نیا سال ..... نئی خواب فروشی

 نیا سال ..... نئی خواب فروشی 

2018 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ سال ہے جسے ہر لحاظ سے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔۔ ایک طویل عرصے کے بعد سیاسی رہنماؤں کو احتساب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکمران جماعت کرپشن کے خلاف سخت ایکشن کے نظریات کی حامل جماعت ہے لیکن سیاسی سوجھ بوجھ اور تحمل اور برداشت کی سیاست پر بالکل یقین نہیں رکھتی۔یہ تبدیلی کا سال ہے اور تین بار کے منتخب وزیراعظم کے جیل جانے کا بھی سال ہے۔
پاکستان میں یہ انداز سیاست نیا نہیں ہے ۔جب بالا دست طبقے پیچھے بیٹھ کر حکومت چلائیں۔ عمران خان نہ اکیلے جیت سکتے تھے نہ ہی حکومت بنا سکتے تھے ۔نظام کی گتھیاں جس بری طرح الجھی ہوئی ہیں انہیں سلجھانے کے لئے اب وہ ڈوریں کاٹی جا رہی ہیں ۔جنہیں ان’’ گنجلوں ‘‘ کا زمہ دار سمجھا جا رہا ہے ،ریاست کی ناکامیوں کی ایف آئی آر کے ملزم وہ ہیں جو اس وقت زیر عتاب ہیں۔
2018 پاکستان میں تبدیلی کا سال رہا ۔ سیاسی اور معاشی تبدیلی نے معاشرت پر گہرتے اثرات چھوڑے۔ 2018 میں پاکستان میں جو معاشی تبدیلی آئی ہے، یہ بھی پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک سال میں ڈالر 106 سے پرواز کر کے 140پر جا پہنچا ہے ۔
ڈالر میں ایک سال میں اتنا اضافہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مہنگائی کی شرح ایک سال میں 4.6 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد پر پہنچ گئی 
جسے واپس کھینچ کرسات فیصد پر لایا گیا ۔موجودہ دور حکومت میں سب’’ اچھا‘‘ ہے بس اسٹاک مارکیٹ اورروپیہ مسلسل گر رہے ہیں۔ ،مہنگائی اور بے روزگاری بڑھی ہے،زرمبالہ کم ہو گیا ہے،باقی سب ٹھیک ہے ۔
شنید یہ ہے کہ نیا سال منی بجٹ کے ذریعے مہنگائی کا طوفان لائے گا۔ تو کوئی بات نہیں اب عوام اس بات کے عادی ہیں کہ نیا سال ان پر بجلی ہی گرانے آتا ہے اور تحفے میں انہیں مزید مہنگائی ہی ملنا ہے ۔
2018 جوڈیشل ایکٹوازم کا سال رہا ۔ عدالت عظمی نے متعدد ارکان پارلیمنٹ کو مختلف مقدمات میں نااہل کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدلیہ نے حکومتوں سے کہیں زیادہ کام کیا اور ایک طاقتور ادارے کے طور پر ابھری ۔عدالت عظمی کے متعدد فیصلوں نے قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔ناقدین کے خیال میں سول بالادستی کمزور ہوئی ۔ بہت سے اہم معاملات کا عدلیہ نے ازخود نوٹس لیا ۔شاید ہی اس سے پہلے کسی نے اتنے نوٹس لئے ہوں ۔
’’ہم ہوئے کہ تم ہوئے سب اس کی زلف کے اسیر ہوئے ‘‘
کراچی کے نوجوانوں نقیب اللہ اور انتظار کے پولیس مقابلوں میں قتل سے لے کر قصور کی آٹھ سالہ زینب کے بہیمانہ قتل سمیت اہم مقدمات اعلی عدالتوں نے بخوبی نمٹائے ،پانی کی مسائل ، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معاملات کا عدلیہ نے نوٹس لیا۔اس پورے عہد کو چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلوں اور ریمارکس کے حوالے سے یاد رکھا جائے گاجنہوں نے بہت سے اہم معاملات میں ہاتھ ڈالا’’بگڑے ہوؤں‘‘ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی ۔او ر منصف کہ جگہ ’’بابا رحمتہ‘‘ کی ٹرم متعارف کرائی۔ سب سے اہم کام بلکہ کارنامہ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے فنڈ ریزنگ مہم کا اجراء ہے ۔
پاکستان کی سیاست میں یہ سال بھی ہنگامہ خیز رہا اور پورا سال ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ۔ مسلم لیگ ن کی حکومت الزامات کی زد میں آئی اور ایک’’ متنازعہ الیکشن‘‘ کے نتیجے میں اقتدار سے باہر ہو گئی ۔تحریک انصاف پہلی بار پاکستان کی حکمران جماعت بن گئی۔
نوازشریف اس سال 2 بار جیل کے مہمان بنے ،پہلی بار جب وہ اپنی بیمار اہلیہ کے پاس لندن میں تھے اور الیکشن قریب تھے نیب عدالت سے سزا ملنے پر خود کو قانون کی تحویل میں دے کر وہ اڈیالہ جیل میں قید ہو گئے 
