نوجوانوں کی غیر مطمئن زندگی۔۔۔ وجوہات؟

 نوجوانوں کی بے سکون اور غیر مطمئن زندگی ۔۔۔ وجوہات؟
کچھ روزقبل نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقات ہوئی جنہیں بطور فوکس گروپ نوجوانوں کی زندگیوں سے متعلق ایک ریسرچ پراجیکٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ان سب کا تعلق مختلف شعبوں سے تھا۔ ان کا خاندانی پس منظر اور مالی حالات بھی مختلف تھے۔ انہوں نے بہت سے بنیادی سوالات کے جوابات ویسے ہی دیئے جیسا کہ ان سے امید کی جارہی تھی مثلاً ذاتی پسند نا پسند اورپسندیدہ مشغلوں سے متعلق ان کے خیالات مختلف تھے۔لیکن ایک مخصوص سوال کے جوابات حیران کن طور پر قدرے مشترک تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنی حالیہ زندگی سے مطمئن ہیں؟ تو تقریباً سب نے مبہم جوابات دیے مثلاً ، نہیں، پوری طرح مطمئن نہیں ہوں، ہاں، کسی حد تک مطمئن ہوں یا پھر نہیں، ابھی میں وہ حاصل نہیں کرسکا جو حاصل کرنا چاہتا ہوں۔مختلف پس منظر کے حامل ان نوجوانوں میں سے کسی نے بھی پوری طرح سے مطمئن زندگی گزارنے کا دعوی ٰ نہیں کیا۔ اس غیرمطمئن زندگی کی بہت سی مختلف وجوہات بیان کی گئیں،لیکن سب سے بڑی وجہ انکی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی کو ایک خاص معیارکے مطابق گزارنا چاہتے تھے۔یہی سوال جب میں نے اپنے اردگرد موجود نوجوانوں سے پوچھا تو ان میں سے اکثر کا ردعمل بھی فوکس گروپ سے ملنے والے جوابات جیسا ہی تھا اور اسی ردعمل نے مجھے یہ کالم تحریر کرنے کی تحریک دی ۔
بنی نوع انسان کے آغاز سے لے کر آج تک کے دور کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ بلاشبہ اس وقت لوگوں اکثریت آرام دہ زندگیاں گزار رہی ہے، ہمیں سفر کی بہترین سہولیات میسر ہیں، کھانے کو بہترین خوراک ملتی ہے، ایک کلک پر ہم گھر پر ہی اپنی پسندیدہ اشیا منگوا سکتے ہیں، ہمارا معیار زندگی اپنے بزرگوں سے بہتر ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ہم اپنے پیاروں سے ہر وقت رابطے میں رہ سکتے ہیں لیکن پھر بھی ہم میں سے بیشترلوگ اپنی زندگیوں سے پوری طرح مطمئن کیوں نہیں ہیں؟
میرے خیال میں اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے لیے زندگی کاایک خودساختہ معیار تشکیل کرلیاہوا ہے ۔ ہم بناوٹی زندگی گزارنے کی کوششیں کررہے ہیں اورزندگی کے اس مصنوعی پن کو قائم رکھنے کے لیے یا اس کے مزید بناؤ سنگھار کے لیے ہم شدید تگ ودو کرتے ہیں۔ یہی مشقت ہمیں سکون اور اطمینان سے دورلے جارہی ہے۔ ایک پرتکلف زندگی گزارنے کی آرزو میں ہماری توقعات اور خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مناسب وسائل موجود ہونے کے باوجود ہم پرسکون زندگی نہیں گزار پارہے۔یاد رکھیں خواہشات کی منزلیں پہاڑی سلسلے کی مانند ہوتی ہیں جب آپ ایک منزل پر پہنچیں گے تو آپکو سامنے ایک اور منزل دکھائی دے گی جو آپکی حالیہ منزل سے زیادہ دلکش نظر آئے گی اور آپ نئی منزل کی جستجو میں پھر سے بھاگنا شروع کردیں گے اور خواہشات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ آپکو تھکا دے گا۔
یہ ہماری لاحاصل خواہشات کا ہی نتیجہ ہے کہ جو ہم نہیں ہیں وہ ہم نظر آنا چاہتے ہیں اور جو ہم ہیں وہ ہم چھپانا چاہتے ہیں اور یہی تضاد ہماری شخصیت میں بے چینی اور بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑئیں اور ان مثالوں پر غور کریں، کیا ایک اٹھارہ سالہ لڑکا اس لیے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث ہوتا ہے کہ اس کے گھر میں غربت ہے؟زیادہ تر واقعات میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ زندگی کو ایک خاص معیار کے مطابق گزارنے کے لیے یہ سب کررہاہوتاہے۔کیا آپکا ہم جماعت کلاسز چھوڑ کر اس لیے باہر گھوم رہا ہوتا ہے کہ اسے اپنی فیس کی ادائیگی کے لیے نوکری ڈھونڈنی ہے ؟ نہیں، بلکہ وہ تو صرف آزاد خیال نظر آنا چاہتا ہے۔ کیا آپکے دوست نے سگریٹ نوشی کی شروعات اس لیے کی تھی کہ اسے اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لیے نکوٹین کی اشد ضرورت تھی؟ نہیں، بلکہ وہ الگ نظر آنا چاہتا تھا، اورآخر میں کیا آپ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہروقت اسلیے پراعتماد اور حوصلہ افزا سٹیٹس اپ لوڈ کررہے ہوتے ہیں کہ آپ واقعی ہر وقت یہی جذبات رکھتے ہیں ؟ شاید نہیں، بلکہ آپ لوگوں پر وہ تاثر چھوڑنا چاہتے ہیں جو آپ لوگوں میں قائم کرنا چاہتے ہیں اور وہ چھپانا چاہتے ہیں جو آپ اصل میں ہیں۔ شخصیت کے یہ تضادات بہت سے لوگوں کو خوداختسابی اور اصلاح ذات سے بھی غافل رکھتے ہیں جسکی وجہ سے وہ کبھی بھی حقیقی پراعتماد زندگی نہیں گزار پاتے اور ہمیشہ ڈرتے ہیں کہ کہیں انکا بناوٹی روپ سب کے سامنے نہ آجائے ۔خواہشات ، وسائل، عمل اوراصلیت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو طے کرنے کی یہ جستجو ہی لوگوں کی اکثریت کوایک طرح سے دوہری شخصیت پر مبنی زندگی گزارنے پرمجبورکرتی ہے۔
ہیجان انگیز زندگی کی ایک اور اہم وجہ ٹیکنا لوجی کا بے ہنگم استعمال ہے جو ظاہری طور پر تو ہمیں فائدہ پہنچا رہا ہے لیکن اسی نے ہمیں بے صبر، تنہا اور وہمی بنانے میں بہت کردار ادا کیا ہے ۔آپ ذرا غور کریں،ہر چیز چند ہی لمحوں میں آپکو مہیا ہوجاتی ہے ۔آپ کو کھانا چاہیے ، کپڑوں کی خریداری کرنا چاہتے ہیں یاسفر کے لیے ٹیکسی منگوانا ہے تو آپکو طویل انتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ آپکو سب کچھ گھر پر اور فوری دستیاب ہوجائے گا۔ ہر چیز فوری طورپر میسر ہونے کی سہولت نفسیاتی طور پر ہمیں جلدبازبنا رہی ہے۔ دوسری طرف موبائل فونز پر سوشل میڈیا کا استعمال ایسی چیز ہے جو ایک بھری محفل میں بھی ہمیں تنہا رکھتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ آپ اپنے سامنے بیٹھے دوستوں کو چھوڑ کر سوشل میڈیا کی خیالی دنیا میں کھوجاتے ہیں اور جن دوستوں کی محفل کو کبھی اردگرد بیٹھے لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ برائے مہربانی آہستہ گفتگو کریں ،اب اسی ٹیبل پر ہو کا عالم ہوتا ہے ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سوشل میڈیا کا استعمال ایک بری عادت ہے لیکن اگر آپکا سونے سے پہلے آخری اور جاگنے کے بعد پہلا کام اپنے فون سوشل میڈیا کا استعمال ہے تو یقیناً آپ ایک بہت خطرناک بلکہ مہلک نشے میں مبتلا ہیں ویسے ہی جیسے آپکا کوئی دوست سگریٹ نوشی کی لت کا شکا ر ہے۔
غیر مطمئن زندگی کی ایک اور اہم وجہ ذاتی حالات و و اقعات کا ہماری توقعات کے مطابق وقوع پذیر نہ ہونا ہے۔ مثلاً تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں جاتے ہی ہم توقع کررہے ہوتے ہیں کہ ہماری یہ زندگی بھی یونیورسٹی یا کالج کے شب و روز کی طرح خوشگوار ہوگی اور گھر سے باہر قدم رکھتے ہی ہمیں ایک اعلیٰ معیار کی نوکری مل جائے گی اور ہم باقی زندگی عیش وعشرت سے گزاریں گے ۔لیکن عملی زندگی اتنی آسان نہیں ہوتی اور اس میں کوئی مقام پانے کے لیے انتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے جو بے صبر اورجلدبازلوگوں کے لیے آسان نہیں ہوتااس لئے جب ہم فوری طور ایک پرتعیش زندگی کے حصول میں ناکام ہوتے ہیں تو ہماری خوداعتمادی پر کاری ضرب لگتی ہے اور ہم حالات سے سمجھوتہ کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ 
خود اعتمادی کی یہی کمی ہماری زندگی میں بے چینی کی ایک اور اہم وجہ ثابت ہوتی کیونکہ جو ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ خود اعتمادی کی کمی، فوری مثبت نتائج کی خواہش اورناکامی کے ڈر کی وجہ سے کر نہیں پاتے ۔ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی بجائے ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوستے رہتے ہیں۔جلدی جیتنے کی خواہش میں ہم ہمیشہ کے لیے ہار جاتے ہیں اور اسی کے نتیجے میں بعد میں سمجھوتوں پر مبنی زندگی گزار نے پر مجبورہوجاتے ہیں ۔
میں معیار ی زندگی کی خواہش اور آگے بڑھنے کی جستجو کو قطاً برائی قرار نہیں دے رہا بلکہ شاید اسی جستجو نے انسان کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچایا ہے ۔لیکن ان خواہشات کو اپنی کمزوری نہ بنائیں ۔اس حصار سے نکل کر خود کو حقائق کی دنیا میں لائیں اور ایک حقیقی ، آزاد اور پرسکون زندگی گزاریں۔ خود خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کریں