ڈاکڑ شاہد مسعور جھوٹے نکلے ۔

  ففتھ جنریشن وار کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے اور سب سے بڑی جنگ اسی کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے من گھڑت، فرضی اور جھوٹی خبریں بیرونی ایجنسیوں کی مدد سے پھیلائی جا رہی ہیں تا کہ معاشرے میں انارکی اور انتشار پیدا کیا جا سکے اور جنگ لڑے بغیر مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔سب سے بڑی مثال ہمارا معاشرہ ہے اور اس وقت سب سے زیادہ متاثرہے۔ زینب قتل کیس میں سیریل کلر عمران کی گرفتاری کے حوالے سے ایک ایسا حملہ ہوا ہے جس نے سب کو ٹرانس میں لے لیا ہے۔ بے بنیاد اور جھوٹی خبریں ، من گھڑت انفارمیشن کو میڈیا کی زبان میں فیلر بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک فیلر زینب قتل کیس میں چھوڑا گیا ، جس کا سحر سپریم کورٹ پر ہوا اور پھر پنجاب حکومت بھی اس کے ٹرانس میں آ گئی۔ ملزم عمران کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس سمیت کئی بینک کاؤنٹس پر مشتمل ایک ایسا ڈاکومنٹ سامنے آیا جس کی اسٹیٹ بینک سے تصدیق کی گئی اور اطلاعات یہ ہیں کہ عمران کے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے اطلاعات غلط ہیں۔ ویسے بھی عمران علی کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی کوشش کی وہ درست انداز اور درست طریقہ نہیں تھا۔ میں ایک مثال دیتا ہوں ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور حمید الدین سیالوی کی ملاقات کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ جو لوگ سات دن میں شریعت لینے آئے تھے ، ایک ملاقات کا شرف بخشنے پر ڈھیر ہو گئے ، تو اس کا مطلب الگ ہو گا۔ اور یہ بات اگر ایسے کہی جائے کہ شہباز شریف نے حمید الدین سیالوی سے ملاقات کر کے ان کے گلے شکوے سنے اور تحفظات دور کر دیے جس کی وجہ سے سیالوی نے ان کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان واپس لے لیا، تو اس کا مطلب مختلف ہو گا۔ اب یہ بات کرنے کا انداز یا تحریر کا ڈھنگ ہوتا ہے ۔ ایک ہی بات کو آپ کئی مختلف طریقوں سے ادا کر سکتے ہیں۔ گفتگو کا انداز مفہوم تبدیل کر دیتا ہے اور مثبت کو منفی اور منفی کو مثبت میں تبدیل کر دیتا ہے۔اگر ڈاکٹر شاہد مسعود یہ فرماتے کہ زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی کے حوالے سے ان کے پاس کچھ اضافی معلومات ہیں ان کے پاس وہ ڈاکومنٹس ہیں جن سے لگتا ہے کہ وہ بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ تو آج انہیں سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لیکن جب آپ نے یکطرفہ فیصلہ سنا دیا ، سویپنگ سٹیٹمنٹ دے دی کہ زینب کا قاتل انٹر نیشنل مافیا کا کارکن ہے اور اس کے درجنوں بینک اکاؤنٹس ہیں، اس کے پیچھے با اثر شخصیات کھڑی ہیں ، حکومتی شخصیات ایم این اے اور ایم پی اے کھڑے ہیں ، تو آپ نے دراصل فرد جرم عائد کر دی اور ان ثبوتوں کی بناء پر عائد کر دی جن کے بارے میں یہ نہیں پتہ کہ وہ سچے ہیں یا جھوٹے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق عمران علی کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے ۔عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں حقائق پیش کیے جانے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔اب کیا عزت رہ گئی ان کی جنہوں نے رائی کا پہاڑ بنایا اور پھر اسے عوام پر تھوپنے کی کوشش کی۔ سوال یہ ہے کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟کیوں قاتل کے قاتل ہونے پر شک کے دائرے لگائے جا رہے ہیں؟ رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ زینب کا قاتل عمران جنسی جنونی بھی نہیں ، نفسیاتی مریض بھی نہیں ہے تو اس سے معاملہ اور زیادہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ وہ کوئی کاروباری شخص ہے یا پھر کسی کا آلہ کار ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ عمران اکیلا ملزم ہے اس کا کوئی گروہ یا گینگ نہیں ہے اور ساری وارداتیں اس نے خود اکیلے نے کی ہیں۔ تو اس کا مطلب تو صاف ہے کہ وہ جنسی جنونی ہے یا نفسیاتی مریض ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان وارداتوں کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر یہ سب کام کرتا ہے۔ اور اس کے پیش نظر کوئی مالی مفاد ہے یا اس کا کاروبار ہے یا پھر وہ تھیوری جو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جسے ڈارک ویب کہا جا رہا ہے۔ یہ تھیوری کئی کیسوں میں ثابت ہو چکی ہے، جس میں بچوں سے زیادتی اور ان کے قتل کو لائیو براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے اور ڈالر کمائے جاتے ہیں۔بھارت میں ایک کیس رادھا نامی بچی کا ہوا تھا جس میں ملزم نے بچی کو ڈارک ویب پر براہ راست لائیو زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے مرحلہ وار قتل کیا۔ یہ جنسی تشدد کا کیس تھا جس کا بھارت میں بہت شور بھی برپا ہوا۔ میں اس تھیوری سے متفق نہیں ہوں۔ اسی کانسپریسی تھیوری کو مان کر ہی تو ڈاکٹر شاہد مسعود عمران علی کے اکاؤنٹ نکال لائے تھے۔ اور ڈاکٹر شاہد کو کسی نے تھیوری بھی سمجھائی اور کاؤنٹس بھی اس کے حوالے کیے۔ اسی کو لے کر وہ سپریم کورٹ تک پہنچ گئے۔ کیونکہ ڈاکٹر شاہد صحافی تو نہیں ہیں کہ خبر کی تصدیق اچھی طرح کر لیتے۔ اینکر ہیں اور اچھا بولنا جانتے ہیں ، گفتگو کے ماہر ہیں۔ وہ تصدیق ضروری نہیں سمجھتے۔ کسی نے انہیں عمران کے بینک اکاؤنٹ کی ایسی لسٹ تھما دی۔ اب یہ غلط تھی یا صحیح تھی اس کی تصدیق ہونا چاہیے تھی۔ لیکن چونکہ حکومت نے مشکوک پریس کانفرنس سے شبہات پیدا کر رکھے تھے ۔ اس لیے جیسے ہی کسی کو ہوا میں فیلر دیا گیا اس نے پکڑ لیا اور آگے بیان کر دیا۔ لگ گیا تو تیر ورنہ تکا۔ اصل ابہام زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد حکومتی رویے سے پیدا ہوا ہے اور ابھی تک ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب تو الزام لگا کر راتوں رات عوام کی نظروں میں ہیرو بن گئے اور یک لخت اینکر کی کرسی سے چھلانگ لگا کر تحقیقاتی صحافیوں کی میز پر براجمان ہو گئے۔مجھے ڈاکٹر شاہد مسعود کی نیت پر کوئی شبہ نہیں ، وہ ایک اچھے اینکر ہیں اور گفتگو میں مہارت رکھتے ہیں۔ ایسی گفتگو جو سننے والے پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ قرون اولٰی میں اسے داستان گو یا کہانی کار کہا جاتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو دو سطر کی ایک خبر دے دیں وہ اس کی پوری کہانی بنا سکتے ہیں۔ بہت سے اینکرز اور صحافی اس فن سے نابلد ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے چاہنے والے ان کے حوالے سے کسی بھی نامناسب بات پر برا مناتے ہیں۔ مگر میری گزارش ہے میڈیا کو سب سے زیادہ ففتھ جنریشن وار کو سمجھنا چاہیے اور اپنی آنکھیں ، کان کھلے رکھنے چاہئیں۔ انفارمیشن کو شیئر کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر وہ انفرمیشن جو تصدیق شدہ ہو۔ ڈس انفارمیشن پر رائی کا پہاڑ مت کھڑا کریں۔ اس سے معاشرے کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ نقصان ہوتا ہے۔ آپ کی کریڈیبلٹی بھی خراب ہوتی ہے۔ دروغ گوئی اور جھوٹ سے ہم معاشرے کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔یہ تو مجھے نہیں پتہ کہ ڈاکٹر صاحب اس خبر پر معافی مانگیں گے یا نہیں۔ ہو سکتا ہے معافی مانگ لیں ، اس کا انہیں پہلے سے بہت تجربہ ہے۔ جھوٹ اور سچ کا فیصلہ تو اب سپریم کورٹ نے کرنا ہے، میں نے اور آپ نے نہیں ۔