شہباز حکومت گراؤتحریک

شہباز حکومت گراؤتحریک 
افتخارکاظمی


پاناما کیس سے شروع ہونے والی کہانی کا کلائمیکس شروع ہونے والا ہے۔ اپوزیشن 17 جنوری سے پنجاب میں مورچہ لگانے کی اور پنجاب حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔قیاس آرائیاں اور افواہیں ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن کی تمام جماعتیں کھڑی ہیں اور دوسری طرف حکومت کھڑی ہے۔ اور یوں لگتا ہے کہ بدقسمتی نے شریف خاندان کا پیچھا مکمل طور پر نہیں چھوڑا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا خون پکار پکار کر اپنے لہو کا حساب تو مانگ ہی رہا تھا ، قصور میں کمسن زینب کے بہیمانہ قتل نے پورا پاکستان ہلا کر رکھ دیا ہے۔ زینب کے قاتل کی گرفتاری نے پنجاب کی گورننس تابوت میں بند کر دی ہے اور اب اسے دفن کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔یہ ہفتہ اور آئندہ آنے والے چند دن پنجاب خصوصاً لاہور کے شہریوں پر بھاری گزریں گے۔ نظام زندگی کو جس طرح مفلوج کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ فیصلہ کن راؤنڈ کی تیاری بھی اسی انداز میں کی گئی ہے۔ قصور واقعے نے پنجاب حکومت کو زمین بوس کر دیا ہے اور اب اس کی بنیادیں بری طرح ہل رہی ہیں۔ تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے خیال میں جمہوری نظام کی بساط اگلے 4 سے 6 ہفتوں میں مکمل طور پر لپیٹ دی جائے گی۔ اور حالات و واقعات بھی اسی جانب اشارے کر رہے ہیں کہ بالآخر جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ بلوچستان میں جس طرح ن لیگ کی حکومت گرائی گئی اور ایک اقلیتی جماعت کے ممبر کو وزارت اعلیٰ مل گئی یا اسے سونپ دی گئی۔ اس نے درپردہ کھیلے جانے والے کھیل کو عیاں کر دیا ہے اور بہت سے لوگ اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن شاید نہ ہو سکیں۔لیکن یہ تمام تر تجزیے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں ،کسی مصدقہ خبر یا اطلاعات کی بنیاد پر نہیں ہیں۔ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے نے صرف خطرے کی گھنٹی نہیں بجائی بلکہ خطرے کی کئی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ جس سے جمہوری نظام کے چلتے رہنے کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کم و بیش تمام مبصرین کا تجزیہ یہی ہے کہ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کی تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ ایسا وزیر اعلیٰ لے آئی ہے جو درپردہ قوتوں کے ایک اشارے پر بیک جنبش قلم اسمبلی توڑنے چل پڑے گا۔یہ خدشہ حکمران جماعت کو بھی ہے اور بہت سارے غیر جانبدار مبصرین کو بھی ہے۔ اور متفقہ الیہ تجزیے دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ سینیٹ کا الیکشن نہیں ہو گا۔ اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ ن لیگ کو سینیٹ کے الیکشن کرانے سے روکنے کے لیے ہے۔ سینیٹ کا الیکشن مارچ میں ہونا ہے اس لیے حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے فروری کی تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ مبصرین حالات و واقعات کی بنیاد پر اندازے لگا رہے ہیں کہ مقتدر حلقوں اور حکمران جماعت میں رسہ کشی جاری ہے۔ اور یہ بات طے ہے کہ حکومت کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ بلوچستان میں ق لیگ کو حکومت انعام کے طور پر دی گئی ہے۔ اور اس انعام کے بدلے چوہدری برادران طاہر القادری کے ذریعے پنجاب حکومت کا تیا پانچہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ درپردہ قوتیں اپوزیشن کے ذریعے پنجاب میں ن لیگ کا زور توڑنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اور اپوزیشن کے ذریعے آخری بڑا حملہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ 4 سے 6 ہفتوں کے دوران حکومت پر ہلہ بول دیا جائے گا۔