مسئلہ کشمیر ،عصرِ حاضر کے تناظرمیں

مسئلہ کشمیر،آزادی ہند کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔اکثر مسئلے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ حل ہوجاتے ہیں یا پھر ختم ہو جاتے ہیں۔لیکن کشمیر کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جوابھی تک حل تو نہیںہوا مگر ختم بھی نہیں ہوا بلکہ ہر گزرتے دن کیساتھ اور اجاگر ہوتا جارہا ہے۔آج بھی عصرِ حاضر کے عالمی مسائل میں مسئلہ کشمیر اپنی اہمیت اور سنگینی کے لحاظ سے سرِ فہرست ہے۔ اگست1947ء میں پاکستان اور بھارت کے قیام کے وقت،ہندوستان سے ملحق آزادریاستوں کویہ آپشن دیاگیا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں ۔ کیونکہ اب ان کا آزادانہ حیثیت میں survivalکرنا مشکل ہی نہیں،ناممکن بھی ہوگا۔ سلہٹ اور ’’سرحد‘‘ میں اس مقصد کے لئے ریفرنڈم ہوا اور یہاں کے عوام کی اکثریت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں رائے دی۔لیکن کشمیرمیں بھارت نے اپنی فوج اتادی اور کسی ریفرنڈم کے بغیر ہی یہاں کے راجہ حکمران سے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کروا دیا۔ اس پر کشمیری مسلمان سراپااحتجاج بن گئے۔بھارتی فوج نے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑدیئے۔ اس صورت ِحالات سے مجبور ہو کر پاکستان نے ،اپنے مسلمان بھائیوں کو بھارتی فوج ظلم وستم سے بچانے کے لئے اپنی فوج کشمیر میں بھیج دی۔ کشمیری مسلمانوں نے پاکستانی فوج کا بھر پور ساتھ دیا۔قریب تھا کہ پورا کشمیر ،بھارتی تسلط سے آزاد ہو جاتا،بھارت نے خود اقوامِ متحدہ پہنچ کر دہائی دی اور وعدہ کیا کہ جنگ بندی کروائی جائے تاکہ کشمیر یوں کو خودارادیت کا حق دیا جاسکے۔ اقوامِ متحدہ نے ضمانت دی کہ کشمیر کو دونوں ملکوں کی فوج سے خالی کروا کر، آزادانہ استصواب کروایا جائیگا۔

بھارت نے کشمیرسے فوج نکالنے میںلیت ولعل سے کام لیا اور اب تک لے رہا ہے۔کشمیر میںآزادانہ ریفرنڈم کے راستہ میںبھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی ، سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔بھارت کو اندازہ ہے کہ آزادانہ ریفرنڈم میںفیصلہ اس کے خلاف آئے گا۔ اس لئے یہ اس وقت کا انتظار کررہا ہے جب کشمیر میں مسلمان اقلیت میں چلے جائیں۔اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے بھارت کشمیر میں،ایک طرف مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے تودوسری طرف ہندوؤں اور سکھوں کولاکر کشمیر میں بسا رہا ہے۔لیکن 67 سال ہونے کو ہیں وہ اس مشن میں بھی ناکا م رہاہے۔کیونکہ کشمیری مجاہدین اپنی جانوں کی قربانی دے کر اپنے مسلمان بھائیوں کا تحفظ کر رہے ہیں،پھر ان حالات میں کون باہر سے آکر کشمیر میں بسنے کو تیا ر ہوگا۔اپنی اس ناکامی پر بھارت پریشان ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی اس ضد اور ہٹ دھرمی پر،عالمی برادری اپنی جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے تو اقوامِ متحدہ بھی بے حسی اپنائے ہوئے ہے بلکہ ان تینوں،ہم پیالہ وہم نوالہ قوتوںنے مل کر پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف ایک اور گہری سازش کا جال بچھا دیا ہے۔وہ یہ کہ جموں ،کشمیر ، وادی،لداخ اور گلگت و بلتستان کے صوبوں کے وفاق کے نام پرکشمیری مسلمانوںکے ایک گروپ سے ایک آزاد جمہوری اورسیکولر ریاست کانعرہ بلند کروادیا گیا ہے۔ 1988ء سے کشمیر میں، اس تصور پرباقاعدہ عمل کا آغاز ہوا۔

