حکومت آزادیٔ کشمیر ایکشن پلان بنائے

برہان مظفروانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیداشدہ صورتحال کے تناظر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی صدارت میں قومی قیادت اور آزادومقبوضہ جموں وکشمیر کے قائدین کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اقوام متحدہ، اقوام عالم اور عالمی اداروں کی توجہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت، مسئلہ کشمیر پر قومی مؤقف کے احیاء اور مشترکہ لائحہ عمل کے لیے بلائی گئی اس کانفرنس میں قائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اسلامیان پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر کے طول وعرض میں بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خلاف اور اپنے مسلمہ حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد میں مصروف عوام اور قائدین کو ان کی استقامت پر سلام پیش کرتے ہیں، راہ حق میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سرفروشوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو اور شہداء ، زخمیوں اور محبوسین کے گھرانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیںاور کشمیری عوام کو ریاست پاکستان کی طرف سے یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کی مبنی برحق جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں کیونکہ کشمیر ہماری ترجیح اول ہے اور اسی لیے مسئلہ کشمیر پر حمایت یامخالفت اقوام عالم کے ساتھ ہماری دوستی اور دشمنی کا ایک پیمانہ ہے۔ ہم یہ بھی واضح کرناچاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ یہ دوطرفہ مذاکرات کا موضوع نہیںبلکہ اقوام متحدہ اپنی قرارداد نمبر 47مجریہ 1948ء کے تحت کشمیر میں رائے شماری کی پابند ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جموں وکشمیر میں رائے شماری سے متعلق قراردادوں کے نفاذ اور بھارت کے اس سلسلے میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کو بھارت کی جانب سے علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کانام دینا ریاستی دہشت گردی سے اقوام عالم کی توجہ ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ہے جس کاجارحانہ سفارت کاری کے ذریعے پردہ چاک کرنا بھی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز نے ممنوعہ پیلٹ گن کا استعمال شروع کردیا ہے۔ اس ہتھیار نے کشمیری نوجوانوں، بچوں اور بچیوں کو بینائی سے محروم اور ہزاروں کوزخمی کر دیا ہے۔

بھارت کا مسلسل کرفیو کے ذریعے کشمیری عوام کو مستقل عذاب میں مبتلارکھنا، اخبارات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پرپابندی عائد کرکے دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بے خبر رکھ کر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا ایسے گھنائونے جرائم ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اس ضمن میںہماری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں ٹھوس اور ضروری اقدامات کرے۔ دوسری جانب بھارتی مظالم کی تصاویر فیس بک سے ہٹادینے کے اقدام سے فیس بک انتظامیہ کی جانبداری واضح ہو گئی ہے۔ کانفرنس بھارت سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیر ی عوام کے حق خودارادیت کے حق میں آواز اٹھانے والے باضمیر افراد اور اداروں کوخراج تحسین پیش کرتی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سُشماسوراج کے جموں وکشمیر سے متعلق بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کاحصہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ اسی ریاستی عوام کو کرنا ہے جو سات دہائیوں سے بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اوراپنے شہدا ء کو سبزہلالی پرچم میں لپیٹ کر آخری آرام گاہ تک پہنچاتے ہیں۔ قائد حریت جناب سید علی گیلانی کے جموںوکشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اقوام عالم اور بھارت کے سامنے رکھے گئے نکات (جموںوکشمیر کی متنازعہ حیثیت اور ریاستی عوام کے حق خودارادیت کو بھارت سے منوانے کے لیے اقوام متحدہ اپناکردار اداکرے۔ بھارت آبادیوں سے قابض فوج کو واپس بلاکرمکمل فوجی انخلاء کا آغاز کرے۔ قابض فوج کو بے لگام بنانے والے کالے قوانین کے خاتمے کا اعلان کرے اور تمام سیاسی نظربندوں کی فوری رہائی عمل میں لائے) کی حرف بہ حرف تائید کرتے ہیںلہٰذا حکومت پاکستان ان نکات کو بنیاد بنا کر آزادیٔ کشمیر قومی ایکشن پلان تیار کرے نیز اگلے مرحلہ پرAPHC کو کشمیر کے متفقہ پلیٹ فارم سے آگے بڑھ کر ان کی اسمبلی کے طور پر تسلیم کرنے پر غور کرناچاہیے اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے تمام دینی وسیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلائے تاکہ متفقہ اور مستقل کشمیر پالیسی تیار کی جائے اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف اور ریاستی پالیسی کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی، سفارتی ، ابلاغی اور قانونی محاذوں پر مسلسل متحرک رہنے کے لیے ضروری اقدامات کا اہتمام کیا جاسکے۔ کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے پائیداراور منصفانہ حل کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کو بنیادی فریم ورک سمجھتے ہیں اور ہر مسلط کردہ حل کو مستردکرتے ہوئے صرف اس حل پر اصرار کرتے ہیں جو انہیں قابل قبول ہو۔ یہ کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے آزادیٔ کشمیر ایکشن پلان تیار کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کے حل سے پہلے بھارت سے تمام تجارتی و ثقافتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔اسی تناظر میں OIC کے سیکرٹری جنرل کا کشمیر سے متعلق حالیہ بیان بھی حوصلہ افزا ہے کہ مقبوضہ خطے میں انسانی حقوق کی پامالی اور کرفیو سے پیداشدہ صورت حال (غذائی اجناس کی قلت اور جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی) سے نمٹنے کے لیے OIC کاہنگامی اجلاس بلایاجائے۔کانفرنس میں حکومت پاکستان اور بھارتی حکومت کو واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے ۔ مذاکرات کے تمام راستے کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ کوئی بھی مذاکرات قابل قبول نہیں ہوسکتے ۔