرصے سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے دنیا کا ماحول اتنا آ لودہ ہو چکا ہے کہ کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے نظام فطرت میں انسان کی بے جا مداخلت کے باعث موسمی تغیرات بدل رہے ہیں کہیں معمولی سے ہٹ کرگرمی نے خشک سالی کی راہ ہموار کر دی کہیں طوفانوں نے زور پکڑ لیا اور کہیں بادل سیلاب بن کر آ گئے اللہ تعالی نے انسان کو سورج سے نکلنے والی الٹرا والٹ شعاعوں سے بچانے کے لیے زمین سے 10کلو میٹر بلند 10کلومیٹر موٹی آکسیجن کی تہہ بنا رکھی ہے جو سورج سے نکلنے والی الٹراوالٹ شعاعوں کو ز مین تک آنے سے روکتی ہے اگر یہ شعاعیں زمین تک پہنچ جائیں تویہ زمین پر رہنے والے انسان ودیگر حیاتیات کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوں،ریفریجریٹروں میں استعمال کی جانیوالی گیس اور دیگر کیمیکلز کے اخراج سے پیداہونے والی گیس اوزون کی تہہ کیلئے نقصان دہ ہیں محقیقین کئی بار آگا ہ کرچکے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث اوزون کی تہہ کمزور ہورہی ہے خدانخواستہ اس تہہ میں اگر شگاف پڑجائے تو دنیا میں قیامت آجائے۔
بعض گیسوں کے اخراج سے گلیشر پگل رہے ہیں،سمندروں میں حدت بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے خوفناک سمندری طوفانوں کا سامنا کرناپڑسکتاہے آج موسمی تغیرات دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ 
 ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں کمی کرکے زمینی درجہ حرات کم کیا جا سکتا ہے اور اگر ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کا استعمال کم نہ کیا گیا تو 2030تک 20لاکھ افراد کو کینسر کا مہلک مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ آ پ اندازہ لگا ئیں کہ کرونا وائرس سے صرف تین لاکھ کے قریب اموات ہوئی ہیں تو پوری دنیا میں کس طرح ہاہا کار مچی ہو ئی ہے لیکن نظام فطرت میں مداخلت سے جس طرح کروڑوں اربوں انسانوں کی بقا خطرے میں ہے اس کا کسی کو احساس نہیں عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی بربادی سے بچا نے کے لیے چھوٹی مصیبت کے ذریعے محفوظ بنا نے کی خاطر کرہ ارض ضروری مرمت کے لیے بند کیا ہو۔دنیا کے لاک ڈاون سے ماحول میں بہتری پیدا ہو رہی ہے۔