کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے؟

محترمہ کلثوم نواز جنت نشیں ہوتے ہوئے بھی اپنی جنت ارضی کے مکینوں کو چند روزہ آزادی کا تحفہ دے گئیں۔جن ارباب اختیار نے ان کے شوہر میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم بی بی کو ان کے مرض الموت میں مرحومہ کے قریب نہیں رہنے دیا تھا کہ معتوب وزیر اعظم کو ان کی اہلیہ کے آخری ایام میں حوصلہ دینے کے لئے آزاد چھوڑنے سے ان طاقتوں کی قوت کو خطرات لاحق ہو رہے تھے۔ان کی انا کو ٹھیس پہنچ رہی تھی۔ان کی ہیبت کم ہورہی تھی ۔ان کے رعب داب کا ڈنکا بجنے کی بجائے ان کا ڈنک نکل رہا تھا۔انہوں نے جس شخص کو تابع فرمان نہ ہونے کی بنا پر وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا تھا اسے ایک آزاد ملک میں آزاد میڈیا کے ساتھ کھلے عام بات چیت کرنے کا رسک کیسے لے سکتے تھے ؟ سو ضروری تھا کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی بیٹی مل کر بیوی اور ماں کی بیماری کا ڈھونگ کررہے ہیں سو یہ گھٹیا سوچ اس طرح عام کی گئی کہ اعتزاز جیسا نام نہاد دانشور بھی دام فریب میں آکر کینسر کی مریضہ کی بیماری کا مذاق اڑاتا رہا۔ایسے ہی لوگوں کے لئے مرحومہ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والا تبصرہ آیا کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں اپنی بیماری کا یقین دلانے کے لئے بھی مرنا پڑتا ہے۔افوہ خدایا کتنی بے حس ہوگئے ہیں ہم۔
کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ آپ اپنے کسی عزیز رشتے دار،دوست احباب یا محلے اور شہر میں کسی سے ناراض ہیں تو بے شک اس کی خوشی میں شریک نہ ہوں مگر غم کے موقع پر ،دکھ کی گھڑی میں اس کے ساتھ ضرور سانجھ نبھائیں۔اسے جا کر دلاسہ دیں۔پرسہ دیں۔اور ہمارے بزرگ یہی کیا کرتے تھے۔پرانے وقتوں کی انہی روایات کے امین ہیں یہ وضع دار لوگ جو محترمہ کلثوم نواز شریف کی موت کے سانحے پر شریف فیملی سے اظہار تعزیت کے لئے پہنچے۔جن میں چوہدری شجاعت حسین بھی تھے اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی۔سابق صدر نے نواز شریف اور مریم بی بی کو پرسہ بھی دیا اور حوصلہ بھی ۔ان سے دکھ سکھ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ کے آخری ایام میں وہ بھی اسیری میں تھے۔والدہ ان سے ملنے کے لئے تڑپ رہی تھیں مگر انہوں نے پیرول لینا گوارا نہ کیا تاہم کسی طرح انہیں والدہ کی شدید علالت میں ان کے پاس جانا پڑا تو انہیں آج تک وہ منظر نہیں بھولتا جب ان کی والدہ نے نیم جاں حالت میں ان کی طرف دیکھا اور ان کی ایک آنکھ سے نکلنے والا آنسو کا قطرہ آج بھی ان کے دل پر برق گرا جاتا ہے۔
نواز شریف نے بتایا کہ وہ بھی اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں ہیں۔ان کی بیرک کے سبھی کمرے خالی ہیں۔بیٹی مریم سے ہفتے میں ایک بار چند گھنٹوں کے لئے ملاقات ہوتی ہے۔انہیں اس بات کا ہمیشہ قلق رہے گا کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کے آخری دنوں میں ان کے ساتھ نہ رہ پائے۔نواز شریف کی یہ گفتگو سننے والے بھی ان کے دل کے درد میں ڈوب ڈوب گئے۔ایک وفا شعار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جیل جانے کے لئے آنے والے کے پہاڑ جیسا عزم رکھنے والے کے دل کی حالت بھلا لفظوں میں بیان ہوسکتی ہے؟
سچ کہتے ہیں کہ دکھ کی گھڑی میں کسی کو حوصلہ دینے سے بڑھ کر کسی کو دینے کے لئے کوئی اور تحفہ نہیں ہوتا۔یہ تحفہ لے کر نواز شریف دسمبر 2007ء میں راولپنڈی کے اس ہسپتال میں روتے ہوئے پہنچے تھے جہاں محترمہ بے نظیر شہید کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہورہا تھا۔یہ انتخابی مہم کا وقت تھا۔جب بی بی اور میاں جلسوں میں ایک دوسرے پر سیاسی حملے کررہے تھے مگر بی کی موت کی خبر سن کر سب سے پہلے اشک بار آنکھوں سے ہسپتال پہنچنے والے نواز شریف نے دنیا کو بتایا کہ سیاست اپنی جگہ انسانیت اپنی جگہ۔اسی نواز شریف نے 2013ء کے الیکشن میں عمران خان کے ساتھ انتخابی مرحلے میں حادثہ پیش آنے پر اپنی انتخابی مہم ایک دن کے لئے روک دی تھی اور الیکشن جیتنے کے بعد عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال جا پہنچے تھے۔
2007ء میں پیپلز پارٹی کے جیالے بھی اپنی لیڈر کے شہید ہونے پر سرتاپا احتجاج تھے لیکن ان کا غم و غصہ نواز شریف کو ہسپتال پہنچنے سے نہ روک سکا ۔2013ء میں پی ٹی آئی کارکنوں کی نفرتیں نواز شریف سے کم نہیں تھیں مگر یہ چیز نواز شریف کو عمران کی عیادت سے نہ روک سکی۔ حالیہ دنوں میں آصف زرداری کے میاں نواز شریف کے خلاف بیانات کی شدت سے کون واقف نہیں؟ مگر دکھ کے گھڑی میں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ نواز شریف کے ساتھ تعزیت کرنے پہنچے۔چوہدری شجاعت حسین بھی آئے ۔نواز شریف نے سب سے تعزیت لی۔ان لیڈروں کو جاتی عمرہ میں مہمانوں جیسی تعظیم
دی گئی کہ یہی شریف خاندان کی روایت ہے۔ اگر عمران خان بھی حوصلہ کرلیتے ،تھوڑی سی انسانیت دکھاتے اور وہ مقتدر لوگ بھی اعلیٰ ظرفی دکھاتے جو بستر مرگ پر پڑی خاتون کو آخری دموں پہ وہ چھوٹی سی خوشی بھی نہ دے سکے کہ جس سے وہ اپنے شوہر کے قرب میں جان جان آفریں کے سپرد کرتے ہوئے موت میں بھی آسودہ ہوجاتی، کہ وہ ایک ایسے شخص سے پاس جا کر تعزیت کرلیتے جسے انہوں نے بے گناہ ہوتے ہوئے محض مفروضوں پر جیل میں ڈال رکھا ہے،تو کیا قیامت آجاتی؟ مگر کہتے ہیں ناں انسان کا سب سے بڑا خوف اس کے اندر کا چور پیدا کرتا ہے۔ اور جن لوگوں نے چار دن کی پیرول پر رہائی دے کر احسان کیا وہ اپنے من کے چور کے ڈر سے نواز شریف کو مل کر تعزیت کرسکے نہ اسے چہلم تک آزاد دیکھنے کی ہمت۔کمزور اور بزدل کون ہوا؟ فیصلہ آپ کرسکتے ہیں!