یہ نہیں ہو سکتا !

 

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ زندگی فرعون کی ہو اور آخرت موسیٰ ؑکی ملے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ محبتیں حسین ؓسے ہوں اور اطاعتیں یزید کی اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دماغ کربلا میں ہو اور دل میں بسی رہے دنیا۔

حضرت عمر ؓخلیفہ، یمن کے گورنر موسیٰ اشعریؓ توجہ دلائیں، نہ ڈاک کا نظام ایسا منظم کہ خطوط پر دن، وقت کی مہر، نہ آپؓ کے فرمانوں پر تاریخ، اکثر مشکل پیدا ہو جائے کہ پہلا حکم کون سا اور دوسرا کون سا، کیوں نہ اپنا کیلنڈر بنا لیا جائے، امیر المومنین ؓکو تجویز پسند آئی، اکابر صحابہؓ کو اکٹھا کیا، معاملہ سب کے سامنے رکھا، مشاورت ہوئی، سب کا متفقہ فیصلہ اسلامی کیلنڈر بنانے کا، سب کا اس پر بھی اتفاق کہ اسلامی کیلنڈر کا آغاز رسول ؐ خدا کی ہجرت (مکہ سے مدینہ) سے، چونکہ ہجرت ہوئی محرم میں، لہٰذا اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ قرار پایا محرم، یہاں یہ یاد رہے کہ جیسے کائنات کی تخلیق کے وقت ہی وقت کی تقسیم بھی ہو چکی تھی، ویسے ہی اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ قرار پانے سے پہلے ہی محرم حرمت والا مہینہ، سورہ توبہ میں ارشاد خداوندی ’’اللہ کے نزدیک 12مہینے، ان میں 4ماہ ادب والے‘‘، یہ چار مہینے رجب، ذوالقعد، ذوالحج اور محرم، اسلام سے قبل بھی ان مہینوں میں لڑائی جھگڑا، قتال حرام، زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہینوں میں عرب اپنی تمام لڑائیاں، سب جھگڑے وقتی طور پر ختم کر دیتے، یوں یہ چار ماہ عرب میں زمانہ امن کہلاتا، یہاں سوال یہ کہ چاروں ماہ قابل احترام کیوں، یا ان مہینوں میں ہی امن کیوں، تاریخ بتائے کہ اہلِ عرب 3ماہ میں تو حج کیا کرتے، یعنی ذوالقعد میں گھروں سے نکلتے، ذوالحج میں حج کرتے اور محرم کے آخر تک واپس گھر پہنچ جاتے جبکہ اسلام سے قبل رجب عمرے کا مہینہ ہوتا، اہلِ عرب اس ماہ میں عمرہ کیا کرتے بالکل ایسے ہی جیسے آج کل رمضان میں عمرہ کیا جائے، یہی وجہ کہ ان چاروں مہینوں کو حرمت والا سمجھا جاتا، لڑائی جھگڑوں سے پرہیز کیا جاتا۔

 

یہاں یہ بھی ذہنوں میں رہے کہ جیسے اسلامی کیلنڈر کا آغاز نبی ؐ کی ہجرت سے، باقی مذاہب کے کیلنڈر بھی ان کے بڑوں سے منسوب مثلاً مسیحی سال حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے شروع ہو، یہودی اپنا سال حضرت سلیمان ؑ کی تخت پوشی سے شروع کریں، رومنوں کا سال سکندر کی پیدائش سے شروع ہو اور ہندوؤں کا سال راجہ بکرماجی کی پیدائش سے شروع ہو، یہ بھی ذہنوں میں رہے کہ جیسے محرم شروع سے اہمیت کا حامل، حرمت والا مہینہ، ویسے ہی یہ تاریخی بھی، روایات کے مطابق محرم میں ہی اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمان، پہاڑ، سمندر، لوح، قلم اور جبرائیل سمیت فرشتوں کو پیدا کیا، محرم میں ہی حضرت آدم ؑ کی پیدائش، توبہ کی قبولیت بھی، محرم میں ہی حضرت نوح ؑ کو طوفان سے نجات ملی، محرم میں ہی حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون سے نجات ملی، محرم میں ہی حضرت یونس ؑ کی توبہ قبول ہوئی، وہ مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے، محرم میں ہی حضرت ابراہیم ؑ پیدا ہوئے، اسی ماہ میں ان کو آگ میں پھینکا گیا اور آگ گلزار بنی، محرم میں ہی حضرت داؤد ؑ کی دعا قبول ہوئی، محرم میں ہی حضرت سلیمان ؑ کو سلطنت ملی، محرم میں ہی حضور ؐ کے وصال کے 50سال بعد حق وباطل کا معرکہ کربلا برپا ہوا اور کہا جائے کہ محرم میں ہی قیامت بھی آئے گی۔

اسلام سے قبل اہلِ عرب میں دسویں محرم کا روزہ رکھا جاتا، بلکہ حضور ؐ نے بھی مکہ میں یہ روزہ رکھا،ایک روایت یہ بھی کہ مدینہ میں حضور ؐ نے یہودیوں سے پوچھا ’’آپ 10محرم کو روزہ کیوں رکھتے ہیں‘‘، یہودیوں کا جواب تھا ’’چونکہ فرعون سے نجات ملنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے 10محرم کو شکرانے کے طور پر روزہ رکھا، اس لئے ہم بھی یہ روزہ رکھتے ہیں‘‘، یہ سن کر آپؐ نے فرمایا’’موسیٰ ؑ ہمارے بھی ہیں‘‘ پھر روایت یہ بھی کہ مسلمانوں کو یہودیوں سے الگ کرنے کیلئے آپؐ نے فرمایا ’’آئندہ میں محرم میں نویں، دسویں کے دو روزے رکھوں گا‘‘ لیکن اگلے محرم سے پہلے آپ ؐ کا وصال ہو گیا، البتہ صحابہ کرامؓ نے بعد میں حضور ؐ کے فرمان کے مطابق نویں، دسویں کے دو روزے ہی رکھے، یہاں یہ بھی یاد رہے کہ رمضان المبارک کے بعد محرم کے روزے فرض تو نہیں رہے لیکن ان کا اجر و ثواب رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ۔

