رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے 18 مطالبات

جماعتِ اسلامی پاکستان نے گذشتہ سال بھی اس امر کی طرف حکومت کو توجہ دلائی تھی اور آج بھی موجودہ حکومت کے سامنے عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اور اس بابرکت ماہ کے ثمرات کو حقیقی طور پر سمیٹنے کیلئے عوام کو اسلامی فلاحی ماحول فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مطالبات پیش کیے جارہے ہیں۔ 1۔وفاقی حکومت رمضان المبارک کیلئے تمام اداروں اور معاملات کوسامنے رکھتے ہوئے ضابطۂ اخلاق جاری کرے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

2۔اشیائے ضرورت بالخصوص اشیائے خورد و نوش کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے اور اِن اشیاء کے نرخوں میں کم از کم 30 فیصد رعایت دی جائے اور دی جانیوالی رعایت پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ رمضان المبارک کے مہینہ میں ہر یونین کونسل میں کم از کم 2یوٹیلٹی سٹورز کھولے جائیں۔

3رمضان المبارک کے مہینہ میں روزہ داروں کو اشیاء مہیا کرنے والے ریڑی بان،چھابڑی والے اور دیگر سبزی ،فروٹ ،کھجوراوردیگر اشیائے خوردونوش کے سٹال ہولڈرزکا کسی صورت بھی سامان ضبط نہ کیا جائے اور اگر کوئی ریڑی بان،چھابڑی والہ ودیگر قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسکو مسلسل تنبیہ کی جائے۔

4۔ وفاقی کابینہ نے رمضان المبارک کی اہمیت کے پیش نظرپونے دو ارب روپے کی سبسڈی کا جو اعلان کیا ہے وہ صرف یوٹیلیٹی سٹورز کی حد تک ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالہ سے وفاقی کابینہ نے کو ئی منصوبہ بندی نہیں کی جو کہ غیر ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔

5۔وفاقی حکومت رمضان المبارک میں دی جانے والی ریلیف کی تفصیلات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو جاری کرے تاکہ عوام الناس کو اطمینان ہو۔

6۔حکومت گیس، بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے، خصوصاً سحری ،افطاری، تراویح اور تہجدکے اوقات میں گیس، بجلی اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

7۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی صورت میں اضافہ نہ کیا جائے۔برانڈڈ کمپنیز کو پابند کیا جائے کہ وہ بھی رمضان المبارک میں کسی صورت قیمتیں نہ بڑھائیں۔

8۔عام راستوں اور سینما گھروں کی دیواروں پر آویزاں فحش اور غیر اخلاقی پوسٹرز رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا ایسے غیر اخلاقی پوسٹرز، بینرز، سائن بورڈز وغیرہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔تمام شیشہ سنٹرزاور اسی نوعیت کے دیگر مقامات کو سیل کر دیا جائے۔فحاشی پر مبنی ہر قسم کی سرگرمیوں پر کنٹرول کرنے کے حوالہ سے تھانہ کی سطح پر پولیس کو مکمل اختیار دیے جائیں۔

9۔ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قرآنِ حکیم کی تلاوت اور باترجمہ و تفسیر کیلئے اوقات میں اضافہ کیا جائے۔نجی ٹی وی چینلز،پرنٹ میڈیاپراور خصوصاً ایف ایم ریڈیو پر چلنے والے تمام غیر اخلاقی ،بیہودہ اور گانے بجانے کے پروگرامات اور نشریات کو بند کیا جائے خصوصا رمضان المبارک کے تقدس کے پیش نظر مکمل طور پرفوری بند کیے جائیں۔

10۔بسوں، ویگنوں، سوزوکیوں، کاروں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ میں گانا بجانے، ویڈیو چلانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

11۔اخبارات، رسائل اور دیگر ذرائع ابلاغ نیز راستوں، شاہراہوں اور ہر قسم کے پبلک مقامات سے اسلامی طرزِ معاشرت کے منافی سائن بورڈز، ہورڈنگز، بینرز، پوسٹرز وغیرہ ہٹادیے جائیں اور اُن کی جگہ رمضان المبارک کے فضائل و برکات سے متعلق آیاتِ قرآنی اور احادیثِ مبارکہ تحریر کیے اور کرائے جائیں۔

12۔غیراخلاقی ،فحش آڈیو، ویڈیو فلموں اور گانوں کی خرید و فروخت اور نمائش کا کاروبار کرنے والی تمام دوکانوں کو رمضان المبارک میں مکمل بند رکھا جائے۔

13۔الیکٹرانک میڈیا سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایسے پروگرامز نشر کیے جائیں جو رمضان المبارک کے فضائل و برکات، روزہ رکھنے کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کے اجر و ثواب جیسے موضوعات پر مبنی ہوں۔

14۔ حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں ایک ہی دن رمضان المبارک اور عیدالفطر کو یقینی بنانے کیلئے رویتِ ہلال کمیٹی کیساتھ ساتھ ماہرین محکمہ موسمیات اور جدید ترین سائنسی آلات سے بھی بہتر انداز میں استفادہ کیا جائے۔

15۔حکومت احترامِ رمضان المبارک آرڈی نینس 1981ء پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے اور اس پر عملدرآمد کا ہفتہ وار جائزہ جاری کیا جائے۔

16 رمضان المبارک میں اپنے شعوری کوشش کیساتھ اس کے تمام آداب کو مد نظر رکھنا ہی ایک زندہ مسلمان ہونے کا ثبوت ہے۔رمضان المبارک میں تمام امور پر مئوثر کنٹرول،قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کرنے اورسابقہ سالوں کے تلخ تجربات کو دہرانے سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ شعبان المکرم کے مہینہ سے ہی پاکستان بھر میں ٹھوس بنیادوں پر منصوبہ بندی کی جائے اور اس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کا م کیا جائے۔

17 -نماز تراویح ،نماز فجر ،جمعتہ المبارک کے مواقع پر مساجد،امام بارگاہوں اور دینی مدارس کی سیکیورٹی کا خصوصی خیال کیا جائے۔

18۔حکومت پورے ملک میں مزدوروں کے کام کے اوقات میں کمی ،انکی سحری اور افطاری کا بندوبست، عید کے موقع ان کو بروقت چھٹیاں اور عیدی کی آجر کی طرف سے فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالہ سے اقدامات کیے جائیں۔

افسوس کی بات ہے کہ رمضان المبارک سے قبل اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اگر یہی صورتحارل رہی تو حکمرانوں کو سوائے بد دعا ئوںکے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔توقع کی جاتی ہے کہ حکومت مندرجہ بالا اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام ضروری ریاستی وسائل کو بروئے کار لائے گی، تاکہ رمضان المبارک کے آداب اور اسکے احترام و تقدس کو یقینی بنایا جاسکے۔