سیاست کی سزا

میاں نواز شریف کا وزن کم محسوس ہو رہا تھا اور چہرے سے شادابی عنقا تھی تاہم لہجہ پہلے سے زیادہ توانا تھا‘ وہ مطمئن بھی دکھائی دیتے تھے‘ یوں محسوس ہوتا تھا وہ اب ہر قسم کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں‘ جیل نے مریم نواز پر بھی اثر کیا تھا‘ وہ بھی کمزور دکھائی دیتی تھیں لیکن وہ بہت کمپوزڈ تھیں‘ وہ ہر سوال کا سوچ سمجھ کر جواب دے رہی تھیں ‘ کیپٹن صفدر بیمار اور کمزور دکھائی دے رہے تھے‘ ان کی گردن پر جھریاں پڑ چکی تھیں اور وزن بہت کم ہو گیا تھا‘ میں کمرے میں داخل ہوا‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز سامنے کرسیوں پر بیٹھے تھے۔

میاں صاحب کے دائیں بازو مجیب الرحمن شامی اور جاوید ہاشمی تھے جب کہ باقی احباب سامنے بیٹھے تھے‘ کیپٹن صفدر مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز بھی اٹھ گئے‘ میں شرمندہ ہوگیا‘ میں نے جلدی جلدی میاں نواز شریف سے ہاتھ ملایا اور سائیڈ پر بیٹھ گیا‘ میاں نواز شریف شگفتہ لہجے میں چٹکلے چھوڑ رہے تھے‘ ان کی زندہ دلی زندہ تھی‘ مجھے اچھا لگا‘ انسان کتنا بڑا اور مضبوط ہوتا ہے یہ فیصلہ مشکلیں کرتی ہیں اورمجھے میاں نواز شریف اس وقت اندر سے مضبوط اور بڑے انسان محسوس ہوئے۔

یہ 6 ستمبر جمعرات کا دن تھا‘ میں میاں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گیا‘ ن لیگ کے ایم این ایز‘ سابق وزراء اور فیملی کے افراد جیل کے سامنے کھڑے تھے‘ جیل حکام نے انھیں دھوپ میں روک رکھا تھا‘ یوں محسوس ہوتا تھا ان لوگوں کو ان کی ’’اوقات‘‘ دکھانے کے لیے سڑک پر کھڑا کیا گیا ہے‘ خواجہ آصف سے بار بار ان کا نام پوچھا جا رہا تھا اور پھر لمبی فہرست میں ان کا نام تلاش کیا جا رہا تھا‘میں نے خواجہ آصف سے کہا’’خواجہ صاحب اب ان کو آپ کا نام نظر نہیں آ سکتا‘‘ خواجہ آصف نے قہقہہ لگایا‘ یہ بھی ڈیڑھ گھنٹہ دھوپ میں کھڑے رہے‘ گیٹ سے ملاقات کا کمرہ آدھ کلومیٹر دور تھا‘ تمام لوگ دھوپ میں چل کر وہاں تک پہنچ رہے تھے۔

میں اس سارے عمل سے گزر کر میاں نواز شریف تک پہنچا‘ یہ پروسیجر مشکل ضرور تھا لیکن اس میں ایک بات اچھی تھی‘ تمام لوگوں کے لیے معیار اور عمل یکساں تھا‘ کسی کو خصوصی سہولت نہیں دی جا رہی تھی‘ملاقات کے کمرے میں حبس تھا‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز نے بتایا ‘یہ دونوں قید تنہائی میں ہیں‘ کمپاؤنڈ میں کوئی قیدی نہیں ہوتا۔

نواز شریف کا سیل شام کو بند کر دیا جاتا ہے‘ کمرہ بہت چھوٹا ہے‘ ایک چار پائی‘ پلاسٹک کی ایک میز ‘ایک کرسی اور بمشکل جائے نماز کی جگہ اور سیل ختم‘ یہ اپنا زیادہ وقت قرآن مجید پڑھ کر گزارتے ہیں‘ کٹلری پلاسٹک کی دی جاتی ہے‘ تربوز کی ایک قاش دی گئی‘ پلاسٹک کی چھری سے کاٹنے کی کوشش کی‘ چھری ٹوٹ گئی لیکن تربوز نہ کٹا‘ میاں نواز شریف نے آسمانی رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی‘ کپڑے استری کے بغیر تھے اور ان میں سلوٹیں صاف نظر آ رہی تھیں‘ مریم نواز نے بتایا‘انھیں بڑی مشکل سے ڈائری ملی‘ جیل حکام نے ہر صفحے پر مہر لگائی اور دستخط کیے۔

