دل پھر بھی پاکستانی

کیا آپ جانتے ہیں دنیا میں لگ بھگ200چھوٹے بڑے ممالک ہیں۔ ماننے نہ ماننے سے قطع نظر ان میں ایک ملک ایسا بھی ہے جو روس سے کم ازکم دس گنا چھوٹاہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کا نہری نظام انتہائی مربوط اور روس سے تین گنا بڑاہے۔یہ ملک مٹرکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا بھرمیں دوسرے نمبرپرہے۔گنے، خوبانی اور کپاس کی پیداوارکے لحاظ سے چوتھے نمبر جبکہ دودھ اور پیاز کی کی پیداوارکے لحاظ سے پانچویں۔کھجورکی پیداوارکے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیداوارکے لحاظ سے ساتویں۔چاول کی پیداوارکے لحاظ سے آٹھویں۔گندم کی پیداوارکے لحاظ سے نویں۔۔۔مالٹے ،سنگترے اور کنوں کی پیداوارکے لحاظ سے دسویں نمبرپرہے۔یہ ملک زرعی پیداوارکے لحاظ سے 25ویں نمبر ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملک کی گندم کی پیداوار پورے بر اعظم افریقہ سے زیادہ اوربراعظم جنوبی امریکہ کے برابرہے۔
 
 
یہ ملک صنعتی پیداوارکے لحاظ سے55ویں نمبرپر ہے اورکوئلے کے ذخائرکے لحاظ سے چوتھے نمبر۔تانبے کے ذخائر کے لحاظ سے 7ویں نمبر ہے ۔
یہ CNGکے استعمال میں دنیا بھر میں نمبرون ہے اس کے قدرتی گیس کے ذخائر ایشیا بھر میں 6ویں نمبرپرہیں یہ عالم ِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمی قوت ہے۔ اس ملک کو پاکستان کہتے ہیں۔ یہ وہ ملک جہاں ہم رہتے ہیں اس ملک کو اللہ تبارک تعالیٰ نے بے حد حساب نعمتوں سے سرفرازفرمایا ہے اس کے باوجود اس ملک میں ”پیزا “ پولیس سے زیادہ تیزرفتاری سے ہمارے گھر پہنچ جاتاہے۔کار لینے کے لئے100% آسانی سے جبکہ تعلیم کے حصول کے لئے20%قرضہ ملنا مشکل ہے۔باسمتی چاول130روپے کلو اور موبائل کی رسم بالکل مفت مل جاتی ہے۔”جوتے“ جو پہننے کی چیز ہیں ایئر کنڈیشنڈ دکانوں میں فروخت ہوتے ہیں اور جبکہ کھانے والی سبزیاں،پھل فروٹ فٹ پاتھ پر بکتے ہیں۔
لیمن جوس آٹیفیشل فلیور کے ساتھ بنایا جاتاہے اورڈش واش لیکویڈ تیارکرنے والی کمپنیوں کا دعوے ٰ ہے کہ اس میں اصلی لیموں استعمال کیا جاتاہے۔ایم ۔اے پاس،ایم ایس سی ہولڈر یا پھر انجینئر اور دیگرپڑھے لکھے افراد بے روزگارپھررہے ہیں اور کتنے ہی ان پڑھ،جاہل ایم پی اے، ایم این اے بنے ہوئے ہیں ان میں سے درجنوں کرپٹ، رشوت خور، ٹیکس چور ہیں۔ کچھ قبضہ گروپ، منشیات فروش، بجلی چور، گیس چور،لینڈ مافیا کے کرتا دھرتا بھی ہیں۔اس کے باوجودلوگوں کی اکثریت کا دل پاکستان کے نام پر دھڑکتاہے۔یہاں کے سیاستدانوں نے سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے کچھ اسلام کے ٹھیکیداروں نے مذہب کو کاروبار۔جس ملک میں صحت اور تعلیم جیسے شعبوں پر بھی مافیا قابض ہوں۔ کیا عجیب بات نہیں اس ملک کی80% آبادی کی روزانہ آمدن 2امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔ اس ملک میں گرمیوں میں 8 سے 15گھنٹے روزانہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ رہتی ہے۔
