عالمی دہشت گردی اور پاکستان

دہشتگردی اور تخریب کاری نے پوری دنیا میں، خاص طور پر عالم ِاسلام میں استحکام، ترقی اور امن کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ مذہب کے نام پر اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم نے انسانیت کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس عدم تحفظ کے روز بروز گہرے ہوتے ہوئے احساس نے پوری امتِ مسلمہ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ عالمی استعمار ایک منظم منصوبے کے تحت فلسطین، عراق، مصر، شام، یمن، افغانستان، بنگلہ دیش، مقبوضہ کشمیر اور ارکان برما سمیت اہم مسلم ممالک کو تباہ و برباد کر رہا ہے۔ پاکستان، ترکی، ایران اور سعودی عرب، اس کا اگلا ہدف ہیں۔ عالمی قوتیں ان ممالک کے باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر کے، اپنی سازشوں کی راہ ہموار کر رہی ہیں تاکہ انکے مابین فساد برپا کیا جاسکے۔ اکثر مسلم ممالک میں خون ریزی ابھی جاری ہے۔ ادھر مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کے قریب دہشتگردی کا رونما ہونےوالا سانحہ، اہلِ ایمان کےلئے شدید صدمے کا باعث ثابت ہوا ہے۔ اس دکھ سے جسم اور روح دونوں لرزہ براندام ہیں۔ دہشتگردی کے ایسے واقعات انتہائی مذمت کے قابل ہیں۔ مسجدِ نبوی پر حملہ کی ناکام کوشش سے پوری امتِ مسلمہ لرز اٹھی ہے۔ عالمی استعمار اسقدر جری ہو گیا ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ یہ مذموم حرکت پوری دنیا خصوصاً اہلِ ایمان کےلئے ایک تازیانہ ہے کہ ہماری نفسانفسی، دین سے غفلت، آپس کی لاتعلقی اور باہمی فروعی معاملات میں اختلافات کے نتیجے میں باہم دست و گریباں ہونے سے، امن اور اسلام کے دشمن، ہمارے حساس دینی مقامات تک رسائی پا رہے ہیں۔ پاکستان خود طویل مدت سے بیرونی مداخلت اور خطہ میں بار بار استعماری قوتوں کی بالادستی کےلئے چیرہ دستی اور مداخلت کا شکار ہے۔ افغانستان میں روسی فوجی مداخلت اور نائن الیون کے بعد امریکہ اور نیٹو فوجی مداخلت کی وجہ سے پاکستان کی داخلی اور خارجی سلامتی کے امور مسلسل خطرات سے دوچار ہیں۔ دہشتگردی کی وجہ سے70 ہزار فوجی اور عام شہری ہلاکتوں کا شکار ہوگئے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمہ اور سہولت کاری کی بیخ کنی کےلئے ضربِ عضب اور قومی ایکشن پلان پر دینی، سیاسی، سماجی اور عسکری قیادت نے اتفاق کیا ہے اور اس سے حالات میں بہتری آئی ہے۔ لیکن پاکستان میں دشمن قوتوں کی چیرہ دستیاں جاری ہیں۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کےلئے ازسرِ نو قومی ترجیحات کا تعین اور ان پر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ افغانستان طویل عرصہ سے، دنیا کی تین سپر طاقتوں کے ظلم، مداخلت اور انسانیت سوز اقدامات کا شکار ہے۔ افغانستان میں حالات اپنے کنٹرول میں لانے کےلئے برطانیہ نے طویل مدت تک ہر حربہ استعمال کیا تاہم ناکام رہا۔ سابق یو ایس ایس آر (موجودہ روس) توسیع پسندی اور گرم پانیوں تک پہنچنے کےلئے، اپنے اشتراکی نظریات پر مبنی عالمی ایجنڈ ے کےساتھ، اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان میں دخیل ہوا۔ لیکن افغانیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی متحدہ مزاحمت اور جہاد کے سامنے ڈھیر ہو گیا۔ بدقسمتی سے اس کامیابی کے بعد افغان راہنما اور عالمِ اسلام کی قیادت حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی اور اس طرح عالمی، امریکی اور یورپین سازشوں کو افغانستان میں مداخلت کا موقع مل گیا۔ جسکی وجہ سے یہ پورا خطہ بدامنی اور دہشتگردی سے پیدا ہونےوالے عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے۔ اب یہ راز عیاں ہو رہے ہیں کہ دہشتگرد تنظیموں کی تشکیل، انکی مالی مدد اور انکو اسلحہ کی فراہمی کے اقدامات کے پیچھے یہی مقصد کار فرما تھا۔ گو کہ آلہ کار مقامی افراد ہی بنے ہیں۔ جس سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے۔ تباہی کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ عالمی ادارے اور عالمی قوتیں خود عالمِ اسلام میں امن کےلئے کردار ادا کرنےکو تیار نہیں۔ حد یہ ہے کہ امن قائم کرنے کے نام پر، نئی نئی طرز کی ریاستی دہشتگردی مسلط کر دی گئی ہے۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں ”ملی یکجہتی کونسل پاکستان“ اور ”مرکزی جمعیتِ اہل حدیث“ کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں قومی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ جن میں عالمِ اسلام کی معتبر شخصیات، علمائے کرام، دانشور حضرات، اساتذہ کرام، سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں اور دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور شرکاءانکے گرانقدر خیالات سے مستفید ہوئے۔ انکا مشترکہ مو¿قف تھا کہ عالمی دہشتگردی کے خاتمہ، حرمین شریفین کے تحفظ اور اتحادِ امت کےلئے ہمیں آپس میں مل بیٹھ کر، مسلمانوں کو درپیش ان چیلنجز سے نپٹنے کا متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔ کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں 70 سال سے جاری حصولِ آزادی کےلئے مطالبہ حقِ خودارادیت کی بے مثال جدوجہد سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا روز بروز بگڑتے ہوئے حالات پر اپنی تشویش ظاہر کی۔ 8 جولائی 2016ءکو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نوجوان برہان مظفر وانی کی المناک شہادت کے بعد، مقبوضہ کشمیر کے عوام مشتعل ہو کر گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور وقفے وقفے سے نافذ کرفیو کی سختیاں جھیلتے ہوئے، بھارت کی سات لاکھ فوج کی سفاکیت اور بربریت کا ظالمانہ کھیل بھی جاری ہے۔ سیاسی جدوجہد کرنےوالے کشمیری نوجوانوں، بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ دھڑلے سے ممنوعہ ”پیلٹ گنز“ کا استعمال کیا جا رہا ہے اور معصوم بچے بھی شہید اور نابینا ہو رہے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا داخلہ بند کر رکھا ہے۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ سروسز بھی بند کر دی گئی ہیں۔ اس پر بڑی عالمی طاقتوں کی جانبدارانہ پالیسی، غیر انسانی رویے اور انکے دوہرے معیارات نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حالات کو مزید سنگین اور گھمبیر بنا دیا ہے۔ ان حالات میں حکومتِ پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھارتی جارحیت اور مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے اور سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ لڑے۔ اس غرض سے تمام جماعتوں کے مشترکہ پارلیمانی وفود، بڑے بڑے ممالک میں بھیجے جائیں۔ مسلم ممالک کو خاص طور پر متوجہ کیا جائے تاکہ اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلایا جا سکے۔ بہرحال حکومت پاکستان کو جلد از جلد مسئلہ کشمیر پر ایک ”قومی ایکشن پلان“ بنانا چاہیے۔ کانفرنس نے حرمین شریفین کے حوالے سے واضح کیا کہ ان مقدس مقامات کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ تمام مسلمان ہر قسم کی گروہ بندیوں، مختلف مسالک اور سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر حرمین شریفین کے تحفظ کےلئے کسی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ ہم تمام مسلمان متحد ہو کر، امت کو گروہوں میں تقسیم کرنےکی عالمی سازشوں کا مقابلہ کرینگے اور انکو ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے۔ خاص طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے اور ان میں ہم آہنگی کے فروغ کےلئے علماءکرام، مشائخ عظام اور دانشور حضرات انسانی قدروں کے علمبردار بن کر آگے بڑھیں گے۔ اسطرح ہم اپنا تاریخی کردار ادا کریں گے۔ کانفرنس میں اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ برادر ملک بنگلہ دیش گزشتہ 8 سالوں سے اپوزیشن اور اسلام پسندوں کےلئے مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔ بھارت کی سرپرستی میں بنگلہ دیش کی ڈکٹیٹر حسینہ واجد اپنے مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی کے راہنماو¿ں کو ہولناک سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انکا اسکے سوا کوئی اور جرم نہیں ہے کہ انہوں نے کلمہ کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کو متحد رکھنے کےلئے 1971ءمیں اپنی حب الوطنی کا کردار ادا کیا۔ آج یہ ”بنگلہ دیش“ کے غدار ٹھہرائے جا رہے ہیں جو اس وقت تک معرضِ وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔ پھر یہ کہ ان پر اس وقت کے سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نام نہاد مقدمات بنا رہی ہے۔ کانفرنس میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، شام، ترکی، بنگلہ دیش، برما (اراکان) کے ابتر حالات پر بھی غور کیا گیا اسلامی ممالک کو مجموعی طور پر متوجہ کیا گیا کہ وہ ”او۔ آئی۔ سی“ کو مسلم عوام کی امنگوں کےمطابق فعال بنائیں۔ کانفرنس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اسلامی ممالک میں موجود غیر ملکی افواج نکل جائیں اور وہاں کے عوام کو موقع دیں کہ وہ اپنی آزادانہ رائے سے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کر سکیں۔ دوسری طرف موجودہ مسلم حکومتوں سے بھی یہ اپیل کی گئی کہ وہ آپس کے مسائل، باہمی مشاورت اور بات چیت سے حل کرنےکو یقینی بنائیں۔