ڈائری کے آخر میں لکھا گیا’’ تصدیق کی جاتی ہے یہ ڈائری چالیس صفحات پر مشتمل ہے‘‘ انھیں واک کا موقع دیا جاتا ہے تاہم یہ جیل کی کسی خاتون ملازمہ سے بات نہیں کر سکتیں‘یہ جیل کے اندر الگ تھلگ جگہ پر ہیں‘ وہاں کوئی دوسری قیدی خاتون موجود نہیں۔ میں نے میاں نواز شریف سے پوچھا ’’کیا آپ کی بیگم کلثوم نواز سے بات ہوتی رہتی ہے‘‘ میاں نواز شریف اداس ہو گئے‘ وہ چند لمحے رکے اور پھر بولے ’’ہاں ہمیں ہفتے میں ایک بار ٹیلی فون کی اجازت ملتی ہے۔

ہم جیل مینول کے مطابق ہفتے میں بیس منٹ فون کر سکتے ہیں‘ جیل سے بیرون ملک کال نہیں کی جا سکتی‘ حسن نواز کے پاس پاکستانی فون موجود ہے‘ ہم اسے کال کرتے ہیں‘ وہ فون لے کر اسپتال چلا جاتا ہے اوریوں ہم کلثوم سے بات کر لیتے ہیں‘‘ مریم نواز بولیں ’’امی کو یہ معلوم نہیں ہم جیل میں ہیں۔

وہ بار بار بھائیوں سے پوچھتی ہیں یہ لوگ کیوں نہیں آ رہے اور یہ مجھے روز فون کیوں نہیں کرتے‘‘ وہ رکیں‘ اپنے آنسو سنبھالے اور پھر بولیں ’’بھائی انھیں بتاتے ہیں مریم باجی اور ابو جان نے فون کیا تھا‘ آپ اس وقت آرام کر رہی تھیں‘ ہم نے آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا‘ وہ پوچھتی ہیں یہ لوگ کب آئیں گے‘ بھائی بتاتے ہیں آپ جب ٹھیک ہو جائیں گی‘ چلنا پھرنا شروع کر دیں گی‘ باتیں کرنے لگیں گی تو یہ لوگ آ جائیں گے اور پھر ہم سب اکٹھے رہیں گے‘‘۔

مجھے میاں نواز شریف کی آنکھوں میں نمی صاف نظر آ رہی تھی‘ کیپٹن صفدر دور بیٹھے تھے‘ وہ فوراً بولے ’’پچھلے ہفتے ہم پر ایک بڑا جذباتی وقت آیا‘ دادو (میاں نواز شریف کی والدہ شمیم بیگم) ملاقات کے لیے آئیں‘ وہ اپنا سامان بھی ساتھ لائی تھیں‘ وہ اصرار کر رہی تھیں وہ بھی ہمارے ساتھ رہیں گی‘‘ مریم نواز فوراً بولیں ’’ہم نے انھیں بہت سمجھایا امی جی یہ جیل ہے‘ یہاں صرف قیدی رہ سکتے ہیں‘ آپ ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتیں لیکن وہ نہیں مان رہی تھیں‘ ہم نے انھیں بڑی مشکل سے گھر واپس بھجوایا‘‘ وہ خاموش ہو گئیں‘ کمرے میں سوگوار اداسی پھیل گئی۔

میں یہ سوگواری سمیٹ کر واپس آ گیا‘ مجھے گیارہ ستمبر کو تین بجے نعیم بٹ کا فون آیا اور انھوں نے بتایا ’’کلثوم بھابھی انتقال کر گئی ہیں‘‘ مجھے اپنے اندر کوئی چیز ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی‘ نعیم بٹ سابق اداکار ہیں‘ یہ اداکاری چھوڑ کر تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے اور یہ اب میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے بہت قریب ہیں‘ بٹ صاحب نے بتایا‘ کلثوم بھابھی صحت مند ہو گئی تھیں‘ یہ سی سی یو سے کمرے میں آ گئی تھیں اور یہ اب کھاتی‘ پیتی اور باتیں بھی کرتی تھیں‘ دس ستمبر کو اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی‘ گلے میں انفیکشن ہوا‘ پھیپھڑوں میں پانی بھرا‘ یہ سی سی یو میں شفٹ کی گئیں‘ کومے میں گئیں اورپھر واپس نہ آ سکیں‘میں گہری اداسی میں چلا گیا اور مجھے وہ تمام چہرے ایک ایک کر کے یاد آنے لگے جو سال بھر سے کلثوم نواز مرحومہ کی بیماری کا مذاق اڑا رہے تھے ‘یہ اس بیماری کو شریف خاندان کا ’’سیاسی کارڈ‘‘ کہتے تھے‘میں نے سوچا‘ ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں‘ہم لوگوں کی بیماری‘ لوگوں کی موت کو بھی مذاق بنا لیتے ہیں۔

