سیدابوالاعلیٰ مودودی


یہ صاحب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے !
جنہیں عرف عام میں سید مودودی ؒ یا مولانا مودودی کہا جاتاہے۔ سیدمودودی ؒ اسلام کے مذہبی اخلاقی، معاشی ، معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں پر لا تعداد تحریروں ، مضامین ، مقالہ جات اور سو سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ مولانا مودودی ؒ قرآن ، حدیث ، فقہ کے ساتھ ساتھ عمرانی مسائل ، فلسفہ ، اسلامی تاریخ ، تفسیر قرآن ، معاشیات اور علم سیاسیات کے متبحر عالم تھے ،انہوں نے اپنی دل آویز شخصیت ، دل نشیں طرز انشاء اور دل کش اسلوب تحریر سے مسلمانوں کو اُن کا بھولا ہوا سبق سکھایا یا د دلایا ، لااکھوں مسلمانوں کو اپنی حرارت ایمانی پر مبنی تحریروں اور خطابت سے گرما دیا اور اُن کے دلوں میں حقیقی نصب العین ، حکومت الٰہیہ کے قیام اور تعمیر ، اصلاً رضائے الٰہی اور نجات اُخروی کے حصول کی تڑپ پیدا کردی ۔ مولانا مودودی ؒ ہی ہیں جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں میں اسلام کے اجتماعی نظام ، تعمیر ریاست اسلامی اور اتحاد عالم اسلامی کی علامت ہیں۔
یہ نوجوان سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ تھے !
دہلی کی عظیم جامعہ مسجد میں ہزاروں مسلمانوں کا عظیم اجتماع تھا۔ مولانا محمدعلی جوہر ؒ کی خطابت کے جوہر سے مجمع مسحور ہوچکاتھا ۔ وہ ہمیشہ سامعین کو ملی جذبات سے مسرور ،تعلیم ،ترغیب سے متاثر اور حریت فکر وآزادی کے ولولہ سے سرشار کردیتے۔ دہلی کی جامع مسجد میں خطاب ایسے موقع پر تھاکہ 1926ء میں آریہ سماج کے لیڈر سوامی شردھانند کو قتل کردیا گیا، یہ شخص مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی تحریک کا بانی تھا، اس نے اپنی کتاب میں نبی کریم ﷺپر ناروا حملے کرنے کی ناپاک جسارت کی تھی۔ عبدالرشید نامی مسلمان نے غیر ت ایمانی کے جوش میں آکر اسے قتل کردیاتھا۔ اس کے قتل کے بعد ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور ہنگامہ خیز مقدمہ شروع ہوگیا۔ اس موقع پر جامع مسجد دہلی کی خطابت میں مولانامحمدعلی جوہر ؒ نے بہت پُر سوز ،بڑی رقت و حسرت اور دل گدازی سے مسلمانوں سے رُندھی ہوئی آواز میں کہاکاش کوئی اللہ کابندہ ہندوؤں کے ان الزامات کے جواب میں اسلام کا صحیح نقطۂ نظر پیش کرے ،دلیل سے ان کا منہ توڑ جواب دے ۔ یہ پکار اس مرد مجاہد کی تھی جس کی سیرت و صورت مسلمانوں کے قائدین سلف کی یاد گار تھی۔
دہلی کی اس عظیم جامع مسجد میں عظیم خطاب سے جہاں ہزاروں کامجمع مسحور ہوا وہیں ایک نوجوان نے مولانا جوہر ؒ کی بات کو گرہ میں باندھ لیا اور فیصلہ کر لیا کہ وہ اس کام کا بیڑہ اٹھائیں گے۔ پھر الجہاد فی الاسلام کے نام سے سلسلہ مقالات شروع کیا ، یہ معرکۃ الآراء کتاب الجہاد فی الاسلام کے نام سے پوری دنیا میں متعارف ہوئی ۔۔۔یہ نوجوان سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے ۔ مغربی نقادوں نے اس کتاب کو ہٹلر کی کتاب ’’میری جدوجہد ‘‘ سے تشبیہ دیا اور خبرد ار کیاکہ سید مودودی ؒ کی تسلیم شدہ صالحیت بھی شدیدخطرے کا باعث ہے۔
1939ء کی عالمگیر جنگ کے اثرات ،دنیا کے لیے تباہی:
1857ء کے بعد سے برصغیر خصوصاً مسلمان دباؤ میں تھے۔ مولانا مودودی ؒ عالمی سطح پر ہونے والے آتش وخون ،انسانوں کے ساتھ جانبداری ، تعصبات کی بنیادپر قتل وغارت گری کی خبر ایک مدت سے دے رہے تھے انہوں نے کئی بار کہاکہ انقلاب آ رہاہے جو1857ء کے انقلاب سے زیادہ تباہ کن ہوگا، اس کے ساتھ عالمی انقلاب ناگزیر ہے جس کے اثرات زیادہ بھیانک، تباہ کن اور تباہی میں زیادہ اضافہ کے باعث ہوں گے، مولانا مودودی ؒ نے نشاندہی کی کہ عالمگیر جنگ کی صورت ہندوستا ن میں ہونے والی جدوجہد انقلاب کو قریب تر لے آئے گی، عالمگیر جنگ چھڑ گئی اس موقع پر مولانا مودودیؒ کی زبردست تجزیے ،مضامین اور تحریریں منظر عام پر آئیں یہ تحریریں سید مودودی ؒ کی حق گوئی ، جرأت و بے باکی اور دنیا کی کسی بھی طاقت سے نہ ڈرنے کے وصف کا اولین اظہار تھا ۔
