کرپشن کا ناسور…نجات کاراستہ

وطن عزیز کاقیام قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قوم نے قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ممکن بنایا۔ آج جبکہ پاکستان کے قیام کو سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکاہے ۔ قیام پاکستان کے مقاصد ہنوز تشنہ تکمیل ہیں اور سفر جاری ہے۔ اس میں شک نہیںکہ پاکستان اس وقت گوناگوں مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔ بدامنی ، دہشت گردی ، بے روزگاری اور ،بجلی ،پانی ، گیس اور توانائی کابحران ہے۔ فکری ونظریاتی انحطاط ،سیاسی و معاشی انتشار ، تہذیبی زوال، طبقاتی تقسیم در تقسیم اور تصادم ، اسٹیبلشمنٹ سے نفرت ، اداروں میں ٹکرائو اور کشمکش ، صوبہ جات میں باہم کشمکش اور تنائو ،تعلیم و صحت کاغریب کی دسترس سے باہر اور سہولیات کا ناپید ہونااور عوام الناس کی زبوں حالی اور پریشان خیالی ،اعتماد کافقدان روز بروز بڑھ رہاہے۔

ایک سابق چیئرمین نیب کے مطابق پاکستان میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔اس طرح ملک میں ہونے والی کرپشن کا تخمینہ لگایاجائے تو سرکاری ادارے اور حکمران 43کھرب 80ارب روپے کی کرپشن سالانہ کرتے ہیں۔

مشرف دورحکومت میں اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد پوری دنیا سے5ارب ڈالر (5 کھرب 23ارب92لاکھ50ہزار) کی امدادی رقم متاثرین کیلئے موصول ہوئی ۔یہ امداد اصل متاثرین تک پہنچنے کی بجائے کہیں اور پہنچ گئی اور اصل متاثرین محروم رہے۔ اسی طرح اُس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے عام شہری کو انصاف فراہم کرنے کے نام پر ایشیائی ترقیاتی بینک سے 135ارب روپے قرضہ لیا۔سابق صدر آصف علی زرداری کے غیر قانونی طور پر ڈیڑھ کھرب روپے اور 22ارب روپے کمانے کے الزامات کی نیب تحقیق کررہاہے جبکہ اس سے قبل زرداری صاحب پر سرے محل، ایس جی ایس کو ٹیکنا، منی لانڈرنگ، عوامی ٹریکٹر سکیم کے تحت 800ٹریکٹر کی خریداری پر کمیشن بنانے اور فرانسیسی کمپنی سے معاہدے میں بھی کمیشن وصول کرنے کا الزام ہے۔سینٹ کی فنانس کمیٹی میں سٹیٹ بینک نے انکشاف کیاکہ آصف زرداری کے دور میں ایک کھرب روپے کی غیر قانونی ادائیگی براہ راست آئی پی پیز کو کی گئی اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین نے 460ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔ سابق وفاقی وزیرمواصلات ارباب عالمگیر نے ایک چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہوئے 24لاکھ ڈالر (25 کروڑ 14لاکھ84ہزار) کمیشن لیاجس سے لندن میں 4 فلیٹ خریدے ہیں۔

جب سے میاں نواز شریف وزیراعظم بنے ہیں، تب سے قوم کو معاشی خوشحالی کی نوید سنائی جارہی ہے لیکن گورننس کا حال یہ ہے کہ 15لاکھ نئے بیروزگاروں کااضافہ ہوچکاہے، پاکستان کا ہر شہری ایک لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہوچکاہے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نواز دور حکومت میں پنجاب اور سندھ کو 70کروڑ پاؤنڈ یعنی ایک کھرب 6ارب 93کروڑ 62لاکھ 36ہزار کی امداد دی گئی جو کرپشن کی نذرہوگئی۔سندھ میں امداد سے چلنے والے 5ہزار اسکول اور 40ہزار اساتذہ جعلی نکلے۔

قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ایک دستاویزکے مطابق میاں محمدنواز شریف نے 2009ء سے 2016ء تک، 7سال سے ٹیکس ادا نہیں کیا۔غریب قوم کے صدر ،صدرپاکستان ممنون حسین کی سیکورٹی پرایک سال میں ایک ارب روپے کے لگ بھگ خرچ کیے جارہے ہیں،اسی دوران انہوں نے قومی خزانے سے 60ہزار ڈالر (62لاکھ 87ہزارروپے) کی ٹپ بیرونی ممالک کے دوروں میں اپنی خدمت پر مامورخادموں کو عنایت کردی۔اسی طرح گذشتہ تیس برسوں میں 430 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ہیں۔