بادی النظر میں یہ تحریک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے قتل کا انصاف لینے کے لیے ہے۔ لیکن حقیقت سب جانتے ہیں اصل مقصد پناب میں شہباز شریف حکومت کا خاتمہ ہے اور اصل تماشہ پنجاب میں لگایا جا رہا ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق میاں صاحب نے سعودی عرب سے واپسی پر اسٹیبلشمنٹ پر جس شدت سے حملے کیے ہیں ، ان کا مقصد اپنے خلاف جاری درپردہ مہم کو روکنا تھا۔ جس میں میاں صاحب کو کامیابی ملتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے باوجود مقامی اسٹیبلشمنٹ مائنس شریف خاندان منصوبے پر ہر صورت عمل کرنا چاہتی ہے۔اسی لیے ق لیگ کو بلوچستا ن حکومت دی گئی اور پنجاب میں بھی طاہر القادری کی تحریک کے پیچھے انہیں ہی کھڑا کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ساتھ کھڑی ہیں۔ اور کسی وجہ سے وہ اگر میدان چھوڑ بھی دیں تو بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو مسلم لیگ ق کی سپورٹ حاصل رہے گی۔ لیکن میں ابھی تک اپنے گمان پر قائم ہوں کہ سینیٹ کے الیکشن ہو جائیں گے۔ اصل لڑائی فریقین میں بیانیے اور دباؤ کی چل رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے اور نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر حملے کر کے صرف چرکے لگا رہے ہیں۔ کاری ضرب نہیں لگائی جا رہی۔ اس وقت لڑائی ایک دوسرے کو زیر کرنے کی ہو رہی ہے اور وفاق کے بعد صوبے کا قبضہ چھڑانے کی جدوجہد کی جا رہی ہے۔ اگر پنجاب نواز شریف کے ہاتھ سے نکال دیا جاتا ہے تو پھر ان کا زور ٹوٹ جائے گا۔ مقتدر حلقے مسلم لیگ ن کو الیکشن سے پہلے کمزور کر دینا چاہتے ہیں تا کہ وہ الیکشن میں طاقت کا استعمال نہ کر سکیں۔ جس کی بنیاد پر وہ ہمیشہ الیکشن جیت جاتے ہیں۔ اپوزیشن کی تحریک کی کامیابی کے چانسز ففٹی ففٹی ہیں۔ مگر یہ تحریک پنجاب حکومت کو انتہائی کمزور حالت میں لے جا سکتی ہے۔ اور یہ بھی ایک ٹارگٹ ہو گا جو اپوزیشن اگر اچیو کر لیتی ہے تو انتخابات میں وہ پنجاب مسلم لیگ ن سے چھیننے کا خواب پورا کر سکتے ہیں۔ سیاسی صورتحال بڑی دلچسپ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جو میاں صاحب چاہ رہے ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ بھی چاہ رہی ہے۔ اگر بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی ہے تو اس سے ن لیگ کا نیریٹو ثابت ہوا ہے کہ درپردہ قوتیں ان کے خلاف متحرک ہیں اور مسلسل ان کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ یہی میاں صاحب کا بیانیہ ہے اور ن لیگ کے لوگ اب بھی یہی تاثر دے رہے ہیں کہ خفیہ قوتیں سینیٹ کا الیکشن روکنا چاہتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری یہ دعویٰ کرتے پائے گئے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن ہو جائیں گے اور عام انتخابات میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ اور جنہیں یہ دعوے کرنے چاہئیں کہ الیکشن وقت پر ہوں گے وہ خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور جن کی وجہ سے الیکشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ الیکشن کو کوئی خطرات نہیں ۔ اس پورے سیاسی کھیل کے بظاہر تین بڑے فریق ہیں ، حکومت ، اپوزیشن اور مقتدر حلقے۔ تینوں ایک دوسرے کو سیاسی بساط پر مات دینے کے لیے اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔لیکن وقت کی اپنی چال ہوتی ہے اور وقت کی چال کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ وقت کی چال اس وقت حکمران جماعت کے خلاف نظر آتی ہے۔ وقت کی گردش انہیں لپیٹ میں لیے نظر آتی ہے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن پر تو لوگ سیاست کر رہے ہوں گے مگر زینب کا قتل جس طرح پنجاب حکومت پر بوجھ بنتا جا رہا ہے ، مجھے خدشہ ہے کہ وہ پنجاب حکومت کو لے ڈوبے گا۔