ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے !

 !ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

افتخار کاظمی

ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے اور حکمران جماعت کے لوگ خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں۔
اپوزیشن کا پاور شو ناکام ہونے کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کا خیال ہے کہ مقابلے کا پہلا راؤنڈ انہوں نے آسانی سے جیت لیا ۔تمام تجزیہ نگاروں کی بھی یہی رائے ہے کہ مال روڈ پر جلسہ کرنے والی متحدہ اپوزیشن کی اگر اتنی ہی طاقت ہے جتنی جلسے میں نظر آئی تو پھر اس طاقت سے شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ تو کیا علاقے کے کسی کونسلر سے بھی زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا۔

اب حکومتی حلقوں اور ان کے حمایتی میڈیا کا تاثر یہی ہے بلکہ اس بات کا برملا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کا پہلا مرحلہ ناکام ہو گیا ہے۔ جو استعفے لینے آئے تھے ان میں سے ایک تو اپنا استعفیٰ دے کر چلتا بنا اور جو رہ گئے ہیں وہ بھی استعفوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ اپوزیشن سانحہ ماڈل ٹاؤن کا انصاف مانگتے مانگتے پارلیمنٹ پر لعن طعن کر کے لوگوں کو کنفیوژن کا شکار کر گئی۔
اب یہ بات تو طے ہے کہ حکمران جماعت نے مزاحمت کے بغیر ہی مخالف کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ مگرحقیقت کیا ہے۔ کیا اپوزیشن کے غبارے سے ساری ہوا نکل گئی ہے؟ کیا اپوزیشن کے پاس اتنی ہی طاقت کے جس کا مظاہرہ ملک بھر کے عوام نے دیکھا۔ پاور شو تو ایسا نہیں ہوتا۔ اتنا مجمع تو مال روڈ پر کوئی بھی گاڑی والا کچھ دیر کو بریک لگا کر بھی جمع کرسکتا ہے۔
حکومت اور پولیس کے اعداد و شمار کو رد بھی کر دیا جائے اور اعداد و شمار بڑھا بھی لیے جائیں تو شرکا کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ اس میں زیادہ تر پیپلزپارٹی اور پھر ق لیگ اور ڈاکٹر صاحب کی اپنی جماعت کے لوگ یعنی مریدین شامل تھے ، جنہوں نے سب سے زیادہ وقت پنڈال میں گزارا۔ باقی جماعتوں کے کارکنان جو دوسرے شہروں سے آئے تھے انہوں نے عمران خان کی تقریر تک کا انتظار نہ کیا اور شام ڈھلتے ہی واپسی کا سفر اختیار کر لیا۔
اب سوال یہ ہے کہ جلسہ گاہ میں لوگ کیوں نہیں آئے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچنے سے روکا گیا تو اس کی کوئی زیادہ شکایات نظر نہیں آئیں۔ نہ ہی متحدہ اپوزیشن نے حکومتی رکاوٹوں کے حوالے سے کوئی سوال اٹھایا۔ تو پھر لوگ کہاں گئے؟
عمران خان نے مینار پاکستان پر دو بڑے جلسے کیے۔ لاکھ ڈیڑھ لاکھ لوگ ان کے ہر جلسے میں نظر آ جاتے تھے۔ این اے 120 میں جلسہ کیا اس میں بھی دس پندرہ ہزار لوگ تو موجود تھے اور وہ انتخابی جلسہ تھا جس میں مقامی لوگ شریک ہوئے۔ لیکن مال روڈ توکھیل کا میدان تھا جس میں طاقت کا مظاہرہ کیا جانا تھا۔ اگر اپوزیشن ساٹھ ستر ہزار لوگ مال روڈ پر لے آتی تو فضا حکمران جماعت کے خلاف نظر آتی۔
تقریریں مایوس کن، اعلانات پھس پھسے اور شرکا ء کی تعداد کے حوالے سے مال روڈ کا شو ہرگز متحدہ اپوزیشن کی سیاسی طاقت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اس لیے بہت سے ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال یہ ہے کہ کھیل شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گیا۔ اپوزیشن کی جس طاقت سے حکومت کی ٹانگیں لرز رہی تھیں وہی حکومت ایک ناقابل شکست پہلوان بن کر سامنے آ گئی ہے۔ اپوزیشن نے ایسی لڑائی لڑی جس میں وہ مخالف کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر زمین بوس ہو گئی۔اپوزیشن کے اسی ناکام شو نے حکمرانوں کا اعتماد تو بحال کر دیا ہے اور حکومت کی مخالف قوتوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ جس نے کئی سوالات کا جواب دے دیا ہے اور بہت سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کی اس تحریک کے پیچھے نہ کوئی خفیہ طاقت ہے نہ کوئی درپردہ قوت ہے ، اور نہ ہی کسی ادارے کی سازش نظر آئی۔ حکومت کے خلاف چلنے و الی وہ تحریکیں جن کا کوئی وارث ہوتا ہے اور وہ تحریکیں جن کا کوئی والی وارث نہیں ، دونوں کا فرق کھل کر سامنے آ گیا ۔ وارثوں والی تحریک کے شرکاء لاکھوں میں نظر آتے ہیں اور ان کے حالات اور ماحول کو سازگار بنایا جاتا ہے۔ انہیں مددگار بھی فراہم کیے جاتے ہیں اور حکومت کی مخالف تمام قوتوں کو یکجا کیا جاتا ہے۔ جن میں غیر سیاسی قوتیں بھی شامل ہوتی ہیں جو مذہب کے نام پر جزوقتی سیاست میں بھی نظر آتی ہیں۔
