ویل ڈن چیف جسٹس!

 سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کو 72 گھنٹے کا وقت دیا اور پولیس نے 48 گھنٹوں میں زینب کا قاتل ڈھونڈ نکالا۔ پھر سیاسی جماعتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ عدلیہ اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ پولیس نے عدالت کے ڈر سے عمران کو قاتل بنا دیا ہے یا پھر پولیس نے واقعی صحیح قاتل پکڑ لیا ہے۔ کیا آئی جی پولیس نے عدالت کے کیس ایکشن کے خوف سے پورا زور لگا کر ملزم کو پکڑ لیا ہے یا پھر قسمت نے یاوری کی ہے اور ملزم ہاتھ لگ گیا ہے؟ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زینب کا قاتل پکڑا گیا۔ زینب کا قتل کئی روز سے معمہ بنا رہا اور اب زینب کے قاتل کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری نے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق 24 سالہ ملزم عمران نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے جو مقتولہ زینب کے ہی علاقے کا رہائشی ہے۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے ملزم عمران کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔ بادی النظر میں یہ لگا ہے پولیس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اور یہ گرفتاری ڈی این اے کے ذریعے عمل میں آئی ہے۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملزم اپنا حلیہ بدلتا رہتا ہے اور قتل کی واردات کے بعد اس نے حلیہ بدل لیا تھا۔اگر پولیس کا یہ استدلال تسلیم کر لیا جائے کہ زینب کا قاتل یہی ہے تو پھر پولیس کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ قصور میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جن بچیوں سے زیادتی ہوئی اور جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تمام بچیوں میں ایک ہی شخص کا ڈی این اے ہے ، پولیس کو وہ ڈی این اے ثابت کرنا ہو گا۔ اور دوسرا یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ ملزم وہی ہے جس کی ویڈیو کئی روز تک عوم کو دکھائی جاتی رہی،جس کی عمر 30 سے 35 سال بتائی جاتی رہی ہے، وہ شخص عمران ہی تھا۔پولیس کو یہ دونوں باتیں ثابت کرنا ہو گی تو ہی یہ تسلیم کیا جائے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران کا ڈی این اے صرف زینب قتل سے میچ کر جائے اور باقی بچیوں سے میچ نہ کر پائے ، جس کے بارے میں پنجاب حکومت دعوے کرتی رہی ہے۔ پنجاب حکومت قاتل کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔ اب اصل امتحان چیف جسٹس صاحب کا ہے عدلیہ کا ہے۔ پہلے تو یہ یقین ہونا چاہیے اور ثابت ہونا چاہیے کہ زینب کا قاتل یہی ہے۔ اگر ثابت ہو جائے تو پھر سرعام سزائے موت دینی چاہیے۔ کسی چوک پر لٹکا کر اس کو نشان عبرت بنایا جانا چاہیے اور اس میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ زینب کے قاتل کو جلد سے جلد پھانسی ہو،میری بھی یہی خواہش ہے۔ مگر یہ نہ ہو کہ پولیس نے آنکھوں میں دھول جھونکی ہو اور کسی بے گناہ کو ملزم بنا کر پیش کر دیا ہو۔ فیصلے میں بھلے تاخیر ہو جائے مگر انصاف ہونا چاہیے اور زینب کے قاتل کو سرعام سزائے موت ہونی چاہیے۔ ڈر، خوف ، مجبوری ، محنت یا قسمت ، آپ کچھ بھی کہہ لیں ، زینب کا مبینہ قاتل منظر عام پر آ چکا ہے اور حکومت پنجاب اس کامیابی پر بغلیں بجا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب خادم اعلیٰ پنجاب جو کل تک نیب کے ہاتھوں ستائے جانے پر پریشان اور نالاں نظر آتے تھے وہ اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہے۔