چیف جسٹس،نیب اور شہباز شریف

 
سیاسی حالات اس قدر نازک اور حساس ہیں کہ تنقید بھی تازیانہ بن کر لگتی ہے، چیف جسٹس
نے انتظامیہ کی چند باتوں پر گوشمالی کرنے کی کوشش کی ہے تو اب انہیں بہت برا لگ رہا ہے اور اداروں کی حدود کا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔جب چیف جسٹس افتخار چوہدری پیپلزپارٹی کے دور میں ان کی گوشمالی فرماتے تھے تو اس وقت کسی کو جوڈیشل ایکٹوزم یا اداروں کی حدود کا بالکل خیال نہیں آیا۔ چیف جسٹس چند عوامی مسائل پر جس طرح حرکت میں آئے ہیں وہ سیاستدانوں اور یا حکومت کو بالکل پسند نہیں آرہا، اور تنقید تو کبھی کسی کو پسند نہیں آتی۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد گورننس پر سوالات بڑھ گئے ہیں اور معاشرے میں بدامنی کے واقعات میں اچانک اضافہ ہوا ہے، ان حالات میں عدلیہ کا حرکت میں آنا ایک فطری عمل ہے ۔عدلیہ میں اگر کمزوریاں ہیں ، خامیاں ہیں ، عدالتی نظام میں بہتری کی گنجائش ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ عدلیہ عوامی معاملات کو یکسر نظر انداز کردے۔ میرا نہیں خیال کہ عدلیہ کو آئین اور آئین میں دیے گئے اختیارات کے حوالے سے کوئی غلط فہمی ہے۔ عدلیہ آئین کی کسٹوڈین تو نہیں لیکن آئینی تشریحات کی مجاز ہے ۔ان کاآئین کے بارے میں علم دوسروں سے زیادہ ہے۔میری ناقص رائے اور علم کے مطابق عدلیہ آئین سے باہر جا ہی نہیں سکتی۔ اب یہ سوال بڑی دیر سے ہمارے معاشرے میں زیر گردش ہے کہ کیا عدلیہ اور فوج کو آئینی طور پرایسا کردار دیاجا سکتا ہے جس سے ان کے اختیارات کادائرہ کار بڑھایا جا سکے۔ کیا فوج اور عدلیہ کو حکومت میں شریک کر لینا چاہیے؟فوج بھی بار بار مارشل لا لگا کر اقتدار سنبھالتی رہتی ہے اور وہ سیاستدانوں سے اکثر ناخوش بھی رہتی ہے۔ اس طرح عدلیہ بھی حکومت کے بہت سے کاموں سے خوش نہیں رہتی۔ اور بہت سے حساس معاملات ہیں جن کی وجہ سے اداروں اور سول حکومتوں میں محاذآرائی کا ماحول رہتا ہے اور تنازعات کھڑے ہوتے رہتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے چل رہا ہے جس کی وجہ سے ماحول اکثر تناؤ کا شکار رہتا ہے۔ اگر فوج اور عدلیہ کو حکومت میں کوئی اہم رول دے دیا جائے تو کیا یہ لڑائی رک سکتی ہے؟ماحول میں تناؤ کم ہو سکتا ہے؟ مگر فوج اور عدلیہ کے کردار کو شامل کرنے سے جمہوریت پر سوال اٹھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ فارمولا کبھی اپلائی نہیں کا گیا نہ ہی کسی تجربے کی کوشش کی گئی۔میرا خیال ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل نکالا جائے تا کہ عدلیہ اور فوج دونوں مطمئن رہیں ۔ یہ طے ہے کہ جب تک اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلے گا ، حدود کا تعین نہیں ہو گا یا اختیارات میں شامل نہیں کیا جائے گا، غلط فہمی برقرار رہے گی۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر ڈیڑھ ارب روپے کرپشن کے مبینہ الزامات ہیں ۔نیب کے بلانے پر وہ شدید ناراض ہیں اور نیب پر گرج برس رہے ہیں۔ جس سے لگتا یوں ہے کہ شہباز شریف بھی اسی کشتی میں سوار ہو رہے ہیں جس کشتی میں ان کے بھائی نواز شریف سوار ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کے جلسے کی ناکامی کے بعد یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ شہباز شریف کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں لیکن وہ تاثر نیب نے ختم کر دیا ہے۔ نیب کے بلائے جانے پر شہباز شریف کا گرجنا برسنا اور چیئرمین نیب پر الزام تراشی کرنا کئی حقیقتوں کو کھول کر بیان کر رہا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ میانہ روی اور درمیانی راستہ اختیار کرنے کی شہرت رکھنے والے وزیر اعلیٰ کے اب سارے راستے بند ہوتے نظر آتے ہیں۔پتہ نہیں وزیر اعلیٰ صاحب کو یہ کیوں لگا کہ نیب انہیں کرپشن کے الزام میں پکڑ کر اندر کر دے گی۔ میری اطلاعات کے مطابق نیب نے تو انہیں اصالتاً یا وکالتاً طلب کیا اور ان سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم تاخیر کا شکار کیوں ہوئی اور اس تاخیر کا ذمہ دار کون ہے جس کی وجہ سے اس پراجیکٹ کے اخراجات بڑھے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ شہباز شریف تو اتنے غصے میں آ گئے ہیں کہ یہاں چڑھے اور وہاں اترے۔ وزیر اعلیٰ صاحب کو شاید یہ یاد نہیں رہا کہ نیب کے نئے چیئرمین تو ان کے بڑے بھائی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مرضی اور منشا سے لگائے گئے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی مرضی کے بغیر تو نیب کا چیئر میں لگتا نہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ چیئر مین نیب کو ان سے کیا ذاتی عداوت ہو سکتی ہے۔ شہباز شریف کا اس کیس میں ری ایکٹ کرنا اور خود پیش نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ شہباز شریف کا ری ایکشن خاصا حیران کن ہے۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے جیسے نیب ان کے خلاف کوئی سازش کر رہا ہے۔ یہ وہی تاثر ہے جو ان کے بڑے بھائی مسلسل دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔تو لگتا یوں ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے ناکام جلسے کے بعد بھی طالع آزماؤں نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ جبکہ خود متحدہ اپوزیشن نئی شکل اختیار کرنے والی ہے۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ملاپ کا تجربہ کامیاب نہیں رہا۔ پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ پر لعنت بھینے کے معاملے پر سیاست شروع کر رکھی ہے اور سندھ اسمبلی میں خان صاحب اور شیخ رشید کے خلاف قراردار مذمت منظور کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے عمران خان اور شیخ رشید کے بارے میں جو دھواں دار تقریریں کی ہیں اس کے بعد بھی یہ اتحاد بچ جائے تو اسے معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے ، یا پھر درپردہ کسی قوت کا کرشمہ ہو سکتا ہے۔ بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی نئی شکل پیپلزپارٹی کے بغیر ہو گی اور عمران خان کسی صورت متحدہ اپوزیشن میں پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ پنجاب میں ماحول اسی طرح تبدیل ہو رہا ہے جس کی بہت سے تجزیہ نگار اور سیاستدان پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ جس سے لگتا ہے کہ ایک آدھ تحریک اور اٹھے گی اور دو چار محاذ اور کھولے جائیں گے اور فروری کو ہی نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ زینب کا قتل ، نقیب للہ محسود کی ہلاکت ، مردان کی عاصمہ سمیت کمسن بچیوں سے زیادتی کے معاملات نے حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کر دی ہے۔ اس کے باوجود کہ نواز شریف نے ہری پور میں ایک کامیاب جلسہ کر کے رائے عامہ کو اپنی حمایت میں ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کا زیادہ اثر نہیں پڑا اور یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ حکومت کی رٹ بہت کمزور ہو چکی ہے۔ نہ صرف وفاق بلکہ صوبائی حکومتوں کوبھی مسائل کا سامنا ہے اور سیاستدانوں کو نیا مینڈیٹ لینا ضروری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ الیکشن جلد ہونے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں۔ لیکن اس کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب کو بے دست و پا کرنے کی آخری کوشش کی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ معاملہ کہاں تک چلتا ہے۔ کیا خادم اعلیٰ چومکھی لڑائی جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یا ان کے مخالفین اور ناقدین مل کر انہیں بھی میدان سے باہر کر دیں گے تا کہ الیکشن کے لیے میدان سب کے لیے برابر کر دیا جائے۔