اب بلاشبہ محرم پہلے ہی حرمت والا اور تاریخی، لیکن واقعہ کربلا نے محرم کو امر کر دیا، خانہ کعبہ میں پیدا ہونے والے، بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے، شہر علم کے دروازے، دامادِ رسول ؐ، فاتح خیبر، شیرِ خدا اور چوتھے خلیفہ حضرت علی ؓ اورحضور ؐ کی لاڈلی بیٹی، خواتین جنت کی سردار فاطمہ ؓ زہرا کے لخت جگر، نوجوانانِ جنت کے سردار امام حسین ؓ کی محرم میں اہل وعیال سمیت قربانی ایسی کہ بلاشبہ ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘، وہ حسین ؓ جن کا مرتبہ، مقام اور شان یہ کہ مسجد نبوی ؐ، حضور ؐ کی امامت، سب سجد ے میں، نواسے کا حضورؐ کی پشت مبارک پر بیٹھ جانا، آپؐ کا سجدہ لمبا کر دینا، تب تک سر نہ اٹھانا جب تک نواسے کا کمر مبارک سے اتر نہ جانا اور یوں نہ صرف حضور ؐ پاک بلکہ پیچھے نماز پڑھتے صحابہ کرام ؓ کا سجدہ بھی طویل ہوجانا، یہ حدیث نبوی ؐ بھی سنیے کہ’’ جس نے حسن ؓ اور حسین ؓ سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا‘‘،ایک دفعہ حضور ؐ نے اپنے نواسوں کو گود میں بٹھا کر یہ دعا بھی فرمائی کہ ’’ الٰہی میں ان سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ‘‘، حضرت عمرؓ فرمائیں، ایک بارمیں نے یہ دیکھ کر کہ حسن ؓ،حسین ؓ حضورؐ کے کندھوں پر سوار جب کہا’’ کتنی اچھی سواری ہے ‘‘تو حضورؐ بولے ’’یہ بھی تو دیکھو سوار کتنے اچھے ہیں ‘‘ ایک مرتبہ آپ ؐ منبر پر بیٹھے جمعہ کا خطبہ دے رہے، لمبی لمبی قمیصیں پہنے امام حسن ؓ او رحسین ؓ لڑ کھڑا کر چلتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے، یہ دیکھ کر حضورؐ منبر سے نیچے تشریف لائے، دونوں کو گود میں اٹھا کر واپس منبر پر تشریف فرما ہو کر بولے ’’میں نے انہیں جب لڑکھڑاکر چلتے دیکھا تو سوچا کہیں گر نہ جائیں، اسی لئےخطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھا لیا، پھر فرمایا’’سچ کہا اللہ نے اولاد اور مال آزمائش ہے ‘‘۔

اب محرم اور کربلا،مطلب حرمت والا مہینہ اور عظیم قربانی، یہ ذہنوں میں رکھ کربتایئے کہ وہ محرم جو زمانہ جاہلیت میں بھی حرمت والا،وہ محرم جس میں دنیا کے اجڈ ترین اور سب سے بڑے جھگڑالو پرامن ہوجاتے، تلواریں نیام میں ڈال لیتے، جرم، گناہ سے پرہیز کرنے لگ جاتے، اس حرمت والے محرم میں آج نبی ؐ کی امت کا کیا حال، کیا حرمت والے مہینے میں بھی مومنوں کے ہاتھوں مومنوں کے گلے نہیں کاٹے جار ہے، عزتیں نہیں لوٹی جا رہیں، ڈاکے نہیں مارے جار ہے، ہر دونمبری نہیں ہو رہی، ویسے تو مومنوں کی ہر دو نمبری کو رمضان میں پہیے لگ جائیں لیکن دکھ کی بات یہ کہ ہجرت سے شروع ہوئے محرم میں محمد ؐ کی امت ایک مہینے کیلئے بھی دنیا سے دین، گناہوں سے نیکیوں، برائی سے اچھائی کی طرف ہجرت نہ کرپائے، اب آجائیے کربلا پر،اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کیا سیکھا ہم نے اس قربانی سے،کیا حاصل ہوا ہمیں اس عظیم قربانی سے، عملی طور پر کیا بدلاؤ آیا ہماری زندگیوں میں، کیا ایسا تو نہیں کہ اب باتیں، باتیں اور صرف باتیں ہی رہ گئیں، مان جایئے کہ اب ہم زمانہ ِ جاہلیت کے گنواروں سے بھی بدتر، مان جایئے کہ ہم قرآن کا پیغام بھلا بیٹھے،نبی ؐ کے اسوۂ حسنہ سے بھٹک گئے، مان جایئے کہ بدر سے کربلا تک اب ہمارے پا س خالی قصے، کہانیاں رہ گئیں، مان جایئے کہ مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک اپنے بے آبرو، بے توقیراور بے چین ہونے کی وجہ ہم خود ہی اور یہ سب تو ہونا ہی تھا کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ زندگی فرعون کی ہو اور آخرت موسیٰ ؑکی ملے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ محبتوں کے دعوے حسین ؓسے اور اطاعتیں یزید کی اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دماغ میں کربلا اوردل میں بسی رہے دنیا، یہ نہیں ہوسکتا۔