پانامہ لیکس کے ذریعے ایک بڑا دھماکہ ہوا جس میں کل 479بڑے پاکستانیوں کے نام شامل ہیںجن میں وزیراعظم نواز شریف اورسابق صدر زرداری کے خاندان اور دوست احباب سرفہرست ہیں انہوں نے ٹیکس سے بچنے کیلئے غیر قانونی طریقے اختیار کیے اور وطن عزیز کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ اسی طرح ڈھائی ہزار پاکستانیوں کے نام دبئی لیکس میںبھی شامل ہیں جنہوں نے دبئی میں ایک کھرب روپے سے زیادہ کی جائیدادخرید رکھی ہے۔ ان میں سب سے بڑا نام موجودہ وزیرخزانہ اسحاق ڈارکاہے جو وزیراعظم کے قریبی عزیز ہیں۔حکومتی ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ صرف لاہور شہر کے ایک حصے پر بننے والی اورنج لائن ٹرین کا بجٹ (162ارب روپے) صحت کے کل بجٹ سے تقریباً آٹھ گنازیادہ ہے۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے وفاقی بجٹ میں صحت کیلئے محض /22ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔اسکے مطابق ہر پاکستانی کی صحت کیلئے حکومت کا مختص کردہ بجٹ 110 روپے سالانہ اور9روپے ماہانہ فی کس بنتا ہے۔ اس وقت کرپشن ہی کی وجہ سے وطن عزیز کی صورتحال یہ ہے کہ یوتھونومیکس گلوبل انڈیکس 2015ء نے پاکستان کو 25سال سے کم عمر نوجوانوں کیلئے دنیا کا بدترین ملک قراردیا ہے۔ 2015ء میں دس لاکھ پاکستانی روزگار کی تلاش میں اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں، 1971ء سے اب تک 90لاکھ پاکستانی اپنے وطن کو خیرباد کہہ کر دوسرے ملکوں میں جاچکے ہیں۔ پاکستان سے نقل مکانی کی بنیادی وجہ یہاں روزگارکی کمی ہے۔ڈاکٹرز سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کر بین الاقوامی تنظیموں کا حصہ بن رہے ہیں۔ سوشل پالیسی ڈویلپمنٹ سنٹر(ایس پی ڈی سی) کے تازہ سروے کیمطابق پاکستان میں 30لاکھ سے زیادہ نوجوان بے کار زندگی بسرکررہے ہیں۔ نوجوانوں کی 54فی صد آبادی کسی بھی تعلیمی یاجسمانی سرگرمی میں مشغول نہیں ہے۔

نیب کرپشن کے خاتمے کیلئے بنا۔ اس میں گزشتہ 16سالوں میں نیب نے 309,000 شکایات سرکاری وغیرسرکاری محکموں سے وصول کیں اور 6300 انکوائریوں کو مکمل کیا جبکہ اس دوران اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے ڈیڑھ سو بڑے مقدمات کی رپورٹ ملکی سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے۔ جبکہ اس دوران 150میں سے 71مقدمات کی انکوائری مکمل کی گئی ہے، 41مقدمات کی تحقیقات تکمیل کے مرحلے میں ہیں جبکہ 38کی تحقیقات مکمل کرکے ریفرنس احتساب عدالتوں کو بھجوائے گئے ہیں۔ اس وقت حکمرانوں پر ٹیکس چوری کے الزامات اور ناقص پالیسیوں کے باعث ایف بی آر تمام ترکوششوں کے باوجودتاجروں کو ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں کرسکا۔

پانامہ پیپرز لیکس ، دوبئی پراپرٹی لیکس ، قرضے معاف کرانے اور سینکڑوں میگا سیکنڈلز کی فہرستیں منظر عام پر آنے کے بعد ،جماعت اسلامی کی ’’کرپشن فری پاکستان ‘‘تحریک کا مطالبہ کرپشن کاخاتمہ قوم کی آواز بن گیاہے ، عوامی دبائو پر ماحول تو یہ بن گیا ہے کہ سپریم کورٹ سطح کاعدالتی کمیشن بنے اور بلا امتیاز تحقیقات اور احتساب ہو لیکن سیاسی ، جمہوری ، سول ملٹری صفوں میں بیٹھے افراد جو کرپشن میں ملوث ہیں انہوں نے پوری مہارت سے عدالتی کمیشن اور احتساب کے مطالبہ کارخ موڑ کر عملاً معاملہ سرد خانے کی طرف دھکیل دیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے متفقہ ٹی او آرز کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیں ، اس وقت جو کیفیت ہے اس میں سیاسی بحران اور بے یقینی کی فضا قائم رہے گی اور ملک و ملت کو لاحق خطرات اور نقصانات کی ذمہ داری سراسر وفاقی حکومت پرہوگی۔