حضرت حسینؓ کا مقصدِ جہاد

سانحۂ کربلا اور شہادت حسین تاریخ اسلامی کے اہم ترین واقعات میں سے ہے۔ صدر اول میں رونما ہونے والے اس سانحہ کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا موقف اس لحاظ سے مبنی برحق تھا کہ انھوں نے ملوکیت کا راستہ روکنے اور احیائے خلافت کے لیے آواز بلند کی تھی۔ کئی لوگوں کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ امام حسینؓ نے حکومت کے خلاف کیوں اتنا بڑا اقدام کیا جس کے نتیجے میں ان کو اپنی اور اپنے خاندان و اعیان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ اس کا جواب معلوم کرنے کے لیے اسلام کے نظامِ خلافت کی روح اور طریق کار کو سمجھنا ضروری ہے۔
محمد مصطفےٰؐ تو اللہ کے نبی تھے۔ نبی انسانوں کا مقرر کردہ نہیں ہوتا، اسے اللہ تعالیٰ خود اس مقام پر فائز فرماتا ہے۔ آپؐ نے واضح طور پر فرما دیا تھا کہ آپؐ پر سلسلۂ انبیا مکمل ہوچکا ہے، اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپؐ کے ارشاد کے مطابق دورِ نبوت کے بعد خلافت علیٰ منہاج النبوت کا دور تھا۔ خلیفہ کا تقرر اس کی اہلیت، صلاحیت، صالحیت، علم اور تقویٰ کی بنیاد پر امت کو کرنا ہوتا ہے۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کے جو مناقب بیان کیے، ان سے واضح طور پر یہ اشارہ تو ملتا تھا کہ جماعتِ صحابہ میں سب سے بلند تر مقام سیدنا ابو بکر صدیقؓ کا
ہے مگر آپؐ نے ایک خاص حکمت کے تحت واضح الفاظ میں اپنے بعد انھیں اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا۔ وہ حکمت یہی تھی کہ آپؐ کی امت کے ذمے انتخاب خلیفہ کا جو عظیم کام ہے وہ باہمی مشاورت سے انجام پائے۔ چونکہ آپؐ کے کئی اشارات سے صحابہؓ سمجھتے تھے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بارے میں آپؐ کی کیا سوچ تھی۔ اسی وجہ سے جماعتِ صحابہ میں بالاتفاق یہ رائے تھی کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ تمام اصحابِ رسول میں سے افضل ہیں۔ انھیں افضل البشر بعد الانبیاء کا شرف جو حاصل ہے، تو یہ حدیث پاک سے ثابت ہے۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ تقریباً اڑھائی سال خلافت کی ذمہ داری کو بطریقِ احسن نبھانے کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو مرض الموت میں انھوں نے اہلِ شوریٰ کو طلب کیا۔ خلیفۂ راشد نے ان لوگوں کے سامنے اپنے جانشین کے لیے نام تجویز کرنے کی بات رکھی۔ شوریٰ کے یہ سب ارکان بلند مرتبت صحابہؓ تھے۔ ان میں حضرت عبد الرحمان بن عوف، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت سعید بن زید، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت ابو الاعور رضی اللہ عنہم کے نام آتے ہیں۔ اول الذکر پانچ صحابہ تو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ان کا تعلق مہاجرین سے ہے جبکہ آخری دو صحابہ انصار میں سے ہیں اور ان کی بھی بڑی فضیلت آنحضورؐ کی زبان سے بیان کی گئی ہے۔ عشرہ مبشرہ میں سے بعض دیگر صحابہ اس وقت مختلف مہمات پر ہونے کی وجہ سے مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل مشاورت نے حضرت ابو بکرؓ سے پوچھا کہ ان کے ذہن میں کس کا نام ہے تو آپؓ نے حضرت عمرؓ کا نام بتایا۔ ایک روایت کے مطابق آپؓ نے ایک تحریر بھی لکھوائی تھی، جس کے کاتب حضرت عثمان بن عفانؓ تھے اور اس میں بھی حضرت عمرؓ ہی کا نام تجویز کیا تھا۔ امام طبری نے اپنی مشہور کتاب تاریخ الامم والملوک میں لکھا ہے کہ تمام صحابہ نے نہ صرف اس تجویز سے اتفاق کیا بلکہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے تو واضح الفاظ میں کہا کہ امت عمر بن خطابؓ کے سوا کسی اور شخص پر متفق نہیں ہوگی۔ یہ واقعہ امام ابن اثیر نے بھی لکھا ہے۔ (دیکھیے الکامل فی التاریخج۴، ص ۲۵۔۱۵ ،اسد الغابۃ ج ۴، ص ۰۷۔) یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت ابو بکرؓ سے کہا گیا کہ عمر بن خطابؓ کی طبیعت اور مزاج میں قدرے سختی ہے تو آپؓ نے فرمایا کہ اس پر ذمہ داری کا بوجھ پڑے گا تو سختی نرمی میں بدل جائے گی اور یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی۔
