ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ اور۔۔

 ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ اور۔۔
کوئی مانے یا نہ مانے’’ فضا ‘‘میں دھاندلی کا تاثر بالکل ایسے ہی ہے جیسے" ہوا ‘‘دکھائی نہیں دیتی صرف’’ محسوس‘‘ کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کہیں دھاندلی ہوئی بھی ہے تو اسکا بظاہر کوئی ثبوت نہیں مگر ’’محسوس ‘‘کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجودپیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو حالات کے مطابق اس انتخابات میں انکی توقع سے زیادہ بہتر نتائج ملے ہیں۔ دونوں جماعتوں کی سیاسی ساکھ گزشتہ چند ماہ میں بری طرح ’’اڑا ‘‘کر رکھ دی گئی تھی ، جس طرح دونوں جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پوری کوشش کی گئی خاص کر مسلم لیگ کے لئے جو ماحول پیدا کر دیا گیا اگر اسے سامنے رکھا جائے تو نتائج پھر بھی بہت بہتر آئے ہیں۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے سیاسی مخالفین جن میں عمران خان سرفہرست ہیں انہوں نے جس طرح دونوں جماعتوں کو دن رات’’ جھوٹا‘‘ ثابت کیا ’’کرپٹ ‘‘اور ’’بے ایمان ‘‘ثابت کرنے میں’’رتی برابر‘‘ بھی کسر نہیں چھوڑی اور’’ پبلک‘ میں انکی ساکھ کو بری طرح ’’مجروح ‘‘کیا،اسکے برعکس نتائج پھر بھی بہت بہتر ہیں اور اس کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے کھیل کے آخری اوورز میں اپنی حکمت عملی سے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا اور انتخابات کا مرحلہ سر کر لیا ۔اس وقت پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن سمیت کئی بڑی سیاسی جماعتیں انتخابات کے نتائج کو ماننے سے’’ انکاری‘‘ ہیں اور الیکشن کو کالعدم قرار دے کر نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس لئے کہیں دھاندلی کا شور ہے اور 
کہیں’’ گنتی ‘‘بدل رہی ہے کہیں حکومتوں کے لیئے جوڑ توڑ اور لالچ دیئے جارہے ہیں۔ 
کسی کی نظر میں یہ شفاف ترین الیکشن ہے اور کسی کی نظر میں پولنگ کا عمل شفاف تھا لیکن گنتی کے عمل میں ’’گڑ بڑ ‘‘ہوئی ہے۔اور اگر نتائج تبدیل ہوئے تو گنتی کے دوران ہوئے ہیں۔ ہارنے والی جماعتوں میں سے بیشتر کا موقف یہی ہے جبکہ عمومی تاثر یہ ہے کہ الیکشن ’’شفاف‘‘ہیں پولنگ کے عمل میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ دھونس اور دھاندلی کا عمل ’’بظاہر‘‘ کہیں دکھائی نہیں دیا۔
تحریک انصاف چونکہ اکثریتی جماعت ہے اور عوام نے انہیں سب سے زیادہ ووٹ دیئے ہیں اس لئے وہ دھاندلی کے تمام الزامات کو رد کر چکی ہے۔ عمران خان بھی واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ جس کسی کو شک ہے وہ حلقہ دوبارہ کھولنے پر بھی راضی ہیں۔ 
پیپلزپارٹی بھی الیکشن کی شفافیت شک کا اظہار کر رہی ہے ہے لیکن پارلیمانی نظام کا بائیکاٹ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کا حصہ رہ کر احتجاج کرنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی پچھلے انتخابات کے برعکس اس انتخابات میں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے اور وفاق میں بھی انکی سیٹوں کی تعداد بڑھی ہے۔ ۔ اس لیئے دونوں جماعتیں اس یقین کے باجود کہ انہیں ’’لیول پلیئنگ فیلڈ ‘‘نہیں دی گئی اور انکے ساتھ گڑ بڑ ہوئی ہے وہ اس نتائج کوبھی نہیں مانتے،پھر بھی دونوں جماعتیں پارلیمانی سسٹم کا حصہ ضرور بنیں گی۔
چونکہ سیاست عملیت پسندی اور حقیقت پسندی کا نام ہے جس میں اخلاقیات کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔اسی لئے پہلے لوٹے ڈھونڈے جا رہے تھے اب پورے کے پورے ’’حمام ‘‘ تلاش کئے ے جا رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو شکست دے کر پی ٹی آئی کے سینے پر’’ مونگ دلنے والا‘‘ اب پی ٹی آئی میں جا کر اپنے ووٹرز کو بیچنے کے لئے تیار ہے۔ ۔وفاق میں حکومت سازی کے لیئے جوڑ توڑ جاری ہے، حکومت بنانے کے لیے پی ٹی آئی کو مزید 30 ارکان کی ضرورت ہے جس کے لیئے 13 آزاد اراکین اور ایم کیو ایم کے اراکین کو خصوصی اہمیت حاصل ہو گئی ہے آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کی لاٹری نکل رہی ہے ،بنی گالہ کو نیا’’چھانگہ مانگہ‘‘ بنایا جا رہا ہے اور آزاد امیدوارں کو جہازوں میں ڈال کر بنی گالہ پہنچایا جا رہا ہے۔ جہاں وہ خان صاحب کی ’’بیعت‘‘ کرنے کے 
