بابا رحمتا اور شیر آ گیا

 چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب نے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کی جس خبر پر نوٹس لیا اور میڈیا کے اہم لوگوں کو بلا کر ان سے رائے لی، اس نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں ۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر کے حوالے سے میڈیا بھی واضح طور پر تقیسم ہو رہا ہے۔ میڈیا کے کچھ حصے کو اس بات پر اعتراض ہے کہ کیا ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر کا اس انداز میں ٹرائل ہونا چاہیے یا اس انداز میں ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں؟اور کیا میڈیا خبر کے صحیح یا غلط ہونے کے پیرا میٹرز کا فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کو دے رہا ہے؟ اب چونکہ یہ معاملہ عدالت میں بھی ہے اور خود چیف جسٹس صاحب نے اس پر ایکشن لیا ہے تو اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہں رہتی۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ اب لوگوں کی توجہ ملزم عمران علی اور زینب کیس سے زیادہ اس بات پر چلی گئی ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ اب کیا ہو گا۔ کیا انہیں غلط خبر پر سزا دی جائے گی۔ اگر غلط خبر پر سزا دینے کی روایت پڑ گئی تو پھر ان لوگوں کا کیا ہو گا جن کی بیشتر خبریں باؤنس ہو جاتی ہیں ، پھر تو خبروں پر کوئی بات ہی نہیں کرے گا، کس کو سزا کا شوق ہے۔ دیکھیں خبر یا تو سچی ہوتی ہے یا جھوٹی ہوتی ہے اور ہر خبر ثبوت کے ساتھ نہیں ہوتی۔ خبر کے حصول کے بے شمار ذرائع ہوتے ہیں ، جو کبھی سامنے نہیں لائے جاتے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں بیشتر جنگیں ففتھ جنریشن وار فیئر کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں ، پروپیگنڈے کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں، اس کا بہت بڑا حصہ میڈیا ہے۔ میڈیا پراپیگنڈے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ہر سچی خبر بھی میڈیا کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ خبروں پر آئینی پابندیوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ مذہب ، فوج اور عدلیہ کے حوالے سے منفی خبروں کی ممانعت ہے، چاہے وہ درست ہی کیوں نہ ہو۔بعض سچ انتقام کے لیے چلائے جاتے ہیں۔ مخالفت کی وجہ سے وہ سچ خبر بن کر میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں اور جھوٹی خبروں کے بھی کئی مقاصد ہیں۔ جھوٹی خبریں پروپیگنڈہ کا حصہ بھی ہوتی ہیں اور جھوٹی خبر کا مقصد ردعمل حاصل کرنا بھی ہوتا ہے۔جو خبریں مقاصد کے حصول کے لیے جاری ہوتی ہیں ، ان میں سے اکثر جھوٹی ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے کیس میں عام تاثر یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر جھوٹی ہے۔ انہوں نے زینب کے قاتل عمران کے جن بینک اکاؤنٹس کا حوالہ دیا ، ان ا کاؤنٹس کا کوئی وجود ہی نہیں۔سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی خبر جھوٹی ہے یا بالکل بے بنیاد ہے؟بعض جھوٹی خبروں کی بھی کوئی بنیاد ضرور ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے کیس میں کچھ ایسا ہے۔بینک اکاؤنٹس والی بات درست نہیں مگر معصوم بچیوں سے زیادتی اور مکروہ کاروبار کی بات بے بنیاد نہیں ہے۔ 2015 میں قصور میں پورنو گرافی کا ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آ چکا ہے۔ زینب قتل کیس کی ان خطوط پر تفتیش ضرور ہونا چاہیے۔ کیا عمران نے ان معصوم بچیوں کو صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے قتل کیا یا کسی اور کی خواہش بھی اس میں شامل تھی؟اسے ضرور چیک کر لینا چاہیے۔ میرا شاہد مسعود سے کوئی اختلاف نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر عمران علی کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے پاس کوئی ثبوت ہیں اور وہ اپنی خبر پر اسٹینڈ لے رہے ہیں تو پھر پورے کا پورا میڈیا ان کے ساتھ ہے۔ عمران علی اور اس کے بینک اکاؤنٹس والی خبر پر وہ ثبوت دیتے ہیں تو ان کا ساتھ دیا جائے گا۔ لیکن میرا گمان یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی خبر باؤنس ہو گئی ہے اور خبر باؤنس ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اب سوال تویہ ہے کہ میڈیاس کے لوگوں کوکیوں بلایا گیا ؟ بڑے ادب اور احترام کے ساتھ مجھے بھی لگتا ہے کہ چیف جسٹس کو صحافیوں سے مشاورت کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر پھر بھی انہوں نے میڈیا کو عزت دی اور اپنے پاس بلایا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ عزت افزائی ہے،کیونکہ اس کی کبھی پہلے روایت نہیں رہی۔ اس لیے بہت سے صحافیوں کو اور میڈیا کو عجیب لگ رہا ہے۔ مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میڈیا کے ہمارے دوست ان کے بلانے پر تو چلے گئے مگر ذہنی طور پر وہ تیار نہیں تھے کہ وہاں جا کر کیا موقف اختیار کرنا چاہیے؟ ڈاکٹر شاہد مسعود کا ساتھ دینا چاہیے جو اپنی اسٹوری پر اسٹینڈ لے رہا ہے یا پھر صحافی کو غلط سٹوری دینے پر سزائیں تجویز کرنا چاہئیں؟یا پھر ان کی معافی کی درخواست کرنا چاہیے؟ میڈیا کے دوست بھی اس حوالے سے کوئی واضح موقف دیتے نظر نہیں آئے۔ چونکہ سپریم کورٹ ایک سپریم ادارہ ہے اور چیف جسٹس کا منصب بہت بڑا ہے، ان کے بلانے پر نہ جانا توہین کے زمرتے میں آ سکتا ہے۔ اس لیے لوگ چلے تو گئے اور زیادہ تر نے دفاعی انداز اختیار کیا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے لیے معافی کی درخواست کی جو خود بھی معافی نہیں مانگ رہے اور اپنی خبر پر اسٹینڈ لے رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ میڈیا کے لوگ بھی اس ناگہانی دعوت کو سمجھ نہیں پائے۔ ویسے بھی جنہیں سوال پوچھنے کی عادت ہو جائے ان کے لیے جواب دینے مشکل ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر غلط ہو سکتی ہے اور خبریں غلط ہو جاتی ہیں، اس لیے خبر کی ذمہ داری ذرائع کے سر ڈال دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے دعویٰ بنا کر پیش کیا تو ثبوت کی ذمہ داری ان پر آ گئی ہے۔ دیکھنا یہ پڑے گا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی نیت کیا تھی۔ کیا ڈاکٹر صاحب کی نیت اس کیس کو سیاسی رنگ دینا ہے یا ڈاکٹر صاحب اس خبر کی بنیاد پر کیس کی وسیع تر تحقیقات کی بات کر رہے تھے ، لیکن وہ بات سمجھا نہیں پا رہے۔ انہیں بات سمجھانے سے زیادہ دعوے کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ اسی لیے وہ دعوے کی صداقت پر اصرار کر رہے ہیں۔ میں بڑے ادب سے صحافت کی قد آور شخصیات اور محترم چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے کنسرن کو مدنظر رکھتے ہوئے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک میرا علم ہے خبر کی صداقت اور اس کے معیار کی ذمہ داری ادارے کی بھی ہوتی ہے اور ادارہ ہی فیصلہ کرتا ہے کہ اس کے رپورٹر یا اینکر نے غلط خبر دی ہے تو اس کی سزا کیا ہے۔ لیکن چونکہ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور خود ڈاکٹر شاہد مسعود کی خواہش پر یہ معاملہ چیف جسٹس نے ٹیک اپ کر لیا ہے تو اس کا فیصلہ بھی انہوں نے ہی کرنا ہے۔ شاہد مسعودڈاکٹر صاحب سے غلطی ہو گئی کہ وہ زینب قتل کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش میں دھر لیے گئے۔ دوسرا انہوں نے چیف جسٹس کو آواز دی اور وہ اکثر اسی طرح آرمی چیف اور چیف جسٹس کا نام لے کر اپنی خبروں کی صداقت کا لوگوں کو یقین دلا دیا کرتے تھے۔ اب پہلی بار چیف جسٹس نے ان کی خبر کا نوٹس لے ہی لیا۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا ہے جس طرح شیر آیا شیر آیا کہہ کر لوگوں کو ڈرانے والے کے سامنے ایک دن سچ مچ شیر آ ہی جاتا ہے۔ تو وہ شیر آ چکا ہے۔ اب فیصلہ شیر نے ہی کرنا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