زینب نے سب کو نا اہل کر دیا

زینب نے سب کو نا اہل کردیا
افتخار کاظمی



زینب قتل پرپنجاب حکومت لوگوں کو طفل تسلیاں دینے پر لگی ہوئی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ حکومت پر نا اہلی کی مہریں لگتی جا رہی ہیں۔میرا سوال ہے ،عام لوگوں سے سیاسی لیڈروں سے بھی ، میاں صاحب سے بھی ، چھوٹے میاں صاحب سے بھی ۔میاں صاحب آپ تو اپنی نا اہلی پر ججوں کو برا بھلا کہہ لیں گے۔ لوگوں کے سامنے اپنی بے گناہ ہونے کی دلیلیں پیش کرلیں گے ۔مگر زینب کس سے فریاد کرے۔ خادم اعلیٰ پنجاب حدیبیہ کیس سے تو بچ نکلیں گے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بھی شاید ان کا بال بیکا نہ ہو سکے ۔ مگر زینب کا قتل سب کو نا اہل کر کے چھوڑے گا۔ مجھے بہت شرم آئی جب صوبے کا وزیر اعلیٰ زینب کے شہر میں بیٹھ کر اس کے قاتلوں کو پکڑنے کی بجائے اورنج ٹرین لائن منصوبے کو جلد سے جلد مکمل کرانے پر دوڑیں لگا رہا ہے۔ اسے اورنج ٹرین کی زیادہ فکر ہے اس معاشرے کی کوئی فکر نہیں جس کے منہ پر ایک درندے نے کالک مل دی ہے ۔ وزیر اعلیٰ صاحب زینب نے آپ کو نا اہل کر دیا ہے۔ کل کو آپ بھی یہ کہتے پھریں گے کہ مجھے کیوں نکالا۔ تو آپ کو آج بتا دیتے ہیں کہ آپ کو اس لیے نکالا جائے گا کہ آپ کو زینب سے زیادہ اپنی سیاست کی فکر تھی۔ آپ کو معاشرے میں سدھار کا موقع ملا جو آپ نے ریت بجری ، سیمنٹ اور سریے میں دفن کر دیا۔ آپ جن عمارتوں پر اپنے ناموں کی تختیاں دیکھنا چاہتے ہیں وہ عمارتیں آپ کو نہیں بچا سکیں گی۔ ہمیں زینب کا انصاف چاہیے ، زینب کے قاتل پکڑیں۔ لوگ آپ سے توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ آپ پر نا اہلی کی مہر لگی ہے، ابھی آپ کو نکالا نہیں۔مگرالٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ، حکومت اس عوامی سیلاب کے سامنے ٹھہر سکے گی یا یہ سیلاب انہیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا؟ اقتدار کی کشمکش اور طاقت کی لڑائی اپنے فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ تخت اسلام آباد گرانے کے بعد تخت لاہور گرانے کے لیے فیصلہ کن راؤنڈ شروع ہو چکا۔ بادی النظر میں معاملہ بے گناہوں اور مظلوموں کے قتل کاحساب لینا ہے ، انصاف لینا ہے لیکن ایجنڈہ حکومت کو گرانا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا جب جمہوری طاقتیں جمہوری سسٹم کے خلاف کھڑی ہیں اور ان کے کندھوں پر بے گناہوں اور مظلوموں کی نعشیں ہیں۔ تخت لاہور کے وارثوں کو ان کی خود ساختہ سلطنت میں بغاوت کا سامنے ہے۔ رعایا ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ وہ رعایا جس پر انہوں نے کئی برس حکومت کی ، انہیں مستقبل کے حسین خواب دکھائے اور ان کی آنکھوں سے وہ خواب خود ہی چرا لیے۔کچھ لوگ اسے مکافات عمل کہیں گے، کچھ اسے حکومت کے خلاف سازش کہیں گے اور اقتدار کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ قرار دیں گے۔ کچھ حکومت کا دفاع کریں گے، اسے جمہوریت پر شب خون قرار دیں گے اور عوام کے حق پر ڈاکہ کہیں گے اور کچھ لوگ اسے خدا کی پکڑ سے تعبیر دیں گے۔ جو تماشہ الیکشن میں لگنا چاہیے تھا وہ چند ماہ پہلے ہی لگتا دکھائی دے رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انتشار اور بے یقینی کی فضا اگلے چند مہینے یا نئی حکومت کے آنے تک برقرار رہے گی۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو دکھ ہوتا ہے ، بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ ہم کس کھیل میں الجھے ہوئے ہیں۔ 70 سال گزرنے کے باوجود ہم یہ نہیں طے کر پائے کہ اصل حق حکمرانی کس کا ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش ، اداروں کو زیردست اور بالادست کرنے کا شوق بلکہ جنون کس طرح ہمیں ترقی کے راستے پر چلنے سے روک رہا ہے۔ ہمیں زعم ہے کہ ہم دشمن کی ہر سازش کو ناکام بن سکتے ہیں۔ دنیا کی جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی سے نہ صرف اپنا دفاع کر سکتے ہیں بلکہ دشمن کے پرخچے بھی اڑا سکتے ہیں۔ دنیا کی طاقتور فوج ہماری حفاطت کر سکتی ہے اور ہم اڑتی چڑیا کے پر گن سکتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے اور زعم ہے کہ ہم دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہیں۔ اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ایک کمسن بچی سے زیادتی کو نہیں روک سکتے۔ اس کے قاتل کو نہیں پکڑ سکتے۔ اسے انصاف نہیں دلا سکتے۔ ہم ایشوز پر سیاست کرنا جانتے ہیں۔ انہیں حل کرنا نہیں جانتے۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔سیاست معاشرے کی صحت مندی کی علامت ہوتی ہے مگر اس کے لیے ضمیر زندہ ہونا ضروری ہے۔ مردہ ضمیر کیا سیاست کریں گے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن سب قصوروار ہیں۔ نہ حکومت کرنے والے حق حکمرانی ادا کر رہے ہیں نہ اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدان اقتدار کے ہوس سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ جمہوریت کے ساتھ گینگ ریپ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جمہوریت کے پروردہ ، جمہوریت کے داعی سب مل کر جمہوریت کی اجتماعی آبروریزی پر تلے ہیں۔ سب برابر کے شریک ہیں۔ شرم آنی چاہیے۔ زینب کے قتل نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ معاشرے کو سوچ میں تبدیلی کا موقع مل گیا ہے۔ قوموں کی تاریخ میں وہ وقت بھی آتے ہیں جب ایک سانحہ، ایک واقعہ ان کی نہ صرف سوچ کا رخ تبدیل کر دیتا ہے بلکہ سمت کو درست کر دیتا ہے۔زینب کا قتل ایک ایسا ہی واقعہ ہے جب قوم ذہنی طور پر تبدیلی کے لیے تیار نظر آتی ہے اور بچوں کو شعور دینے اور اس حوالے سے مواد کو نصاب میں شامل کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ یہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ ہمیں جنسی جہالت کو ختم کرنا چاہیے۔ معاشرہ سیاسی تبدیلیوں سے زیادہ سوچ کی تبدیلی کے مرحلے پر ہے۔ اس وقت کسی سیاست کی ضرورت نہیں، نہ کوئی ایسا سیاسی بحران ہے جسے حل کرنا بہت ضروری ہے۔ کوئی پولیٹیکل موٹی ویشن نہیں ہے ، مگر سیاسی دکاندار اپنی دکانداری سے بھلا باز آئے ہیں جو اب آئیں گے۔ لاہور سمیت پاکستان کے تمام شہریوں کے دل بوجھل ہیں ، غم و غصے سے بھرے ہیں ۔ کیا بوجھل دل زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگا پائیں گے۔ کھیل تماشوں میں برسوں گزر گئے۔ اب تو قوم کی تعمیر کا وقت ہے اور سوچ کو بہتر بنانے کا وقت ہے۔ ہم اب بھی دھرنے ، جلوسوں ، ریلیوں اور جلسوں سے باہر نہیں آ رہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہو گی یا ناکام۔ لیکن یہ وقت ہم ضائع کر دیں گے۔ وہ وقت جس میں ہم قوم بن سکتے ہیں ، قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں ، وہ وقت جب ہم اپنی اور دنیا کی سوچ ایک کر سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے اصل اور حقیقی مسائل پر غور کر کے انہیں حل کر سکتے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ اگر یہ وقت کھیل تماشوں کی نذر ہو گیا تو مجھے خدشہ ہے کہ ہم قوم بننے کا سنہری موقع ضائع کر دیں گے۔ انتہا پسندی اور جہالت کو معاشرے کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کاہمارا خواب ادھورا رہ جائے گا اور معاشرہ مزید ابتری کی طرف چلا جائے گا۔ خدا کے لیے کھیل تماشے بند کریں اور قوم کی رہنمائی کریں ، جو سوچ کی تبدیلی کے موڑ پر کھڑی ہے۔