نئے پاکستان میں اساتذہ کی بے توقیری روکیں!

نوجوان طلباء سے ان کے مستقبل سے متعلق پوچھا جائے تو بہت پریشانی ہوتی ہے، اکثریت کے پاس کوئی خواب نہیں۔ مایوسی اور بے یقینی کا شکار نوجوان نہیں جانتے کہ مشکلات کے منجدھار میں گری زندگی انہیں کہاں لے جائے گی، تقدیر کے فیصلوں کے منتظر۔ مایوسی، اندھیرا، بے مقصدیت اتنی کہ مستقبل کے خدشات اور قنوطیت چاروں اور خوفناکیاں پھیلائے کھڑی ہے۔ اور جو ایک آدھ فیصد ایسے نوجوان جن کے پاس زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے کچھ خواب اور امنگیں ہیں ان کے خوابوں بارے جان کر خوشی ہوتی ہے کہ چلو یہی وہ چند فیصدی ہیں جن کے دم سے یہ مملکت خداداد آگے بڑھے گی، ان کے عزائم، مستقبل کے خوابوں بارے استفسار کیا جائے تو خوشی کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ہوتی ہے، پوچھو کیا بننا چاہتے ہو، جواب ملتا ہے :ڈاکٹر، انجینئر ، وکیل، بیوروکریٹ، جج یا پھر صحافی ، ان سب پیشوں کی معاشرے کو ضرورت ہے مگر حیرانی کی وجہ یہ کہ کوئی ایک بھی آج تک ایسا نہیں ملا جس نے کہا ہو میں استاد بننا چاہتا ہوں، نہ ہی کبھی والدین میں سے کسی کو یہ کہتے سنا کہ وہ اپنے بچے کو استاد بنانا چاہتے ہیں۔ تدریس پیغمبرانہ پیشہ قرار دیا گیا ہے پھر اس مقدس پیشے کی اتنی ارزانی کیوں؟ سادہ سا جواب ہے۔ معلمی کا چونکہ " پاور سرکلز " میں کوئی خاص کام دھندا نہیں ہے اور ہم ٹھہرے صدیوں کے غلام، ہماری ترجیح طاقت، ایسی طاقت جو معاشرتی سطح پر ہماری بقا کی ضامن بن سکے۔ایسی طاقت اور سوشل سٹیٹس کہ جس سے ارد گرد کے لوگ خائف ہو سکیں۔ کہنے کو تو آزادی حاصل کئے 71 برس بیت گئے مگر خدا جانے ! ہماری روح و قلب پر چھائے صدیوں کی غلامی کے اثرات کب ہماری جان چھوڑیں گے۔
تاریخ کی ورق گردانی کر لیجئے ، دعوے سے کہتا ہوں، کوئی بادشاہ، جج، جرنیل، بیوروکریٹ انسانی تاریخ کو اتنا نہ بدل سکا جتنا اساتذہ نے بدلا، آنحضرت سمیت تمام انبیاء معلم بنا کر بھیجے گئے،سقراط ، افلاطون، ارسطو اور جتنے بھی بڑے بڑے نام ہیں سب معلم ہی تو تھے۔ کیا ان اساتذہ کے پائے کا کوئی ا یک جرنیل، منتظم یا بادشاہ ہے جس نے تاریخ انسانی پر ان جتنے نقوش مرتب کئے ہوں؟
سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا کی امامت کا تاج اسی کے سر سجے گا جو تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہو گا۔ کسی ریاست یا معاشرے میں تعلیم کتنی بڑی ترجیح ہے؟ اسکا تعین استاد کا " سوشل سٹیٹس" کرتا ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی گریجوئیٹ نوجوان معلم نہیں بننا چاہتا، جو بن چکے سب کے سب بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر بنے، اکثریت ایسی جو " بائی چوائس" استاد نہیں بنے بلکہ غم روزگار اور دیگر بہتر مواقع دستیاب نہ ہونے کے باعث استاد رہ گئے، نہیں یقین تو انہیں کوئی اور مواقع دے کر دیکھیں۔
چین کی ترقی کے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ چین اپنے اساتذہ کو عزت و توقیر دینے میں دنیا میں سب سے آگے ہے، وہاں طلبہ اور والدین استاد بننے کواہم سمجھتے ہیں،کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا بھی سر فہرست ہیں، فن لینڈ میں تو یونیورسٹی ٹاپرز ہی استاد بن پاتے ہیں اور سوشل سٹیٹس باقی تمام شعبوں سے بڑھ کر۔ادھر ہم ہیں کہ حالات کا رونا وطیرہ بن چکا، بدقسمتی کے نوحے ختم ہونے کو نہیں آتے، جاپان ، چین، سنگاپور، ملائیشیا اور یورپ کے جیسا معاشرتی نظام ہماری حسرت، مگر بس حسرت، علم کبھی ترجیح نہ بن سکا۔کہتے ہیں کسی ملک کا نظام تعلیم دیکھنا ہو تو وہاں استاد کا "سوشل سٹیٹس" دیکھ لو۔سر دست جامع پنجاب میں درس و تدریس کی بے توقیری کا ایک واقعہ رقم کئے دیتا ہوں، سابقہ وائس چانسلر جنرل (ریٹائرڈ) ارشد محمود کے دور میں متعدد پی۔ ایچ۔ ڈی ، ایم۔فل اساتذہ کو یونیورسٹی میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا ، بیشتر اساتذہ نے بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کررکھی ہے۔ نومبر 2017 کے بعد سے یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کنٹریکٹ اساتذہ اور دیگر ملازمین کو مزید کنٹریکٹ دینے سے انکار کر دیا، متعدد اساتذہ کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود اس امید پر کہ شائد اس مسئلے کا کوئی بہتر حل نکل آئے ، خدمات سرانجام دیتے رہے ، اب انتظامیہ نے کلی طور پر" ایکسٹینشن" دینے سے انکار کر دیا اور یوں مختلف شعبوں سے متعلق 150 سے زائد اساتذہ کو بے روزگار کر دیا گیا ہے۔متاثرین میں متعددْ پی ،ایچ، ڈی ، ایم فل ، اسسٹنٹ پروفیسرز ، لیکچررز، ریسرچ سکالرز ، ریسرچ آفیسرز اور دیگر نان ٹیچنگ سٹاف شامل ہے۔ عرصہ دراز سے خدمات سر انجام دینے والے متعدد اساتذہ و ملازمین اب " اوور ایج " ہو چکے ہیں اور کسی دوسری جگہ درخواست دینے کے بھی اہل نہیں رہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسی
اور مجبوریاں اپنی جگہ مگر اتنی کثیر تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو بے روز گار کر کے ملک میں تعلیم کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ جس معاشرے میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے طبقے کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں تعلیم کیونکر معاشرتی ترجیح بنے گی ؟یقیناَ اس سارے معاملے سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی شائد ان کے نوٹس میں ہو، اس تحریر کے ذریعے میں وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب سے ملتمس ہوں کہ اس معاملہ کا نوٹس لے کر منصفانہ بنیادوں پر اس کا حل نکالیں۔ معلمی کو بے توقیری سے بچالیں،150 سے زائد اساتذہ کی نہ صرف زندگی کا سوال ہے بلکہ پاکستان میں تعلیم کی ترقی اور ترویج کا بھی سوال ہے۔ جبکہ آپ کی حکومت کا دعویٰ اور وعدہ بھی ہے کہ تعلیم ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