ڈاکڑشاہد مسعود کی دورفنطنی:شہباز شریف کی معافی


یہ عجیب معمہ ہے ،جب تک زینب کا قاتل نہیں پکڑا گیا تھاتو ہم بے چین تھے بے قرار تھے اور جب قاتل پکڑا گیا ہے تو بھی ہمیں سکون نہیں مل رہا۔ بے چینی اپنی جگہ برقرار ہے۔ سوالات ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔پہلے وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس میں عجیب و غریب رویہ اپنایا گیا ، اس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ اب قاتل کے قاتل ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ فرانزک کی رپورٹ پر بھی اعتبار نہیں رہا۔ دروغ گو اور فتنہ پرور بھی میدان میں ہیں۔ کچھ پنجاب حکومت کی غلطیاں بھی ہیں۔ سب نے مل جل کر قاتل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ سکہ بند دروغ گو حقائق کے گرد حاشیہ آرائی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود الیکٹرانک میڈیا کا انتہائی معتبر نام ہے۔ مگر زینب کے قاتل کے حوالے سے جو انکشاف کر رہے ہیں وہ ناقابل یقین لگتے ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں ڈاکٹر صاحب لمبی لمبی چھوڑنے کے ماہر ہیں اور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ تو ڈاکٹر صاحب کے ناقدین کی رائے ہے۔ لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود کے مداحوں کی بھی اچھی خاصی تعداد میں ہے جو ان کی رائے کو مصدقہ سمجھتی ہے۔ ہم ذرا غیر جانبدار طریقے سے ڈاکٹر صاحب کی اس خبر کو حقائق کے پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ملزم عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں اور بیشتر اکاؤنٹس فارن کرنسی اکاؤنٹس ہیں اور یہ کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا معاملہ ہے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ شخص جس کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے پڑے ہوں ، اس کی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے ، وہ خود مذہبی محافل میں نقابت کرتا پھرتا ہے۔ اس کا گھر ٹوٹی ہوئی چارپائیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ آپ اس کا حلیہ اور وضع قطع دیکھ لیں تو آپ کو لگتا ہے کہ وہ امیر آدمی ہے؟کیا وہ دولت اس لیے کما رہا ہے کہ اسے چھپا کر رکھے اور اپنے پورے کنبے کو غربت کی حالت میں رکھے؟ جس طرح کا ہمارا معاشرہ ہے جس میں پولیس کا دین ایمان رشوت ہو، عمران اس کو رشوت دے کر رہا ہونے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو؟ سوال یہ ہے کہ جس کے اکاؤنٹ میں لاکھوں اور کروڑوں روپے پڑے ہوں اور اسے پتہ ہو کہ وہ پکڑا گیا تو پھانسی کا پھندہ اس کے گلے میں پڑ جائے گا،وہ بھاگ کر پاک پتن جاتا ہے؟ وہ تو پہلی فلائٹ سے بیرون ملک بھاگ سکتا ہے ، چھپ سکتا ہے۔ اسے عارف والا اور پاک پتن میں چھپنے میں کیا ضرورت تھی؟ ڈاکٹر شاہد مسعود نے چیف جسٹس سے اپیل کی تھی کہ انہیں بلایا جائے وہ ثبوت دیں گے۔ چیف جسٹس نے انہیں خصوصی طور پر بلا کر ان کی معلومات کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار سے دست بستہ عرض ہے کہ یہ اچھا موقع ہے۔ اگر ڈاکٹر شاہد مسعود کے پاس ناقابل تردید ثبوت ہیں ، اس کا کسی بین الاقوامی گروہ سے رابطہ ہے یا وہ کسی کا آلہ کار ہے ، سہولت کار ہے تو پورے گینگ کو پکڑوائیں اور ڈاکٹر صاحب کو اعلیٰ سرکاری اعزاز سے نوازیں۔ لیکن اگر ان کی انفارمیشن غلط نکلتی ہے تو پھر ان کو جھوٹا ہونے کا سرٹیفکیٹ ضرور عطا کریں۔ ویسے تو جھوٹے کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ لائرز کین نیور بی لوزر۔ نہ 35 پنکچر کا الزام لگانے والے جھوٹے کہلاتے ہیں نہ 10 ارب رشوت کا الزام لگانے والے رشوت دینے والے شخص کا نام بتا سکتے ہیں۔ وہ صرف الزام لگاتے ہیں۔ اور یہ المیہ بھی ہے لوگ الزام لگا دیتے ہیں پھر جس پر الزام لگتا ہے وہ صفائیاں دیتا پھرتا ہے اور الزام لگانے والا مزے اڑاتا پھرتا ہے۔ ویسے توحکومت نے اپنے کیے کرائے پر خود ہی پانی پھیر لیا اور رہی سہی کسر ان کے مخالفین نے پوری کر دی جنہوں نے قاتل کو ہی مشکوک بنانے کی کوشش کی ہے۔ زینب کے کیس پر بھی لوگ سیاست کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ اس میں قصور حکومت کا ہے جنہوں نے لوگوں پر اپنا اعتبار ختم کر دیا ہے۔ لوگ حکمرانوں اور نظام پر اعتبار نہیں کر پا رہے۔ ٹرسٹ ڈیفی سٹ بڑھ گیا ہے۔ زینب کا قاتل عمران ہے اور اب تک کے حالات و شواہد یہی بتاتے ہیں۔ لیکن مشکوک پریس کانفرنس سے لوگوں کو یہ تاثر ملا ہے کہ بہت کچھ چھپانے کی کوشش کی گئی۔ کریڈٹ لینے کے لیے حکومت کا انداز بھونڈا اور مضحکہ خیز تھا۔ اس لیے کہ شہباز شریف بھی خوشامد پسندوں میں گھرا ہوا ہے۔ پروفیشنل لوگ موجود نہیں جو چیزوں کو پیشہ وارانہ اور ناقدانہ انداز میں دیکھتے ہیں۔ جو رہنمائی کرتے ہیں۔ مگر خادم اعلیٰ کے قریب وہ لوگ موجود ہیں جنہیں خود رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جو اپنے فرائض پیشہ وارانہ طریقے سے ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ پریس کانفرنس سے پیدا ہونے والے سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں کہ عمران قاتل ہے بھی یا نہیں۔ کہیں عمران کو قربانی کا بکرا تو نہیں بنایا جا رہا؟کیا عمران کے پیچھے اعلیٰ شخصیات ہیں؟یہ سارے سوالات بے معنی ہیں مگر ہو رہے ہیں۔ اور ان سب سوالات کا فائدہ ملزم کو ہو گا۔ وہ درندہ جو اپنے سارے جرائم کا خود اعتراف کر رہا ہے ، اس درندہ صفت عمران کو سرعام پھانسی دینے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ زینب کی روح انصاف کے لیے تڑپ رہی ہے۔جتنا زیادہ شک کیا جائے گا ، معاملے کو جتنا زیادہ متنازعہ بنایا جائے گا ، وہ سب کیس کو کمزور کر دے گا۔ عمران کو پکڑنے کے لیے جس ٹیم نے دن رات ایک کیا وہ مایوسی کا شکار ہو جائے گی۔ جتنی تنقید قاتل نہ پکڑنے پر ہو رہی تھی ، اس سے زیادہ تنقید قاتل پکڑنے کے بعد شروع کر دی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا مقصد اس ٹیم کی محنت کو برباد کرنا ہے جس نے یہ سب کچھ کیا۔ ہرگز نہیں۔ اس ٹیم کو شاباش بنتی ہے اور شہباز شریف کو بھی بنتی ہے۔ کہنا چاہیے تھا ، ویل ڈن شہباز شریف آپ نے مزید ظلم ہونے سے بچا لیا۔لیکن حکومت پنجاب نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار لی اور اپنے کریڈٹ کو خراب کر لیا۔ جس سے ان کے مخالفین کو موقع مل گیا ہے کہ وہ جی بھر کر ان کی کلاس لیں اور اس پورے معاملے کو ہی مشکوک قرار دے دیں تا کہ شہباز شریف اس کا سیاسی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ میں شہباز شریف کا دفاع نہیں کر رہا۔ ان کے کنڈکٹ پر اعتراض ہے ، ان کے قہقہے اور تالیوں پر مجھے شدید اعتراض ہے ۔ زینب کے والد کو مکمل بات کرنے سے روکنے پر مجھے بے حد تکلیف ہے اور اس کا اظہار میں نے کھل کر کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں اگر اس ملک کا چیف جسٹس اپنے غلط ریمارکس پر قوم سے معافی مانگ سکتا ہے ، تو وزیر اعلیٰ صاحب آپ معافی سے چھوٹے نہیں ہو جائیں گے۔ جسٹس ثاقب نثار نے تقریر کے موضوع پر اسکرٹ کی مثال دی تھی جسے سوشل میڈیا پر تنقید کانشانہ بنایا گیا اور یہ مہم چلانے والے کون ہیں اس کا بھی پوری دنیا کو پتہ ہے۔ پھر بھی چیف جسٹس نے معافی مانگ لی۔ اب اگر شہباز شریف معذرت کر لیں تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔ آپ نے زینب کو انصاف دلانے کیلیے بہت بھاگ دوڑ کی اور ملزم کو گردن سے پکڑ لیا۔ یہ بڑی کامیابی ہے، اس کا کریڈٹ آپ کو ملنا چاہیے۔ لوگ اپنے لیڈروں سے خواہ وہ جیسے بھی ہوں ، اچھے ہوں ، برے ہوں نکالے گئے ہوں ، لعنتیں ڈالتے ہوں یا اینٹ سے اینٹ بجانے کے نعرے لگاتے ہوں ، لوہے کے چنے چباتے ہوں ، لوگ لیڈروں کو ووٹ ڈالتے ہیں، انہی کے نعرے مارتے ہیں۔ اسی طرح لوگ لیڈروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دکھ سکھ میں ان کا ساتھ دیں گے۔ ان کے زخمون پر نمک نہیں چھڑکیں گے بلکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی پریس کانفرنس نے بدقسمتی سے ایسا تاثر پیدا کیا ہے کہ جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہر شخص اپنی محنت کا صلہ پا کر خوش ہوتا ہے۔ اور اصل خوشی اسے تب ملتی ہے جب اس کے کام کو سراہا جائے۔حکومت پنجاب کو ضرور سراہا جانا چاہیے جس نے زینب کا قاتل پکڑ لیا۔ ورنہ پتہ نہیں کتنی اور زینب اس کی بھینٹ چڑھ جاتیں۔