سید مودودی ؒ کے طرز تعلیم ،طرز بیان اور اسلوب تحریر کے اثرات :
مولانا مودودی ؒ ،اپنی خطابت ،تحریروں میں فقہی مسائل بیان کرنے کی بجائے اسلام کی مبادیات او ران کے انقلابی رخ و کردار اور انسانی زندگی کی معاشرتی ، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں سے تعلق رکھنے والی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نئی نسل کے فکر و ذہن کو منور کرتے ۔ مولانا مودودی ؒ کی یہ کوششیں یقیناً انقلاب انگیز کام تھا جس نے نوجوان نسل کے ذہن ہی نہیں بدلے بلکہ اُن کی زندگی کے طور اطوار بھی بدل ڈالے۔
ایم اے او کالج امرتسر کی درخواست پر سید مودودی ؒ نے 26نومبر 1939ء کو’’اسلام کانظریہ سیاسی ‘‘ مقالہ کالج کے غلام حسن ہال میں پیش کیا ، کالج کا ہال اساتذہ ، حاضر اور سابق طلبہ ، دانش ور اور معززین شہر سے بھرا ہواتھا ، اس مقالہ نے ہر ایک کو متاثر کیا اور اس کی فکر انگیزی نے ایسا ماحول کردیا کہ طویل مقالہ ہر ایک کے ذہن کو قبولیت پر آمادہ کرتا جاتا، ایسے محسوس ہوتا کہ دانائے راز طالب علموں اور تعلیم یافتہ حضرات کو انگلی پکڑ کر راستہ دکھاتا جارہاہے۔
سید مودودی ؒ کی فکر ، جدوجہد ،تنظیم سازی اور دعوت کی تین بنیادیں:
سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے کام کو تین عنوانات میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔
۱۔اسلامی حکومت کے بنیادی نظریے اور اس کے نمایاں خدوخال کو لوگوں کے سامنے کھول کر رکھا تاکہ جس چیز کی طلب اُن کے اندر پیداہوگئی ہے ا س کی نوعیت سے وہ خوب اچھی طرح آشنا ہوجائیں کہ کوئی قیادت کل کسی وقت کوئی مذہبی کھلونا دے کر انہیں اس دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ وہ جو کچھ چاہتے تھے وہ انہیں حاصل ہوگیا ۔
۲۔تہذیب اسلامی کی مبہم سی خواہشیں جو مسلمانوں کے اندر اُبھری ہیں اس کے بارے میں انہیں پوری وضاحت سے بتایا جائے کہ اسلامی تہذیب کیا شے ہے ،اس میں اور دوسری تہذیبوں میں کیا بنیادی فرق ہے۔ اس تہذیب کے احیاء اور بقا کے لیے ایک حقیقی اسلامی نظام حکومت کا قیام کیا اہمیت رکھتاہے ، اسلامی حکومت اور جاہلی حکومت میں کیا فرق ہے اور مسلمانوں کی جاہلی حکومت اسلامی نظام حکومت کے راستے میں کتنی بڑی رکاوٹ ہے۔
۳۔مسلم قوم پرستی اور اسلام کے نام پر کام کرنے والے افکاراور تحریکوں کا تجزیہ کرکے یہ واضح کیا کہ اسلامی نظام زندگی کااحیاء اور قیام کس قسم کی تحریک کے ذریعے ہوسکتاہے جو تحریکیں مسلمانوں کے اندر اس وقت کام کررہی ہیں ، وہ کس بناء پر اس نصب العین تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔
۴۔مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ استقامت کے پہاڑ تھے ، وہ شمع محفل تھے جس کی روشنی اور نور شفقت سب پر برابر پڑتی تھی ، وہ نہایت حلیم ، خوش طبع اور ذہنوں کو متاثر کرنے والے ملائم اور مدلل بات کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ، اُن کی تحریروں ،فکر اور تفسیر قرآن کریم ۔۔۔تفہیم القرآن نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا اُن کی وفات کو 36سال بیت گئے لیکن اُن کی فکر ،تحریک، تحریر یں زندہ ہیں اور ان شاء اللہ زندہ رہیں گی اس لیے کہ اُن کی فکر قرآن و سنت سے جڑی ہوئی ہے۔
دنیا بھر میں مستقبل مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی فکر اور امام حسن البناء شہید ؒ کی فکر کا ہے۔ عالم کفر اور استعماری قوتیں سیکولرازم ، لبرل ازم اور مغربی سرمایہ دارانہ طاقت سے پیش قدمی روکنا چاہتے ہیں لیکن ناکام ہوں گے۔