2017 میں نوازشریف کو عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نا اہل ہو کر اقتدار سے محروم ہونا پڑا تو 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ انکے خلاف آیا انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ مریم اور انکے شوہر بھی اڈیالہ جیل میں قید رہے۔
جیل میں قید کے دوران نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز انتقال کر گئیں اور نوازشریف کو انکی اہلیہ کی آخری رسومات میں حصہ لینے کے لیے پیرول پر رہائی ملی۔ رسومات کی ادائیگی کے بعد نوازشریف کو دوبارہ جیل میں قید کر دیا گیا جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت پررہائی ملی لیکن العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے بعد دوبارہ جیل جانا پڑا۔
اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو نیب نے صاف پانی میں تفتیش کے لیے بلایا اور آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔پنجاب حکومت کے اہم بیورو کریٹ احد چیمہ کو میٹروبس اورانڈر پاسز سمیت کئی اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل کا صلہ گرفتاری کی صورت میں ملا ،نوازشریف دور کے سب سے اہم بیوروکریٹ فواد حسن فواد بھی نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ خواجہ برادران بھی نیب کی تحویل میں ہیں ۔
سال کے آخر میں پیپلز پارٹی کی قیادت پر جعلی اکاؤنٹس کے الزامات کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی ایک جے آئی ٹی رپورٹ نے ملکی سیاست میں تہلکہ مچا دیا۔ اور سندھ حکومت کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے جبکہ قیادت کی گرفتاری کے خدشات موجود ہیں۔
یہ سا ل نیب سیاستدانو ں اور بیوروکریٹس پر ہی بھاری نہیں رہا بلکہ دانشور اور اساتذہ بھی اس کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکے ۔
2018 اگر کمسن بچیوں سے زیادتی کے واقعات سے شروع ہوا توسال کا اختتام نیب کے ہاتھوں اساتذہ کی تزلیل اور نیب کی تحویل میں ان کی ہلاکت سے ہوا۔سرگودھا یونیورسٹی کا لاہور کیمپس’’ایجوکیشن مافیا‘‘ کی سازش کا شکار ہو ا۔اس کے ڈائریکٹر میاں جاوید کا قتل ان لوگوں کی گردن پر ہے جنہوں نے انہیں اتنی اذیت دی کہ وہ جاں کی بازی ہار گئے اور اس کی’’ ہتھکڑی میں جکڑی’ نعش‘‘ ناقابل فراموش ہے ۔سرکاری یونیورسٹی کی فرنچائزڈ چلانے کے جرم میں اکرم چوہدری اب بھی نیب کی تحویل میں ہیں اور اسی طرح سسک سسک کر موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اساتذہ کی اس طرح تذلیل کا واقعہ یا اسکی نظیر دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتی ۔اشرافیہ کو قید میں بے شمار سہولیات اور اساتذہ کی ’’ٹھنڈے فرش پر موت ‘‘ نے ’’ دو نہیں ایک پاکستان ؂‘‘کے نعرے کو بری طرح متاثر کیا۔ 
حکومت کے ’’کاغذوں‘‘کے مطابق، دوست ملکوں سے ’’ادھار‘‘ کی بنیاد پر معیشت کو سنبھا ل لیا گیا ہے ۔سادگی اور کفایت شعاری مہم سے اربوں کی بچت کر لی ہے ۔ انڈے مرغیوں اور’’کٹوں‘‘ کے کاروبارسے غربت دورہو چکی ہے۔اور اب آئی ایم ایف سے قرض لینے کے مراحل طے کیئے جا رہے ہیں۔
تجاوزات کے خلاف آپریشن سے لوگوں میں بے روزگاری بڑھی ہے تو کیا ہوا ؟گلیاں اور بازار نہیں کھلے تو کیا ہو؟ا ریٹ تو بڑھ گئے ہیں ۔
اور معیشت کی بدحالی کا رونا رونے سے اگر بے روزگاری بڑھی اور سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے تو کیا ہوا ؟معیشت تو خطرے سے نکل گئی ہے۔
عمران خان پاکستان کی سیاست میں امید کا پیغام ہیں جو لوگوں کو بڑے بڑے خواب دکھا کر اقتدارتک پہنچے ۔ان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ معاملات درست سمت میں چلیں گے اور حکومت عوام اور ا ن کے مسائل پر توجہ دے گی۔ لیکن حکمران جماعت گورننس کے مسائل میں الجھ کر رہ گئی ہے اور انکے نزدیک سسٹم میں بہت زیادہ خرابیاں ہیں جنہیں ٹھیک کرتے کرتے کرتے عمر گزر جائے گی ۔اس لیے خرابیاں ٹھیک کرنے کی بجائے خرابیاں پیدا کرنے والوں کوٹھکانے لگانے پر زور لگایا جا رہا ہے 
خوابوں کی تکمیل حکومتی ایجینڈے کا حصہ ہی نہیں لگتی، اس لئے ’’خواب فروشی‘‘ کا عمل اگلے سال بھی اسی طرح جاری رہ سکتا ہے۔
نیا سال مبارک ہو....