سیدنا عمرؓ اپنے دس سالہ دورِ خلافت میں نہایت قابلِ قدر کارنامے سرانجام دینے کے بعد ایک بدبخت پارسی ابو لولو فیروز کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ بعد ازاں شہادت کے درجے پر فائز ہوئے ۔ امت کی اکثریت نے عثمان بن عفانؓ کو خلافت کی ذمہ داری اٹھانے کا مکلف بنایا ہے۔حضرت عثمانؓ نے تقریباً بارہ سال خلافت کی۔ ان کی خلافت کے آخری دور میں کچھ فتنے سراٹھانے لگے۔ انھی فتنوں کے نتیجے میں وہ فساد رونما ہوا جس میں آپ کو مدینہ کے اندر شہید کر دیا گیا۔ اس موقع پر مدینہ کے سب لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے درخواست کی کہ وہی اس نازک گھڑی میں امت کی قیادت کا فریضہ ادا کرسکتے ہیں۔جب وہ مسجد میں تشریف لائے تو جم غفیر والہانہ ان کی طرف لپکا اور سب نے بلا اختلاف و استثنا ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
المیہ یہ ہوا کہ شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ نے حضرت علیؓ کی خلافت کو متنازعہ بنانا چاہا جبکہ صحابہؓ کی اکثریت اور عمومی راے عامہ ان پر اعتماد کا اظہار کر چکی تھی۔ جناب معاویہؓ کا حضرت علیؓ کو خلیفہ تسلیم نہ کرنا ایک المیے سے کم نہیں لیکن بہر حال حقیقت یہی ہے کہ انھوں نے شام میں اپنی الگ حکومت تشکیل دی، جس کے بارے میں انھیں کئی صحابہ نے ان کے استفسار پر بتایا کہ وہ خلیفۂ راشد نہیں بلکہ بادشاہ ہیں۔ سیدنا معاویہؓ خود بھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ وہ خلیفہ کے بجائے بادشاہ ہیں۔ وہ کھرے انسان تھے، اس لیے اس معاملے میں انھوں نے غلط تعبیرات کا سہارا نہیں لیا۔ چوتھے خلیفۂ راشد سیدنا حضرت علیؓ نے تقریباً پونے پانچ سال تک حکومت کی۔ پھر انھیں ایک خارجی عبد الرحمان ابن ملجم نے دھوکے سے شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت حسنؓ کی بیعت کی گئی مگر انھوں نے چھے ماہ بعد امت کو افتراق سے بچانے کی خاطر حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کے ساتھ مصالحت کرکے ان کی بیعت کر لی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا :میری امت میں خلافت تیس (۰۳) سال تک رہے گی، پھر ملوکیت کا دور شروع ہوجائے گا۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حدیث کے راوی حضرت سفینہؓ سے سعید بن جمھانؓ نے تفصیل پوچھی تو انھوں نے چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کو الگ الگ بیان کیا اور فرمایا یہ تیس سال پورے بنتے ہیں۔ سعید نے کہا مگر بنو امیہ تو سمجھتے ہیں کہ وہ بھی خلفا ہیں۔ حضرت سفینہ نے فرمایا :یہ غلط کہتے ہیں۔ یہ تو بدترین حکمران اور ملوکیت کے مظہر ہیں (سنن الترمذی جلد ۸ ص ۷۶۱ روایت سعید بن جُمْھان و سفینۃ)۔ علامہ علقمیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے شیخ نے فرمایا کہ ان تیس سالوں میں چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کے ساتھ سیدنا حسن بن علی کے دور کو بھی شامل کیا جائے تو پورے تیس سال بن جاتے ہیں۔
آنحضورؐ کے ارشاد کی روشنی میں حضرت حسنؓ اور حضرت معاویہؓ کی اس مصالحت کے وقت خلافت کو تیس سال مکمل ہوگئے تھے۔ اس کے بعد آنحضورؐ کی اس پیشین گوئی کے مطابق خلافت کی جگہ ملوکیت کا دور آنا تھا، سو وہ آگیا۔ یزیدکے تقرر اور نامزدگی کا طریقہ موروثی بادشاہت کا اثبات اور مشاورت و اہلیت کا انکار تھا۔ اس وجہ سے سیدنا امام حسینؓ نے نظامِ اسلام کے ایک اہم ترین رکن کے خاتمے پر خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اپنایا ۔ آپ نے جان کی قربانی دے کر یہ اصول کہ اسلام میں نظامِ حکومت شورائی اور مبنی براہلیت ہے، زندہ کر دیا۔