ہمارے ملک میں لوگوں کواپنی بیماری کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے‘ہم لوگ قرآن اور نماز میں بھی سیاست تلاش کر لیتے ہیں‘ ہم کتنے بدقسمت لوگ ہیں‘ ہم اگر سیاست کو ایک طرف رکھ دیں اور شریف خاندان کے عروج وزوال کو انسانی سطح پر دیکھیں تو ہمیں ان پر ترس آئے گا‘ یہ مشرقی روایات میں گندھے ہوئے لوگ ہیں‘ والد اور والدہ کا احترام‘ رشتوں کا احساس‘ نماز‘ روزہ‘ قرآن خوانی‘ نعت سے محبت اور عشق رسولؐ یہ ان کی خاندانی روایات ہیں ‘یہ لوگ پاکستان بننے سے پہلے صنعت کار تھے۔

ایوب خان کے دور میں ان کی فیکٹریوں میں چھ ہزار لوگ ملازم تھے اور یہ بجا طور پر اس وقت بھی ارب پتی تھے‘ یہ سیاست میں آئے اور یہ آج عبرت کی نشانی بن کر پھر رہے ہیں‘ یہ خاندان بیک وقت خوش قسمت اور انتہائی بدقسمت ہے‘ میاں نواز شریف تین بار وزیراعظم بنے‘ میاں شہباز شریف بھی تین بار پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے‘ ملک میں ایک ایسا وقت بھی گزرا جب دو بار بڑا بھائی وزیراعظم اور چھوٹا بھائی وزیراعلیٰ تھا۔

یہ عروج آج تک پاکستان کے کسی خاندان کو نصیب نہیں ہوا لیکن آپ بدقسمتی بھی دیکھئے‘ یہ خاندان تین بار عرش سے فرش پر آیا‘ ذوالفقار علی بھٹو نے1972ء میں جسٹس جاوید اقبال کو الیکشن میں سپورٹ کرنے کے جرم میں ان کی تمام فیکٹریاں قومیا لیں‘ 1990ء اور 1993ء میں دوبار حکومتیں ختم ہوئیں اور ان پر کرپشن کے خوفناک مقدمے بنے اور جنر ل پرویز مشرف نے 1999ء میں ان کا سب کچھ چھین لیا ‘ پورے خاندان کو جیل میں پھینک دیا اور یہ اب پاناما کا مقدمہ بھگت رہے ہیں ‘ یہ جیل میں پڑے ہیں۔

آپ بدنصیبی ملاحظہ کیجیے‘ میاں نواز شریف 2004ء میں اپنے والد کی میت کو کندھا نہیں دے سکے اور یہ اس بار اپنی بیمار بیوی کے سرہانے کھڑے نہیں ہو سکے‘ ان کی والدہ بھی علیل ہیں اور یہ خود بھی بیمار ہیں‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز نے پیرول کی درخواست دینے سے انکار کر دیا تھا‘ یہ جیل سے باہر نہیں آنا چاہتے تھے‘ میاں شہباز شریف نے انھیں بڑی مشکل سے قائل کیا‘میاں نواز شریف لاہور پہنچ کر شدید بیمار ہو گئے ہیں۔

آپ اگر انسانی سطح پر سوچیں گے تو آپ کو ان پر ترس آئے گا‘ آخر ان لوگوں کا جرم کیا ہے؟ یہ لوگ اگر سیاست میں نہ آتے تو یہ اس وقت پاکستان کے دوسرے بزنس مینوں کی طرح عیاشی کر رہے ہوتے‘ان کا واحد جرم سیاست ہے‘ لندن شہر میں اس وقت بھی سیکڑوں پاکستانیوں کے گھر ہیں اور یہ گھر شریف فیملی کے فلیٹس سے دس دس گنا مہنگے ہیں‘وہ لوگ آرام سے پھر رہے ہیں اور یہ جیلوں میں دھکے کھا رہے ہیں‘ ملک کے تمام بڑے قانونی ماہرین ایون فیلڈ کے فیصلے کو ’’کمزور فیصلہ‘‘ قرار دے رہے ہیں‘ہمیں ماننا ہوگا یہ فیصلہ متنازعہ تھا‘ یہ متنازعہ ہے اور یہ متنازعہ رہے گا۔

عدالتوں کو کبھی نہ کبھی یہ حقیقت ماننا پڑے گی لیکن کیا اس وقت کلثوم نواز واپس آ جائیں گی‘ کیا اس وقت ہمارا قانون شریف فیملی کو گیا وقت واپس لوٹا دے گا‘کیا ان آنسوؤں اور ان تکلیفوں کا ازالہ ہو سکے گا؟یہ لوگ اپنے جرم سے زیادہ سزا بھگت رہے ہیں‘یہ سزا ختم ہونی چاہیے‘ بہرحال جو ہوا سو ہوا اور جو ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے لیکن کلثوم نواز ایک بے گناہ عورت تھیں‘ ہم نے انھیں اذیت دی‘ ہم نے ظلم کیا اور اس ظلم میں شامل لوگوں کو جلد یا بدیر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا پڑے گا‘ یہ لوگ حساب ضرور دیں گے۔