ایک تھنک ٹینک میں ہونے والی بحث

پاک فضائیہ نے پاکستان کو درپیش سیکورٹی چیلنجوں کا تجزیہ کرنے اور ان چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے لئے ایک تھنک ٹینک سنٹر فار ائیروپیس اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز CASS کے نام سے قائم کیا ہے۔ راقم کو فضائیہ کے اس تھنک ٹینک کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ جہاں چیف آف ائر سٹاف ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے ائیر فورس کے اس تھنک ٹینک کی غرض وغایت کے بارے میں مہمانوں کو بتایا تھا۔ سنٹر فار ائیروپیس اینڈ سیکورٹی سٹڈیز نے پاکستان کو درپیش سیکورٹی مسائل کا پہلا سیمینار منگل کو یہاں سیرینا ہوٹل میں انعقاد کیا۔اس سیمینار میں پاکستان کی سیکورٹی خارجہ پالیسی اور معاشی وسیاسی مسائل پر گفتگو کرنے والوں میں بڑی چیدہ چیدہ شخصیات شامل تھیں۔ تقریب کی صدارت چیئرمین چائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کی۔ فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر چیف مارشل کلیم سعادت‘ ممتازمعیشت دان ‘ وزیراعظم کے خصوصی معاون ڈاکٹر عشرت حسین‘ سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر کے علاوہ جانے پہچانے معیشت دان ڈاکٹر عابد سلہری آئی ٹی کے ماہر بابر‘ ڈاکٹر عمرسیف‘ CASS کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان چوہان اور پاک فضائیہ کے سابق ائیر وائس مارشل شہزاد چوہدری جو اکثر تجارتی ٹاک شوز میں عسکری امور کے ماہر کے طور پر شریک ہوتے ہیں نے ان مسائل پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا جو اس وقت پاکستان کے لئے فکر اور پریشانی کا سبب ہیں۔

چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے عالمی اور علاقائی سٹرٹیجک ماحول کا بڑا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ جنرل زبیر کی گفتگو کا نچوڑ یہ تھا کہ عالمی اور علاقائی سطح پر بدلتے ہوئے ماحول، طاقت کا توازن مشرق کی طرف ہورہا ہے جو امریکہ اور مغربی دنیا کے لیے پریشانی کا سبب ہے ۔ سٹرٹیجک توازن کو مشرق کے حق میں کرنے میں چین کی حیرت انگیز ترقی نے بہت اہم کردار کیا۔ مغربی ملک خاص طور پر امریکہ اس نئی عالمی صورت حال سے سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے جنوبی ایشیاء میں امریکہ اور مغرب نے چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنے CONTAIN کرنے کے لئے بھارت کو آگے کیا ہے۔ اس نئی صورت حال میں بھارت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس کے طرز فکر اور پالیسیوں میں تبدیلی آرہی ہے۔ بھارت پہلے ہی بڑی طاقت ہونے کے زغم میں مبتلا تھا جب سے اسے مغربی ملکوں کی تھپکی ملی ہے وہ آپے سے باہر ہورہا ہے۔ زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ بھارت میں اس وقت ایک انتہا پسند ہندو سیاسی جماعت اقتدار میں ہے جو بھارتی مسلمانوں کو پاکستانی کہہ کر مخاطب کرتی ہے اس جماعت نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

ہندوتوا اور ’’ہندی ہندو اور ہندوستان‘‘ کے فلسفے کا پرچار کرنے والے نریندر مودی نے اپنے پڑوسی ملکوں کے لئے بھی مشکلات پیدا کرنا شروع کر دی ہیں لیکن اس کا اصل ہدف پاکستان ہے ۔ بھارتی حکومت نے پہلے پلوامہ کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کے خلاف کارروائی کا جواز بنایا جس پر اسے سخت جواب دے کر پیغام دیا گیا کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز رہے۔ اس کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا ہے اور کشمیریوں کو دوماہ سے زیادہ عرصہ سے گھروں میں محصور کردیا ہے۔ پلوامہ کے بعد بھارت کی جس انداز میں پاکستان نے غلط فہمی دور کی ہے اس کے بعد اسے یہ احساس ہو چکا ہے کہ پاکستان کے خلاف محدود روایتی جنگ کا فلسفہ جسے وہ کولڈ شارٹ کہتا ہے پٹ چکا ہے اور اگر اس نے اس فلسفہ پر عمل کیا تو اسے سبق سکھا دیا جائے گا بہرحال بھارت پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کررہا ہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے پاکستان قومی سلامتی کے معاشی پہلو کا فکر انگیز تجزیہ کیا ۔ ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ گزشتہ پچیس برس میں ترقی پذیر ملکوں نے عالمی منظر پر اہم کردار ادا کرنا شروع کیا ہے گزشتہ کئی دہائیوں میں مغربی ملکوں کی اقتصادی ترقی کی شرح دو سے تین فیصد تک رہتی ہے جب کہ ترقی پذیر ملکوں جن میں چین سر فہرست ہے ترقی کی شرح چھ ساڑھے چھ فیصد تک رہی ہے جس سے عالمی اقتصادی قوت کا توازن مشرق کی طرف ہوگیا ہے۔ معاشی طاقت کے توازن میں تبدیلی لانے میں چین کا کردار بہت اہم ہے یہ تبدیلی گلوبلائیزیشن کا نتیجہ ہے۔مغربی ممالک اب گلوبلائیزیشن کے خلاف ہیں جب کہ چین کے صدر نے کہا کہ گلوبلائیزیشن کا رحجان جاری رہے گا اس صورت حال نے جنوبی ایشیاء پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔ گلوبلائزیشن ‘ جدید ٹیکنالوجی اور فنی سائنسی ایجادات کئی عشروں سے جاری عالمی نظام کو تیزی سے تبدیل کررہے ہیں۔

ڈاکٹر عشرت کے تجزیہ کے مطابق پاکستان کی سلامتی میں معیشت اس کا کمزور پہلو ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ستر برس میں پاکستان میں سیاسی استحکام نہیں آسکا پاکستان میں سماجی ہم آہنگی بھی نہیں ہے۔

پاکستان کے اہم قومی ادارے زوال پذیر بھی، ایک زمانے میں پی آئی ڈی سی‘ پی آئی اے اور واپڈا سمیت دوسر ے ادارے منظم اور مستحکم ادارے تھے جو آج تباہی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں ترقی بھی متوازن نہیں ہے غیر متوازن ترقی ہے۔ سیاسی بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہورہا ہے۔ ڈاکٹر عشرت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ‘ لاہور اور کراچی میں پانچ فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے جب کہ بلوچستان کے اضلاع سندھ‘ جنوبی پنجاب اور کے پی کے کئی اضلاع میں 70 فیصد لوگ غربت کا شکار ہیں یہ عدم توازن دور کرنا ہوگا یہ نہ ہوا تو ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔ پاک فضائیہ کے تھنک ٹینک میں سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے جو بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہ چکے ہیں نے بھارت کے پاکستان کے بارے تعصب اور عداوت پر مبنی پالیسیوں کو بے نقاب کیا۔