٭۔بھارت 67سال کے طویل عرصہ میں، کشمیری مسلمانوں کو پاکستان کے خلاف نہیں کر سکا۔ لیکن ’’آزاد ملک‘‘ کشمیر کا فارمولہ یہ کام 15سال میں کر دکھائے گا۔لہٰذا اس عرصہ کے بعد کا ریفرنڈم الحاق کیخلاف اور ’’آزادی‘‘ کے حق میں گا۔ان کو پاکستان کی غلامی سے ڈرایا جائیگا۔اس طرح پاکستان سراسر خسارے میں رہے گا۔بھارت ،کشمیر پر قبضہ میں ناکامی کے بعد چاہتا ہے کہ کشمیر ایک آزادملک بن جائے تاکہ پاکستان مضبوط نہ ہونے پائے ،گلگت وبلتستان اور ’’آزاد کشمیر‘‘ بھی پاکستان کے ہاتھ سے نکل جائیگا۔ مشرقی پاکستان کو اس نے پہلے ہی الگ کر دیا ہواہے۔

٭۔اس طرح بھارت کو سرخروئی ملے گی اور وہ اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ممبر بن جائیگا۔ ٭۔ ’’آزاد ملک کشمیر‘‘ کی تحریک کے نتیجے میں کشمیری مسلمان منقسم ہو جائینگے۔جس سے پاکستان کے مؤقف پر زد پڑیگی۔اس طرح بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت کم ہو جائیگی۔ ٭۔کشمیر ’’آزاد ملک‘‘ کی حیثیت سے خودمختار نہیں بن پائے گا اور بنگلہ دیش کی طرح ،بھارت کا دستِ نگر ہو جائیگا۔کیونکہ ’’آزادملک‘‘ کی سیاسی قیادت اور حکمران اپنے ذاتی مفادات کو ہی پیشِ نظر رکھیں گے۔لامحالہ اس کیلئے انہیں بھارت کی خوشنوودی درکار ہوگی ورنہ وہ قبضہ کرلے گا۔یوں یہ کمزور حکومت ،بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کیخلاف استعمال ہوگی۔ ٭۔’’آزاد ملک کشمیر ‘‘پر بھارت کی کٹھ پتلی حکومت ،دریائی پانیوں پر،موجودہ بھارتی پالیسی جاری رکھے گی۔٭۔پاکستان بھارت سرحدی چپقلش میں ’’آزاد ملک کشمیر‘‘ غیر جاندار ہو جائیگابلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہو ۔اس طرح یہ پاکستان کیلئے دوسرا بنگلہ دیش بن جائیگا۔ کیونکہ اسکی لیڈر شپ بھی اپنے ملک کی ’’آزادی‘‘ میں بھارت کی مرہونِ منت ہوگی۔ ٭۔کشمیر کے ’’آزاد ملک‘‘ بننے کے بعد پاکستان اور کمزور ہو جائیگا۔

ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے توپاکستان کے مفاد میں ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کا حل وہی ہے جو طے شدہ اصولوں کیمطابق ہو۔آخر کار اسکاٹ لینڈ،جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور میں بھی تواس طرح کا ریفرنڈم ہو چکا ہے۔ بس عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے اور رائے عامہ اپنے مؤقف کے حق میں استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے امتِ مسلہ کو متحد ہو کر اقوامِ متحدہ پر دباؤ بڑھانا ہوگا ۔ اگر کشمیریوں کو’’آزاد ملک‘‘نعرہ دے کر،یہاں کے مسلمانوں کو بھی منقسم کرنے کا راستہ اپنا لیا جائے تویہ بھارت سے دوستی اور پاکستان سے دشمنی کا رویہ ہوگا۔

مسئلہ کشمیر،چھ دہائیوں کے گزرنے کے باوجود، کشمیری مسلمانوں کے جذبہ جہاد کی بدولت ، آج بھی زندہ ہے۔ابھی 2014ء میںمقبوضہ کشمیر میں عام انتخابات کا ،ایک بار پھر جو ڈھونگ رچایا گیا ، اس میں بھارت کی حکمران پارٹی بی جے پی کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔ 87سیٹوں پر ایکے امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے تھے،صرف 25 جیت پائے ۔ان انتخابات کے دوران جب بھارتی وزیرِ اعظم ،کشمیر کے دورہ پر آئے تو انکی آمد کیخلاف ہڑتال کی کال کے نتیجے میں پورا کشمیر بند ہو گیا ۔ان تمام واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عصرِ حاضر میں بھی کشمیری عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔انہیں بھارت کی غلامی کسی صورت قبول نہیں۔آج بھی کشمیر کے مسئلے کا یہی حل ہے کہ کشمیریوں کوحقِ خودارادیت کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنی آزادمرضی سے اپنے محفوظ مستقبل کیلئے پاکستان سے وابستہ ہو نے کا فیصلہ کر سکیں۔