 اس ملک میں کروڑوں افراد خط ِ غربت سے بھی نیچے زندگی بسرکررہے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ادارے کمزور اور شخصیات انتہائی طاقتورہیں جنہوں نے قانون کو موم کی ناک بنارکھ دیاہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں شاپنگ کیلئے جائیں یا پیسے جمع کروانے ہوں یا نکلوانے بنک میں جانے سے پہلے تلاشی دینا لازمی ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر معرض ِ وجودمیں آیا لیکن اس کے باوجود مساجد میں پہرے میں نماز ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہاں یوٹیلٹی بلز جمع کروانے ہوں۔ CNG کے حصول اور پٹرول کیلئے قطاریں لگی رہتی ہیں۔ یہاں85ارب کی کرپشن کرنے والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا یہ وہ ملک ہے جہاں عجیب قوم رہتی ہے جو پچاس روپے پر جیب تراش کو مار مارکر لہو لہان کردیتی ہے لیکن50کھرب کی کرپشن کرنے والوں کو اپنا حکمران منتخب کرلیتی ہے اس کے باوجودلوگوں کی اکثریت کا دل پاکستان کے نام پر دھڑکتاہے۔ جو اپنے قائداعظم کے خلاف کوئی بات برداشت کرنے کو تیار نہیں بلکہ مرنے مارنے پرتل جاتے ہیں۔ 
بھوک، غربت،مسائل در مسائل کے ہوتے ہوئے بھی اکثرو بیشتر ہم وطنوں کا دل پھر بھی پاکستانی ہے عوام کی اکثریت محب ِ وطن ہے اس ملک کی مصنوعات دنیا بھر میں مشہور ہیں اس ملک کے لوگ جفاکش اور محنتی ہیں اپنی ہمت اور خداداد صلاحیتوں سے جنگل کو منگل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بیشتر سیانوں کا کہناہے پاکستانیوں کو حضرت ِ قائداعظم کے بعد کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو اسے ایک قوم بنا سکتا زیادہ تر سیاستدان اپنی اپنی ڈفلی بجاکر اقتدارمیں آتے ہیں پھر عوام کو بھول جانا معمول بنالیتے ہیں۔ پاکستان میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کئی مرتبہ اقتدارمیں آئی مگر
 حالات وہی ہیں فقیروں کے
 دن بدلے ہیں فقط وزیروں کے 
کسی قسم کی بحث سے قطع نظربدگمانی کوئی اچھی بات نہیں ہوتی ہو سکتاہے موجودہ وزیراعظم دل سے عوام کی خوشحالی اور ملکی ترقی کا دل میں جذبہ رکھتے ہوں وہ اس کے لئے اقدامات بھی کررہے ہوں لیکن انہیں اتنا تو سوچنا چاہیے نتائج کیا برآمد ہوئے ہیں؟ ان کے اقدامات کا کوئی مثبت رزلٹ کیوں نہیں نکلتا؟ عوام کی حالت کیوں نہیں بدلتی؟ملک کے معاشی ، معاشرتی، اقتصادی حالات کیوں بہترنہیں ہوتے؟ عام آدمی کے چہرے چہرے پر بے سروسامانی کیوں ہے؟ لوگوں کیلئے زندگی بوجھ کیوں بن کررہ گئی ہے۔ جینا مشکل کیوں ہوتاجارہاہے۔
 حکمران جو اس وقت صاحب ِ اقتدار ہیں ان کوسوچنا چاہیے۔ ان کا فرض بنتاہے یقینا قیامت کے روز ان سے بازپرس ہوگی ان کو جاننا چاہیے عام پاکستانی کیلئے زندگی سے وبال کیوں بنی ہوئی ہے۔ آصف علی زرداری کی لوٹ مارکے قصے ہوں،میاں نوازشریف کی کرپشن کی غضب ناک داستانیں، یوسف رضا گیلانی،راجہ پرویز اشرف کی کرپشن کہانیاں، اسحاق ڈارکی دبئی میں بھاری انوسٹمنٹ کی بازگشت،الطاف حسین کے ساتھیوں کے دل ہلا دینے والے ہوشربا اعترافات ہوں یا پھر سینکڑوں میڈ ان پاکستان کی آف شور کمپنیاں،بیوروکریسی کی ملک لوٹنے کی نت نئی اختراعات، سیاستدانوں، جرنیلوں، ججوں،صحافیوں اور ڈکٹیٹروں کی کہی ان کہی کہانیاں سن کربھی دل پاکستان کے نام پردھڑکتاہے ۔اشرافیہ کے بارے میں تو ہم کچھ نہیں جانتے لیکن جو بھی، جیسے بھی حالات ہوں ہمارا مرنا جینا پاکستان کے ساتھ ہے پاکستان سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے محرومیوں کے باوجود یہ دل پھربھی پاکستانی ہے اور انشاء اللہ تاقیامت پاکستانی ہی رہے گا۔