اب اگرکھل کر کہا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے پیچھے فوج یا کوئی اور ادارہ نہیں تھا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی نظر آ گیا ہے کہ انہیں سیاسی لڑائی اپنے بل بوتے پر لڑنی پڑے گی۔ یا پھر خفیہ قوتوں نے اپوزیشن کو ان کی اصل اوقات بھی دکھا دی ہے کہ ان کی مدد کے بغیر چلنے والی تحریکوں یا دھرنوں کا کیا حال ہوتا ہے؟
جن سوالوں کے جواب لوگوں کو نہیں ملے وہ یہ ہیں کہ تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں کو زیادہ متحرک کیوں نہیں کیا؟ ان کے کارکنان کی تعداد کم کیوں رہی؟ ان کے لوگ کہاں گئے؟ لاہور تو میلے ٹھیلے کا شہر ہے۔ پانچ دس ہزار لوگ تو مذاق مذاق میں جمع ہو جاتے ہیں۔
تو لگتا یوں ہے کہ جس طرح خفیہ قوتوں نے اپوزیشن کو ان کی اوقات یاد دلائی ہے اسی طرح تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی اور ق لیگ سمیت دوسری اتحادی جماعتوں کو ان کی اوقات یاد دلا دی ہے۔ تحریک انصاف کے لوگ اگر جلسے میں آ جاتے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ملتا اور پیپلز پارٹی کی پنجاب میں واپسی ہو جاتی۔ لیکن عمران خان بھی سیاسی چال چلنے میں کامیاب ہو گئے۔ 
عمران خان سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں ان کا مقابلہ صرف مسلم لیگ ن سے ہے۔ اور پنجاب کے ووٹ بینک کے کیک کے صرف دو حصے دار ہیں ، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف۔ آصف زرداری کیک کے تیسرے دعویدار کہاں سے بن گئے۔ اسی وجہ سے عمران خان نے جلسے کو جلسہ ہی رہنے دیا اور پاور شو میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ اسی لیے عمران خان ڈاکٹر طاہر القادری سے کھنچے کھنچے ہی نظر آئے۔
یہ تو ہے پاور شو کے ناکام ہونے کی اصل کہانی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کی فلم فلاپ ہوئی ہے۔ ان کی پٹاری میں یہی کچھ ہے یا کچھ اور بھی ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ فلم ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا کام دکھا دیا ہے یعنی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو ایک اسٹیج پر بٹھا دیا ہے۔ اب دونوں جماعتوں کے کارکنان بھی اس جوائنٹ وینچر کو ہضم کر لیں گے اور اصل فلم انٹرول کے بعد شروع ہو گی۔
مجھے خدشہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ سرپرائز ہوں گے ، شاکنگ بھی ہو سکتے ہیں اور پر تشدد مناظر بھی ہو سکتے ہیں۔ استعفے اور اسمبلیاں توڑنے کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی ہو گی۔ جبکہ سڑکوں پر دما دم مست قلندر کا ذمہ ڈاکٹر طاہر القادری سنبھالیں گے۔ ان کے جانثاروں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو سر پر کفن باندھ کر نکلیں گے۔
یہ میرے خدشات بھی ہیں اور معلومات بھی ہیں کہ تحریک کا اگلا مرحلہ وہ نہیں ہو گا جو پہلا تھا۔ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ اپوزیشن ناکام ہو گی یا کامیاب ہو گی۔ مگر میرا گمان یہ ہے کہ حکومت کو سخت مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ اور درپردہ قوتیں جو اس وقت لاتعلق ہیں ، آگے بھی لاتعلق رہیں گے یا نہیں۔ یا پھر انہیں اپنا وزن کسی ایک طاقت کے پلڑے میں ڈالنا پڑے گا۔تو مجھے لگتا یوں ہے کہ پارٹی ابھی شروع ہوئی ہے اور انٹرول کے بعد سرپرائز ، شاک اور وائلنس سے بھرپور مناظر پر مبنی فلم چلے گی۔واللہ اعلم