بعد’’مشرف بہ تحریک انصاف ‘‘ہو رہے ہیں۔ حکومت سازی کے لیئے اس قسم کے جوڑ توڑ پر کوئی حیرانی نہیں،نہ ہی یہ کوئی نئی بات ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ کل تک جو اس کی مخالفت کرتے تھے اور دوسروں کو چھانگہ مانگا کے طعنے دیتے تھے ، آج خود انہیں وہی سب کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔وفاق میں اب بھی’’ نمبر گیم‘‘ چل رہی ہے اور وفاق میں حکومت بنانے کے لیئے ایک ایک ووٹ پر زور لگایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی اپنے اتحادیوں اور آزاد امیدواروں سے مل کر نمبر گیم میں اپنے حریفوں سے آگے ہے۔ مولانا فضل الرحمن ،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو’’ ایک‘‘ کر کے اور اپنے ووٹ انکے ساتھ ملا کر وفاق میں حکومت بنانے کے فارمولے پر عمل کر رہے ہیں ،ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا مطالبہ اور’’ احتجاجی تحریک ‘‘کے’’ آپشن‘‘ بھی موجودہیں۔ مسلم لیگ ن اس وقت انتہائی کشمکش سے دوچار ہے۔
نہ وہ پوری طرح ’’نگل‘‘ سکتے ہیں نہ ’’ اگل‘‘ سکتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف جیل میں ہیں۔ اور انکی صاحبزادی بھی انکے ساتھ بند ہیں۔ مسلم لیگ ن سب سے پہلے انکے ’’ ریلیف‘‘ کے لیئے کوشش کرے گی۔ ۔حکومت بنانے سے زیادہ نوازشریف اور مریم نواز کو جیل سے آزاد کرانا اور مقدمات میں انکو انصاف دلانا سب سے اہم ہو گا۔ احتجاجی تحریک چلانے کا مطلب حالات کو خراب کرنا اور نوازشریف کو جیل کی مدت میں اضافہ کرانا ہو گا۔ مسلم لیگ اسکا ’’ رسک ‘‘بہر حال کبھی نہیں لے گی۔ نئی حکومت کے لیئے بھی حالات کو سازگار رکھنے کے لیئے ضروری ہو گا کہ وہ نوازشریف کے معاملے کو جلد از جلد نمٹا لے۔اس میں تاخیر خود انکے لیئے بھی نقصان دہ ہوگی۔ گمان یہ ہے کہ مسلم لیگ پنجاب میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے باوجود شاید حکومت نہ بنا سکے ، کئی ارکان اسمبلی پر’’ فارورڈ بلاک‘‘ بنانے کے لئے دباؤ ہے۔ حکومت سازی کے لیئے ’’زور‘‘ لگانے پر انکے اراکین ٹوٹ سکتے ہیں اسی لیے ابھی وہ محتاط طریقے سے چل رہے ہیں۔مسلم لیگ ن اس وقت نہ پنجاب میں حکومت بنانے میں کوئی دلچسپی لیتی نظر آتی ہے اور نہ ہی وفاق میں وہ حکومت سازی کرنا چاہتے ہیں پنجاب میں تومسلم لیگ ن عمران خان سے یہ توقع لگائے ہوئے ہے کہ وہ اخلاقیات اور وضع داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے حکومت سازی کی آفر کریں گے۔ جبکہ خان صاحب نے تو’’ ضد‘‘ کر کے پنجاب میں حکومت بنانے کا موقع حاصل کیا ہے۔ اس لیئے وہ کسی قیمت پر یہ موقع ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ 
سیاسی منظر نامے کے مطابق کے پی کے میں تحریک انصاف حکومت بنائے گی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہو گی۔جبکہ وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی سربراہی میں’’ ملی جلی سرکار‘‘ بنے گی ۔ایک طویل عرصے بعد کوئی سیاسی جماعت پاکستان کے 70 فیصد سے زائد علاقے پر حکمران ہو گی۔ جسکے بعد اس بات کی توقع ضرور کی جاسکتی ہے کہ وفاق اور صوبوں میں ’’کھینچا تانی‘‘ کا پرانا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ اور پاکستان میں’’ استحکام‘‘ پیدا ہو جائے گا مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ہارنے والی جماعتیں کھلے دل سے شکست تسلیم کر لیں۔ لیکن’’ آنکھوں دیکھی مکھی‘‘ ان سے نگلی نہیں جا رہی۔