اب اسے پنجاب پولیس نے پکڑا ہے یا یہ پنجاب حکومت کی کامیابی ہے ، لیکن اس کا اصل کریڈٹ چیف جسٹس کو ہی جائے گا جنہوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھااور الٹی میٹم ختم ہونے سے پہلے ہی ملزم چراغ کے جن کی طرح حاضر ہو گیا ہے۔ اسی لیے تو لوگ انصاف کے لیے حکمرانوں سے زیادہ فوج اور عدلیہ کے سربراہان کی طرف دیکھتے ہیں اور لوگوں کو نتائج بھی مل جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نتیجہ زینب کے قاتل کی گرفتاری ہے۔ دوسری طرف بڑی خبر شہباز شریف کی نیب میں پیشی کے حوالے سے ہے ۔شہباز شریف نے نیب کے سامنے اتنا دفاع نہیں کیا ہو گا جتنا ان کا وفاراد میڈیا ان کا دفاع کر رہا ہے اور ان کی ستائش بھی کر رہا ہے۔ نواز شریف کی طرح شہباز شریف کو بھی انجمن ستائش باہمی نے گھیرا ڈال رکھا ہے۔ یہ وہی انجمن ستائش باہمی ہے جس نے شہباز شریف کو اگلی بار وزیراعظم بننے کے خواب بھی دکھا رکھے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف بے قصور ہوں۔ انہوں نے کوئی بھی کرپشن نہ کی ہو اور وہ مکمل طور پر بے داغ اور مسٹر کلین ہوں۔ مگر جس طرح ان کی انجمن ستائش باہمی کے لوگ ان کی وکالت کر رہے ہیں ، وہ ان کی پاک دامنی کو لوگوں کی نظر میں مشکوک کر رہے ہیں۔ اس طرح کے وکیل ہوتے ہیں جو پھانسی کی سزا پانے والے ملزم کو یہ باور کراتے ہیں کہ اتنا مہنگا وکیل کیوں کیا ، یہ کام تو وہ کم پیسوں میں بھی کر سکتے تھے۔ مجھے لگتا ایسے ہی ہے کہ بڑے میاں صاحب اور چھوٹے میاں صاحب کے آس پاس اسی قسم کے وکیل ہیں۔ اور وہ جزا اور سزا سے بے نیاز ہو کر کرتے وہی ہیں جو ان کا کام ہے۔ چاہے اگلے کی عزت داؤ پر لگ جائے۔ جس طرح انجمن ستائش باہمی کے لوگ آشیانہ کیس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی پیشی کو نیب کی انتقامی کاروائی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں ، کہیں یہ کوشش نیب کو اپنا ایکشن تیز کرنے پر مجبور نہ کر دیں۔ابھی تو وزیر اعلیٰ صاحب نے 50 سے زائد بنائی گئی کمپنیوں کا حساب دینا ہے اور یہ وہ کمپنیاں ہیں جن پر بھاری رقوم خرچ ہوئی ہیں۔ اور جن کی قانون میں کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ پریس کانفرنسوں سے اگر میچ فکس ہوتا تو آج ملک ریاض کی لوگ اتنی ہی عزت کرتے جتنی عبدالستار ایدھی کی کرتے ہیں۔ پیشی سے پہلے شہباز شریف نے اپنے من پسند صحافیوں کی پریس کانفرنس کا اعلان کیا اور یہ تاثر دیا جیسے وہ نیب کے بارے میں خوفناک انکشاف کرنے والے ہیں۔ پیشی سے پہلے پریس کانفرنس کا اعلان کرنا اور پیشی کے بعد پریس کانفرنس میں یہ ظاہر کرنا جیسے نیب نے شہباز شریف سے تفتیش نہیں کی بلکہ شہباز شریف نیب کی تفتیش کر کے واپس لوٹے ہیں۔ پریس کانفرنس میں ان کا انداز ایک فاتح عالم کا تھا ، جیسے وہ بہت بڑی فتح حاصل کر کے آئے ہیں۔ یہ پوراایپی سوڈ اپنے اندر کئی سوالات لیے ہوئے تھا اور شاید یہ سوالات پریس کانفرنس میں بھی اٹھائے جاتے اگر پریس کانفرنس میں کچھ پیشہ ور صحافی بلائے گئے ہوتے۔ یاران صحافت پر مبنی پینل بلا کر فکس میچ کھیلا گیا اور سارا زور اس بات پر رہا کہ نیب نے ایسی گستاخی کیونکر کی اور کیوں شہباز شریف صاحب کو بلایا۔اس سے میاں صاحب کے مخالفین کا یہ الزام درست لگتا ہے کہ دونوں بھائی فکس میچ کھیلتے ہیں۔ حالانکہ شہباز شریف کو فکس میچ کھیلنے کی ضرورت نہیں تھی۔ نیب کے نوٹس کے جواب میں وہ نہ پیش ہوتے تو کوئی قیامت نہ آتی ، پیش ہوئے تو اچھا کیا۔ لیکن کیا معاملات اسی طرح تھے جس طرح دکھائی دیے یا پس پردہ حقائق کچھ اور ہیں۔ اس پر سوالات موجود ہیں۔